ٹیگ کے محفوظات: مہرباں

مِری دعا ہے کہ وہ خوش رہے جہاں بھی رہے

کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے
مِری دعا ہے کہ وہ خوش رہے جہاں بھی رہے
دلِ خراب یہ خواہش تِری عجب ہے کہ وہ
سِتم بھی کم نہ کرے اور مہرباں بھی رہے
ابھی زمین پہ جنت نہیں بنی یارو
جہاں کے قصے سُناتے ہو ہم وہاں بھی رہے
رہا ہمیشہ ہی سامان مختصر اپنا
مسافروں کی طرح ہم رہے جہاں بھی رہے
جو ساتھ چلنے کے بھی مستحق نہ تھے باصرِؔ
کچھ ایسے لوگ یہاں میرِ کارواں بھی رہے
باصر کاظمی

یہ انجمن ہے راز کی باتیں یہاں نہیں

اے جذبِ دل سمجھ مرے منہ میں زباں نہیں
یہ انجمن ہے راز کی باتیں یہاں نہیں
بلبل کے بعد پوچھتی پھرتی ہے یہ صبا
اتنے بڑے چمن میں کوئی خوش بیاں نہیں
ہر لمحہ دل سے آتی ہے امید کی صدا
دنیا میں کوئی بات بعید از گماں نہیں
ساری صدائیں میری صدا کی ہیں بازگشت
اہلِ چمن میں کون مرا ہم زباں نہیں
شکوے کا کیا جواز ہے باصرِؔ تمہارے پاس
وہ مہرباں ہی کب تھے جو اب مہرباں نہیں
باصر کاظمی

پھر غلط کیا تھا جو تجھ کو ہم زباں سمجھا تھا میں

اپنے افسانے کو سب کی داستاں سمجھا تھا میں
پھر غلط کیا تھا جو تجھ کو ہم زباں سمجھا تھا میں
تُو نے آنکھیں پھیر لیں تو آج آنکھیں کھُل گئیں
تیری باتوں سے تو تجھ کو مہرباں سمجھا تھا میں
میری کوتاہی کہ میں سمجھا نہ اپنی قدر آپ
میری خوش فہمی کہ تجھ کو قدرداں سمجھا تھا میں
ہو کے شرمندہ وہ مجھ سے آج یہ کہنے لگا
انکساری کو تری عجزِ بیاں سمجھا تھا میں
آج اُسی کے نام سے روشن ہیں منزل کے چراغ
جس مسافر کے سفر کو رائگاں سمجھا تھا میں
باصر کاظمی

پاگل نہ بن، رُتوں کو کبھی مہرباں بھی دیکھ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
کانٹوں کے درمیاں گلِ تر کا نشاں بھی دیکھ
پاگل نہ بن، رُتوں کو کبھی مہرباں بھی دیکھ
ہاتھوں میں میرے، صفحۂ سادہ پہ کر نظر
اظہارِ غم کو ترسی ہوئی انگلیاں بھی دیکھ
تو اور سراپا بس میں ہمارے ہو! ہائے ہائے!!
ہم پر یہ ایک تہمتِ اہلِ جہاں بھی دیکھ
تھا زیست میں بہار کا طوفاں بھی پل دو پل
اِس بحر میں تموّجِ گردِ خزاں بھی دیکھ
سہمی ہوئی حیات کو یُوں مختصر نہ جان
لمحے میں جھانک اور اسے بیکراں بھی دیکھ
ردّی کے بھاؤ بیچا گیا ہوں کسی کے ہاتھ
لے کُو بکُو بکھرتی مری داستاں بھی دیکھ
ماجدؔ ہے جس کا شور سماعت میں اَب تلک
اُس سیلِ تند و تیز کے چھوڑے نشاں بھی دیکھ
ماجد صدیقی

تیری آسودہ حالی کی امید پر، کر گئے ہم تو اپنا زیاں یا اخی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 56
رزق کی جستجو میں کسے تھی خبر، تُو بھی ہو جائے گا رائگاں یا اخی
تیری آسودہ حالی کی امید پر، کر گئے ہم تو اپنا زیاں یا اخی
جب نہ تھا یہ بیابانِ دیوار و در، جب نہ تھی یہ سیاہی بھری رہگزر
کیسے کرتے تھے ہم گفتگو رات بھر، کیسے سنتا تھا یہ آسماں یا اخی
جب یہ خواہش کا انبوہِ وحشت نہ تھا، شہر اتنا تہی دستِ فرصت نہ تھا
کتنے آباد رہتے تھے اہلِ ہنر، ہر نظر تھی یہاں مہرباں یا اخی
یہ گروہِ اسیرانِ کذب و ریا، بندگانِ درم بندگانِ انا
ہم فقط اہلِ دل یہ فقط اہلِ زر، عمر کیسے کٹے گی یہاں یا اخی
خود کلامی کا یہ سلسلہ ختم کر، گوش و آواز کا فاصلہ ختم کر
اک خموشی ہے پھیلی ہوئی سر بہ سر، کچھ سخن چاہیے درمیاں یا اخی
جسم کی خواہشوں سے نکل کر چلیں، زاویہ جستجو کا بدل کا چلیں
ڈھونڈنے آگہی کی کوئی رہگزر، روح کے واسطے سائباں یا اخی
ہاں کہاتھا یہ ہم نے بچھڑتے ہوئے، لوٹ آئیں گے ہم عمر ڈھلتے ہوئے
ہم نے سوچا بھی تھا واپسی کا مگر، پھر یہ سوچا کہ تُو اب کہاں یا اخی
خود شناسی کے لمحے بہم کب ہوئے، ہم جو تھے درحقیقت وہ ہم کب ہوئے
تیرا احسان ہو تُو بتا دے اگر، کچھ ہمیں بھی ہمارا نشاں یا اخی
قصۂ رنج و حسرت نہیں مختصر، تجھ کو کیا کیا بتائے گی یہ چشمِ تر
آتش غم میں جلتے ہیں قلب و جگر، آنکھ تک آ رہا ہے دھواں یا اخی
عمر کے باب میں اب رعایت کہاں، سمت تبدیل کرنے کی مہلت کہاں
دیکھ بادِ فنا کھٹکھٹاتی ہے در، ختم ہونے کو ہے داستاں یا اخی
ہو چکا سب جو ہونا تھا سود و زیاں، اب جو سوچیں تو کیا رہ گیا ہے یہاں
اور کچھ فاصلے کا یہ رختِ سفر، اور کچھ روز کی نقدِ جاں یا اخی
تُو ہمیں دیکھ آ کر سرِ انجمن، یوں سمجھ لے کہ ہیں جانِ بزمِ سخن
ایک تو روداد دلچسپ ہے اس قدر، اور اس پر ہمارا بیاں یا اخی
عرفان ستار

خدا کرے کے سمجھ لے مری زباں صیاد

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 41
کہا تو ہے کہ قفس میں نہیں اماں صیاد
خدا کرے کے سمجھ لے مری زباں صیاد
قفس سے ہٹ کے ذرا سن مری فغاں صیاد
لرز رہی ہے ترے سامنے زباں صیاد
بہارِ گل میں مجھے تو کہیں چین نہیں
مرے خلاف وہاں باغباں یہاں صیاد
جو پر کتر دیے دنیا میں ہو گی رسوائی
پر اڑ کے جائیں گے جانے کہاں کہاں صیاد
قفس میں کانپ رہا ہوں کہیں فریب نہ ہو
بہارِ گل میں ہوا ہے جو مہرباں صیاد
میں کوئی دم کا ہوں مہمان تیلیاں نہ بدل
کہ جائے گی تری محنت یہ رائیگاں صیاد
تری نظر پہ ترانے تری نظر پہ فغاں
ملے گا تجھ کو نہ مجھ سا مزاج داں صیاد
جفائے چرخ پہ چھوڑا تھا آشیاں میں نے
ترے قفس میں بھی سر پہ ہے آسماں صیاد
قمر کی روشنی میں کیسے پھول کھلتے ہیں
مگر وہ چاندنی راتیں یہاں کہاں صیاد
قمر جلالوی

یہاں ہو گی یہاں ہو گا، وہاں ہو گی وہاں ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 18
قیامت اب جہاں ہو گی ستم تیرا باں ہو گا
یہاں ہو گی یہاں ہو گا، وہاں ہو گی وہاں ہو گا
نہ گھبرا اے مریضِ عشق دونوں آنے والے ہیں
قضا بھی مہماں ہو گی وہ بت بھی مہماں ہو گا
بہار آخر ہے پی لی بیٹھ کر اے شیخ رندوں میں
یہ محفل پھر کہاں ہو گی یہ جلسہ پھر کہاں ہو گا
چمن میں توڑ ڈالی باغباں نے مجھ سے یہ کہہ کر
نہ شاخِ آشیاں ہو گی نہ تیرا آشیاں ہو گا
کدھر ڈھونڈے گا اپنے قافلے سے چھوٹنے والے
نہ گردِ کارواں ہو گی نہ شورِ کارواں ہو گا
مجھے معلوم ہے اپنی کہانی، ماجرا اپنا
نہ قاصد سے بیاں ہو گی نہ قاصد سے بیاں ہو گا
وہ چہرے سے سمجھ لیں گے مری حالت مرا ارماں
نہ محتاجِ بیاں ہو گی نہ محتاجِ بیں ہو گا
تم اپنے در پہ دیتے ہو اجازت دفنِ دشمن کی
مری تربت کہاں ہو گی مرا مرقد کہاں ہو گا
ابھی کیا ہے قمر ان ی ذرا نظریں تو پھرنے دو
زمیں نا مہرباں ہو گی فلک نا مہرباں ہو گا
قمر جلالوی

ہے خاکِ تن ہوا و ہوا خوں فشاں ہنوز

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 52
ہم بے نشان اور وفا کا نشاں ہنوز
ہے خاکِ تن ہوا و ہوا خوں فشاں ہنوز
بیت الحزن میں نغمۂ شادی بلند ہے
نکلا ہی بابِ مصر سے ہے کارواں ہنوز
صبحِ شبِ وصال نیِ صبح ہے، مگر
پرویں ہنوز جلوہ گر و کہکشاں ہنوز
ہرگز ابھی شکایتِ دشمن نہ چاہئے
ہم پر بھی یار خوب نہیں مہرباں ہنوز
کیوں کر کہیں کہ چھٹ گئے ہم بندِ جسم سے
اس زلفِ پیچ پیچ میں الجھی ہے جاں ہنوز
جو بات میکدے میں ہے اک اک زبان پر
افسوس مدرسے میں ہے بالکل نہاں ہنوز
ضبط و شکیب یاں ہے نقابِ جمال میں
بے وجہ واں نہیں ہے سرِ امتحاں ہنوز
مدت ہوئی بہارِ جہاں دیکھتے ہوئے
دیکھا نہیں کسی نے گلِ بے خزاں ہنوز
اکثر ہوا ہے مجھ کو سفر در وطن مگر
لایا نہ دوستوں کے لئے ارمغاں ہنوز
اک شب ہوا تھا جلوہ نما چرخ پر وہ ماہ
مدہوش ہیں ملائکۂ آسماں ہنوز
نا آشنا رقیب سے ہے آشنا ابھی
نا آشنا ہے لب سے ہمارے فغاں ہنوز
آشفتہ زلف، چاک قبا، نیم باز چشم
ہیں صحبتِ شبانہ کے ظاہر نشاں ہنوز
اے موجۂ نسیم ذرا اور ٹھہر جا
ہے خاک پر ہماری وہ دامن فشاں ہنوز
مے خانے میں تمام جوانی بسر ہوئی
لیکن ملا نہ منصبِ پیرِ مغاں ہنوز
اے تابِ برق تھوڑی سی تکلیف اور بھی
کچھ رہ گئے ہیں خار و خسِ آشیاں ہنوز
آتا ہوں میں وہیں سے ذرا صبر شیفتہ
سونے کے قصد میں بھی نہیں پاسباں ہنوز
مصطفٰی خان شیفتہ

مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 47
کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے
سن کر مرا فسانہ انہیں لطف آگیا
سنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے
پیغامبر کی بات پر آپس میں رنج کیا
میری زباں کی ہے نہ تمہاری زباں کی ہے
کچھ تازگی ہو لذتِ آزار کے لئے
ہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے
جانبر بھی ہو گئے ہیں بہت مجھ سے نیم جان
کیا غم ہے اے طبیب جو پوری وہاں کی ہے
حسرت برس رہی ہے ہمارے مزار پر
کہتے ہیں سب یہ قبر کسی نوجواں کی ہے
وقتِ خرامِ ناز دکھا دو جدا جدا
یہ چال حشر کی یہ روش آسماں کی ہے
فرصت کہاں کہ ہم سے کسی وقت تو ملے
دن غیر کا ہے رات ترے پاسباں کی ہے
قاصد کی گفتگو سے تسلی ہو کس طرح
چھپتی نہیں وہ بات جو تیری زباں کی ہے
جورِ رقیب و ظلمِ فلک کا نہیں خیال
تشویش ایک خاطرِ نا مہرباں کی ہے
سن کر مرا فسانہء غم اس نے یہ کہا
ہو جائے جھوٹ سچ یہی خوبی بیاں کی ہے
دامن سنبھال باندھ کمر آستیں چڑھا
خنجر نکال دل میں اگر امتحاں کی ہے
ہر ہر نفس میں دل سے نکلنے لگا غبار
کیا جانے گردِ راہ یہ کس کارواں کی ہے
کیونکر نہ آتے خلد سے آدم زمین پر
موزوں وہیں وہ خوب ہے جو سنتے جہاں کی ہے
تقدیر سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ عشق میں
تدبیر کوئی بھی ستمِ ناگہاں کی ہے
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
داغ دہلوی

اِک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 178
ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں
اِک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں
کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کا
پرسش ہے اور پائے سخن درمیاں نہیں
ہم کو ستم عزیز، ستم گر کو ہم عزیز
نا مہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں
بوسہ نہیں، نہ دیجیے دشنام ہی سہی
آخر زباں تو رکھتے ہو تم، گر دہاں نہیں
ہر چند جاں گدازئِ قہروعتاب ہے
ہر چند پشت گرمئِ تاب و تواں نہیں
جاں مطربِ ترانہ ھَل مِن مَزِید ہے
لب پر دہ سنجِ زمزمۂِ الاَماں نہیں
خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیم
دل میں چُھری چبھو مژہ گر خونچکاں نہیں
ہے ننگِ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہو
ہے عارِدل نفس اگر آذر فشاں نہیں
نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب
سو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں
کہتے ہو “ کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں“
گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں
پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی
رُوح القُدُس اگرچہ مرا ہم زباں نہیں
جاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھی
غالب کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 146
کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو
نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں@
سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو
کِیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کو
نہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا راز داں کیوں ہو
وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو
قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
یہ کہہ سکتے ہو "ہم دل میں نہیں ہیں” پر یہ بتلاؤ
کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے
نہ کھینچو گر تم اپنے کو، کشاکش درمیاں کیوں ہو
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی
بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو غالب
ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
@ کچھ نسخوں میں ’وضع کیوں بدلیں‘ ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

بے تکلف، داغِ مہ مُہرِ دہاں ہوجائے گا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 89
گر نہ ‘اندوہِ شبِ فرقت ‘بیاں ہو جائے گا
بے تکلف، داغِ مہ مُہرِ دہاں ہوجائے گا
زہرہ گر ایسا ہی شامِ ہجر میں ہوتا ہے آب
پر توِ مہتاب سیلِ خانماں ہوجائے گا
لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ، مگر
ایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہوجائے گا
دل کو ہم صرفِ وفا سمجھے تھے، کیا معلوم تھا
یعنی یہ پہلے ہی نذرِ امتحاں ہوجائے گا
سب کے دل میں ہے جگہ تیری، جو تو راضی ہوا
مجھ پہ گویا، اک زمانہ مہرباں ہوجائے گا
گر نگاہِ گرم فرماتی رہی تعلیمِ ضبط
شعلہ خس میں، جیسے خوں رگ میں، نہاں ہوجائے گا
باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پر
ہر گلِ تر ایک "چشمِ خوں فشاں” ہوجائے گا
وائے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہوجائے گا
فائدہ کیا؟ سوچ، آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
دوستی ناداں کی ہے، جی کا زیاں ہوجائے گا
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ یہ پیرانہ سر جاہل جواں ہے

دیوان ششم غزل 1911
فلک کرنے کے قابل آسماں ہے
کہ یہ پیرانہ سر جاہل جواں ہے
گئے ان قافلوں سے بھی اٹھی گرد
ہماری خاک کیا جانیں کہاں ہے
بہت نامہرباں رہتا ہے یعنی
ہمارے حال پر کچھ مہرباں ہے
ہمیں جس جاے کل غش آگیا تھا
وہیں شاید کہ اس کا آستاں ہے
مژہ ہر اک ہے اس کی تیز ناوک
خمیدہ بھوں جو ہے زوریں کماں ہے
اسے جب تک ہے تیر اندازی کا شوق
زبونی پر مری خاطر نشاں ہے
چلی جاتی ہے دھڑکوں ہی میں جاں بھی
یہیں سے کہتے ہیں جاں کو رواں ہے
اسی کا دم بھرا کرتے رہیں گے
بدن میں اپنے جب تک نیم جاں ہے
پڑا ہے پھول گھر میں کاہے کو میر
جھمک ہے گل کی برق آشیاں ہے
میر تقی میر

تب آناً فآناً سماں اور ہے

دیوان ششم غزل 1882
زمیں اور ہے آسماں اور ہے
تب آناً فآناً سماں اور ہے
نہ وے لوگ ہیں اب نہ اجماع وہ
جہاں وہ نہیں یہ جہاں اور ہے
نہ ان لوگوں کی بات سمجھی گئی
یہ خلق اور ان کی زباں اور ہے
تجھے گو کہ صد رنگ ہو مجھ سے کیں
مری اور اک مہرباں اور ہے
ہوا رنگ بدلے ہے ہر آن میر
زمین و زماں ہر زماں اور ہے
میر تقی میر

حیرت سے آفتاب جہاں کا تہاں رہا

دیوان ششم غزل 1807
اب یار دوپہر کو کھڑا ٹک جو یاں رہا
حیرت سے آفتاب جہاں کا تہاں رہا
جو قافلے گئے تھے انھوں کی اٹھی بھی گرد
کیا جانیے غبار ہمارا کہاں رہا
سوکھی پڑی ہیں آنکھیں مری دیر سے جو اب
سیلاب ان ہی رخنوں سے مدت رواں رہا
اعضا گداز عشق سے ایک ایک بہ گئے
اب کیا رہا ہے مجھ میں جو میں نیم جاں رہا
منعم کا گھر تمادی ایام میں بنا
سو آپ ایک رات ہی واں میہماں رہا
اس کے فریب لطف پہ مت جا کہ ہمنشیں
وہ دیر میرے حال پہ بھی مہرباں رہا
اب در پہ اس کے گھر کے گرا ہوں وگر نہ میں
مدت خرابہ گرد ہی بے خانماں رہا
ہے جان تو جہان ہے مشہور ہے مثل
کیا ہے گئے پہ جان کے گو پھر جہاں رہا
ترک شراب خانہ ہے پیری میں ورنہ میر
ترسا بچوں ہی میں رہا جب تک جواں رہا
میر تقی میر

مرنا تمام ہو نہ سکا نیم جاں ہوا

دیوان ششم غزل 1793
میں رنج عشق کھینچے بہت ناتواں ہوا
مرنا تمام ہو نہ سکا نیم جاں ہوا
بستر سے اپنے اٹھ نہ سکا شب ہزار حیف
بیمار عشق چار ہی دن میں گراں ہوا
شاید کہ دل تڑپنے سے زخم دروں پھٹا
خونناب میری آنکھوں سے منھ پر رواں ہوا
غیر از خدا کی ذات مرے گھر میں کچھ نہیں
یعنی کہ اب مکان مرا لامکاں ہوا
مستوں میں اس کی کیسی تعین سے ہے نشست
شیشہ ہوا نہ کیف کا پیر مغاں ہوا
سائے میں تاک کے مجھے رکھا اسیر کر
صیاد کے کرم سے قفس آشیاں ہوا
ہم نے نہ دیکھا اس کو سو نقصان جاں کیا
ان نے جو اک نگاہ کی اس کا زیاں ہوا
ٹک رکھ لے ہاتھ تن میں نہیں اور جاے زخم
بس میرے دل کا یار جی اب امتحاں ہوا
وے تو کھڑے کھڑے مرے گھر آ کے پھر گئے
میں بے دیار و بیدل و بے خانماں ہوا
گردش نے آسماں کی عجائب کیا سلوک
پیر کبیر جب میں ہوا وہ جواں ہوا
مرغ چمن کی نالہ کشی کچھ خنک سی تھی
میں آگ دی چمن کو جو گرم فغاں ہوا
دو پھول لاکے پھینک دیے میری گور پر
یوں خاک میں ملا کے مجھے مہرباں ہوا
سر کھینچا دود دل نے جہاں تیرہ ہو گیا
دم بھر میں صبح زیر فلک کیا سماں ہوا
کہتے ہیں میر سے کہیں اوباش لڑ گئے
ہنگامہ ان سے ایسا الٰہی کہاں ہوا
میر تقی میر

بیمار مرا گراں بہت ہے

دیوان پنجم غزل 1768
دل پہلو میں ناتواں بہت ہے
بیمار مرا گراں بہت ہے
ہر آن شکیب میں کمی ہے
بیتابی زماں زماں بہت ہے
مقصود کو دیکھیں پہنچے کب تک
گردش میں تو آسماں بہت ہے
جی کو نہیں لاگ لامکاں سے
ہم کو کوئی دل مکاں بہت ہے
گو خاک سے گور ہووے یکساں
گم گشتے کا یہ نشاں بہت ہے
جاں بخشی غیر ہی کیا کر
مجھ کو یہی نیم جاں بہت ہے
اکثر پوچھے ہے جیتے ہیں میر
اب تو کچھ مہرباں بہت ہے
میر تقی میر

کی عشق نے خرابی سے اس خانداں کی طرح

دیوان چہارم غزل 1374
کیا ہم بیاں کسو سے کریں اپنے ہاں کی طرح
کی عشق نے خرابی سے اس خانداں کی طرح
جوں سبزہ چل چمن میں لب جو پہ سیر کر
عمر عزیز جاتی ہے آب رواں کی طرح
جو سقف بے عمد ہو نہیں اس کا اعتماد
کس خانماں خراب نے کی آسماں کی طرح
اثبات بے ثباتی ہوا ہوتا آگے تو
کیوں اس چمن میں ڈالتے ہم آشیاں کی طرح
اب کہتے ہیں بلا ہے ستم کش یہ پیرگی
قد جو ہوا خمیدہ ہمارا کماں کی طرح
نقصان جاں صریح تھا سودے میں عشق کے
ہم جان کر نکالی ہے جی کے زیاں کی طرح
دل کو جو خوب دیکھا تو ہو کا مکان ہے
ہے اس مکاں میں ساری وہی لامکاں کی طرح
کل دیکھ آفتاب کو رویا ہوں دیر تک
غصے میں ایسی ہی تھی مرے مہرباں کی طرح
جاوے گا اپنی بھول طرح داری میر وہ
کچھ اور ہو گئی جو کسو ناتواں کی طرح
میر تقی میر

پر کیا ہی دل کو لگتی ہے اس بد زباں کی بات

دیوان چہارم غزل 1365
کرتا ہے گرچہ یاروں سے وہ ٹیڑھی بانکی بات
پر کیا ہی دل کو لگتی ہے اس بد زباں کی بات
تھی بحر کی سی لہر کہ آئی چلی گئی
پہنچی ہے اس سرے تئیں طبع رواں کی بات
اب تو وفا و مہر کا مذکور ہی نہیں
تم کس سمیں کی کہتے ہو ہے یہ کہاں کی بات
مرغ اسیر کہتے تھے کس حسرتوں سے ہائے
ہم بھی کبھی سنیں گے گلوں کے دہاں کی بات
شب باش ان نے کہتے ہیں آنے کہا ہے میر
دن اچھے ہوں تو یہ بھی ہو اس مہرباں کی بات
میر تقی میر

کچھ ہورہے ہیں غم میں ترے نیم جاں سے ہم

دیوان سوم غزل 1171
آ ٹک شتاب جاتے ہیں ورنہ جہاں سے ہم
کچھ ہورہے ہیں غم میں ترے نیم جاں سے ہم
ہر بات کے جواب میں گالی کہاں تلک
اب جاں بہ لب ہوئے ہیں تمھاری زباں سے ہم
وعدہ کرو تو سوچ لو مدت کو دل میں بھی
یہ حال ہے تو دیر رہیں گے کہاں سے ہم
الجھائو دل کا جس سے ہے جھنجھلاکے اس بغیر
جھگڑا کیا کریں ہیں زمین آسماں سے ہم
لاویں ہماری خاک پر اس کینہ ور کو بھی
یہ کہہ مریں گے اپنے ہر اک مہرباں سے ہم
دربان سنگدل نے خبر واں تلک نہ کی
سر مار مار صبح کی اس آستاں سے ہم
جب اس کی تیغ رکھنے لگا اپنے پاس میر
امید قطع کی تھی تبھی اس جواں سے ہم
میر تقی میر

سنتا نہیں ہے کوئی کلی کے دہاں کی بات

دیوان سوم غزل 1113
جب سے چلی چمن میں ترے رنگ پاں کی بات
سنتا نہیں ہے کوئی کلی کے دہاں کی بات
یاں شہر حسن میں تو کہیں ذکر بھی نہیں
کیا جانیے کہ مہر و وفا ہے کہاں کی بات
اختر شناس کو بھی خلل ہے دماغ کا
پوچھو اگر زمیں سے کہیں آسماں کی بات
ایسا خدا ہی جانے کہ ہو عرش یا نہ ہو
دل بولنے کی جا نہیں کیا اس مکاں کی بات
کیا لطف جو سنو اسے کہتے پھرا کرو
یوں چاہیے کہ بھول وہیں ہو جہاں کی بات
لے شام سے جہاں میں ہے تاصبح ایک شور
اپنی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آتی یاں کی بات
اوباش کس کو پوچھتے ہیں التفات سے
سیدھی کبھو سنی نہیں اس بدزباں کی بات
ہر حرف میں ہے ایک کجی ہر سخن میں پیچ
پنہاں رہے ہے کب کسو کی ٹیڑھی بانکی بات
کینے سے کچھ کہا ہی کیا زیرلب مجھے
کیا پوچھتے ہو میر مرے مہرباں کی بات
میر تقی میر

یا محبت کہہ کے یہ بارگراں میں لے گیا

دیوان سوم غزل 1056
دین و دل کے غم کو آساں ناتواں میں لے گیا
یا محبت کہہ کے یہ بارگراں میں لے گیا
خاک و خوں میں لوٹ کر رہ جانے ہی کا لطف ہے
جان کو کیا جو سلامت نیم جاں میں لے گیا
سرگذشت عشق کی تہ کو نہ پہنچا یاں کوئی
گرچہ پیش دوستاں یہ داستاں میں لے گیا
عرصۂ دشت قیامت باغ ہوجائے گا سب
اس طرح سے جو یہ چشم خوں فشاں میں لے گیا
ذکر دل جانے کا وہ پرکینہ سن کہنے لگا
یہ سناتے ہو کسے کیا مہرباں میں لے گیا
یک جہاں مہر و وفا کی جنس تھی میرے کنے
لیکن اس کو پھیر ہی لایا جہاں میں لے گیا
ریختہ کاہے کو تھا اس رتبۂ اعلیٰ میں میر
جو زمیں نکلی اسے تا آسماں میں لے گیا
میر تقی میر

سو یوں رہے کہ جیسے کوئی میہماں رہے

دیوان دوم غزل 1004
یاں ہم براے بیت جو بے خانماں رہے
سو یوں رہے کہ جیسے کوئی میہماں رہے
تھا ملک جن کے زیرنگیں صاف مٹ گئے
تم اس خیال میں ہو کہ نام و نشاں رہے
آنسو چلے ہی آنے لگے منھ پہ متصل
کیا کیجے اب کہ راز محبت نہاں رہے
ہم جب نظر پڑیں تو وہ ابرو کو خم کرے
تیغ اپنے اس کے کب تئیں یوں درمیاں رہے
کوئی بھی اپنے سر کو کٹاتا ہے یوں ولے
جوں شمع کیا کروں جو نہ میری زباں رہے
یہ دونوں چشمے خون سے بھر دوں تو خوب ہے
سیلاب میری آنکھوں سے کب تک رواں رہے
دیکھیں تو مصر حسن میں کیا خواریاں کھنچیں
اب تک تو ہم عزیز رہے ہیں جہاں رہے
مقصود گم کیا ہے تب ایسا ہے اضطراب
چکر میں ورنہ کاہے کو یوں آسماں رہے
کیا اپنی ان کی تم سے بیاں کیجیے معاش
کیں مدتوں رکھا جو تنک مہرباں رہے
گہ شام اس کے مو سے ہے گہ رو سے اس کے صبح
تم چاہو ہو کہ ایک سا ہی یاں سماں رہے
کیا نذر تیغ عشق سرِتیر میں کیا
اس معرکے میں کھیت بہت خستہ جاں رہے
اس تنگناے دہر میں تنگی نفس نے کی
جوں صبح ایک دم ہی رہے ہم جو یاں رہے
اک قافلے سے گرد ہماری نہ ٹک اٹھی
حیرت ہے میر اپنے تئیں ہم کہاں رہے
میر تقی میر

ہما کے آشیانے میں جلیں ہیں استخواں میرے

دیوان دوم غزل 974
وہی شورش موئے پر بھی ہے اب تک ساتھ یاں میرے
ہما کے آشیانے میں جلیں ہیں استخواں میرے
عزیزاں غم میں اپنے یوسفؑ گم گشتہ کے ہر دم
چلے جاتے ہیں آنسو کارواں در کارواں میرے
تمھاری دشمنی ہم دوستوں سے لا نہایت ہے
وگرنہ انتہا کینے کو بھی ہے مہرباں میرے
لب و لہجہ غزل خوانی کا کس کو آج کل ایسا
گھڑی بھر کو ہوئے مرغ چمن ہم داستاں میرے
نظر مت بے پری پر کر کہ آں سوے جہاں پھر ہوں
ہوئے پرواز کے قابل یہ ٹوٹے پر جہاں میرے
کہاں تک سر کو دیواروں سے یوں مارا کرے کوئی
رکھوں اس در پہ پیشانی نصیب ایسے کہاں میرے
مجھے پامال کر یکساں کیا ہے خاک سے تو بھی
وہی رہتا ہے صبح و شام درپے آسماں میرے
خزاں کی بائو سے حضرت میں گلشن کے تطاول تھا
تبرک ہو گئے یک دست خارآشیاں میرے
کہا میں شوق میں طفلان تہ بازار کے کیا کیا
سخن مشتاق ہیں اب شہر کے پیر و جواں میرے
زمیں سر پر اٹھا لی کبک نے رفتار رنگیں سے
خراماں ناز سے ہو تو بھی اے سرو رواں میرے
سخن کیا میر کریے حسرت و اندوہ و حرماں سے
بیاں حاجت نہیں حالات ہیں سارے عیاں میرے
میر تقی میر

ابھی کیا جانیے یاں کیا سماں ہو

دیوان دوم غزل 917
نہ میرے باعث شور و فغاں ہو
ابھی کیا جانیے یاں کیا سماں ہو
یہی مشہور عالم ہیں دوعالم
خدا جانے ملاپ اس سے کہاں ہو
جہاں سجدے میں ہم نے غش کیا تھا
وہیں شاید کہ اس کا آستاں ہو
نہ ہووے وصف ان بالوں کا مجھ سے
اگر ہر مو مرے تن پر زباں ہو
جگر تو چھن گیا تیروں کے مارے
تمھاری کس طرح خاطر نشاں ہو
نہ دل سے جا خدا کی تجھ کو سوگند
خدائی میں اگر ایسا مکاں ہو
تم اے نازک تناں ہو وہ کہ سب کے
تمناے دل و آرام جاں ہو
ہلے ٹک لب کہ اس نے مار ڈالا
کہے کچھ کوئی گر جی کی اماں ہو
سنا ہے چاہ کا دعویٰ تمھارا
کہو جو کچھ کہ چاہو مہرباں ہو
کنارہ یوں کیا جاتا نہیں پھر
اگر پاے محبت درمیاں ہو
ہوئے ہم پیر سو ساکت ہیں اب میر
تمھاری بات کیا ہے تم جواں ہو
میر تقی میر

وہی اک جنس ہے اس کارواں میں

دیوان دوم غزل 866
نہ نکلا دوسرا ویسا جہاں میں
وہی اک جنس ہے اس کارواں میں
کیا منھ بند سب کا بات کہتے
بلا کچھ سحر ہے اس کی زباں میں
اگر وہ بت نہ جانے تو نہ جانے
ہمیں سب جانے ہیں ہندوستاں میں
نیا آناً فآناً اس کو دیکھا
جدا تھی شان اس کی ہر زماں میں
کھنچی رہتی ہے اس ابروے خم سے
کوئی کیا شاخ نکلی ہے کماں میں
جبیں پر چین رہتی ہے ہمیشہ
بلا کینہ ہے اپنے مہرباں میں
نیا ہے کیا شگوفہ یہ کہ اکثر
رہا ہے پھول پڑتا گلستاں میں
کوئی بجلی کا ٹکڑا اب تلک بھی
پڑا ہو گا ہمارے آشیاں میں
پھرے ہے چھانتا ہی خاک اے میر
ہوس کیا ہے مزاج آسماں میں
میر تقی میر

جن کے نشاں تھے فیلوں پر ان کا نشاں نہیں

دیوان دوم غزل 865
کیا کیا جہاں اثر تھا سو اب واں عیاں نہیں
جن کے نشاں تھے فیلوں پر ان کا نشاں نہیں
دفتر بنے کہانی بنی مثنوی ہوئی
کیا شرح سوز عشق کروں میں زباں نہیں
اپنا ہی ہاتھ سر پہ رہا اپنے یاں سدا
مشفق کوئی نہیں ہے کوئی مہرباں نہیں
ہنگامہ و فساد کی باعث ہے وہ کمر
پھر آپ خوب دیکھیے تو درمیاں نہیں
جی ہی نکل گیا جو گیا یار پاس سے
جسم ضعیف و زار میں اب میرے جاں نہیں
ہے عشق ہی سے چار طرف بحث و گفتگو
شور اس بلاے جاں کا جہاں میں کہاں نہیں
اس عہد کو نہ جانیے اگلا سا عہد میر
وہ دور اب نہیں وہ زمیں آسماں نہیں
میر تقی میر

لاتا ہے تازہ آفت تو ہر زماں زمیں پر

دیوان دوم غزل 802
رفتار میں یہ شوخی رحم اے جواں زمیں پر
لاتا ہے تازہ آفت تو ہر زماں زمیں پر
آنکھیں لگی رہیں گی برسوں وہیں سبھوں کی
ہو گا قدم کا تیرے جس جا نشاں زمیں پر
میں مشت خاک یارب بارگران غم تھا
کیا کہیے آ پڑا ہے اک آسماں زمیں پر
آنکھیں ہی بچھ رہی ہیں لوگوں کی تیری رہ میں
ٹک دیکھ کر قدم رکھ اے کام جاں زمیں پر
خاک سیہ سے یکساں ہر ایک ہے کہے تو
مارا اٹھا فلک نے سارا جہاں زمیں پر
چشمے کہیں ہیں جوشاں جوئیں کہیں ہیں جاری
جوں ابر ہم نہ روئے اس بن کہاں زمیں پر
آتا نہ تھا فرو سرجن کا کل آسماں سے
ہیں ٹھوکروں میں ان کے آج استخواں زمیں پر
جو کوئی یاں سے گذرا کیا آپ سے نہ گذرا
پانی رہا کب اتنا ہوکر رواں زمیں پر
پھر بھی اٹھالی سر پر تم نے زمیں سب آکر
کیا کیا ہوا تھا تم سے کچھ آگے یاں زمیں پر
کچھ بھی مناسبت ہے یاں عجز واں تکبر
وے آسمان پر ہیں میں ناتواں زمیں پر
پست و بلند یاں کا ہے اور ہی طرف سے
اپنی نظر نہیں ہے کچھ آسماں زمیں پر
قصر جناں تو ہم نے دیکھا نہیں جو کہیے
شاید نہ ہووے دل سا کوئی مکاں زمیں پر
یاں خاک سے انھوں کی لوگوں نے گھر بنائے
آثار ہیں جنھوں کے اب تک عیاں زمیں پر
کیا سر جھکا رہے ہو میر اس غزل کو سن کر
بارے نظر کرو ٹک اے مہرباں زمیں پر
میر تقی میر

پاے جاں درمیاں ہے یاں ٹک سوچ

دیوان دوم غزل 789
عشق میں اے طبیب ہاں ٹک سوچ
پاے جاں درمیاں ہے یاں ٹک سوچ
بے تامل اداے کیں مت کر
قتل میں میرے مہرباں ٹک سوچ
سرسری مت جہاں سے جا غافل
پائوں تیرا پڑے جہاں ٹک سوچ
پھیل اتنا پڑا ہے کیوں یاں تو
یار اگلے گئے کہاں ٹک سوچ
ہونٹ اپنا ہلا نہ سمجھے بن
یعنی جب کھولے تو زباں ٹک سوچ
گل و رنگ و بہار پردے ہیں
ہر عیاں میں ہے وہ نہاں ٹک سوچ
فائدہ سر جھکے کا شیب میں میر
پیری سے آگے اے جواں ٹک سوچ
میر تقی میر

مانا کیا خدا کی طرح ان بتاں کو میں

دیوان اول غزل 349
سمجھا تنک نہ اپنے تو سود و زیاں کو میں
مانا کیا خدا کی طرح ان بتاں کو میں
لاویں اسے بھی بعد مرے میری لاش پر
یہ کہہ رکھا ہے اپنے ہر اک مہرباں کو میں
گردش فلک کی کیا ہے جو دور قدح میں ہے
دیتا رہوں گا چرخ مدام آسماں کو میں
جی جاوے تو قبول ترا غم نہ جائیو
رکھتا نپٹ عزیز ہوں اس میہماں کو میں
عاشق ہے یا مریض ہے پوچھو تو میر سے
پاتا ہوں زرد روز بروز اس جواں کو میں
میر تقی میر

سب کہیں گے یہ کہ کیا اک نیم جاں مارا گیا

دیوان اول غزل 76
ہاتھ سے تیرے اگر میں ناتواں مارا گیا
سب کہیں گے یہ کہ کیا اک نیم جاں مارا گیا
اک نگہ سے بیش کچھ نقصاں نہ آیا اس کے تیں
اور میں بے چارہ تو اے مہرباں مارا گیا
وصل و ہجراں یہ جو دو منزل ہیں راہ عشق کی
دل غریب ان میں خدا جانے کہاں مارا گیا
دل نے سر کھینچا دیارعشق میں اے بوالہوس
وہ سراپا آرزو آخر جواں مارا گیا
کب نیاز عشق ناز حسن سے کھینچے ہے ہاتھ
آخر آخر میر سر برآستاں مارا گیا
میر تقی میر

کھلا لگتا ہے، لیکن بند ہے میرا مکاں مجھ پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 27
لگا دیں خوف نے ایسی بھی کچھ پابندیاں مجھ پر
کھلا لگتا ہے، لیکن بند ہے میرا مکاں مجھ پر
میں خاک افتادہ رکھتا ہوں اُفق سے ربط آنکھوں کا
بہت جھک کر اُترتا ہے شکوہِ آسماں مجھ پر
ملا دیتا ہوں اپنے خواب کو اُس کی حقیقت سحر
تبھی تو مشکلیں بنتی نہیں آسانیاں مجھ پر
مرا یوں جاگتے رہنا انہیں اچھا نہیں لگتا
ہیں دُز دان شبِ غفلت بہت نا مہرباں مجھ پر
کچھ ایسے زندگی بے پرسش احوال گزری ہے
کسی کا پوچھنا بھی اب گزرتا ہے گراں مجھ پر
کشید شعر جب چھلکے غزل کے آبگینے میں
تو برسانے لگے سیمِ ستارہ کہکشاں مجھ پر
آفتاب اقبال شمیم

وہ معجزہ جو وہاں ہوا ہے یہاں بھی ہو گا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 27
یہ وقت آساں ، کبھی عدو پر گراں بھی ہو گا
وہ معجزہ جو وہاں ہوا ہے یہاں بھی ہو گا
یہی سجھائے ہمیں یہ ٹھہرا ہوا ستارہ
کہ جو بظاہر رُکا ہوا ہے رواں بھی ہو گا
اگر سفر میں رہا نہ آگے سے اور آگے
تو پھر وہ شہرِ مثال ہم پر عیاں بھی ہو گا
اُداس مت ہو خدا اگر واقعی خدا ہے
ضرور اِن بستیوں پہ وہ مہرباں بھی ہو گا
چلو تو یاروں کی چاہتیں ساتھ لیتے جاؤ
کہ راستے میں قبیلۂ دشمناں بھی ہو گا
بگاڑ بیٹھے ہو دل سے ان دنیا داریوں میں
کہا نہ تھا ایسے فائدے میں زیاں بھی ہو گا
آفتاب اقبال شمیم

شوخیِ رنگِ گلستاں ہے وہی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
شاخ پر خونِ گل رواں ہے وہی
شوخیِ رنگِ گلستاں ہے وہی
سروہی ہے تو آستاں ہے وہی
جاں وہی ہے تو جانِ جاں‌ہے وہی
اب جہاں مہرباں نہیں کوئی
کوچہء یارِ مہرباں ہے وہی
برق سو بار گر کے خاک ہوئی
رونقِ خاکِ آشیاں ہے وہی
آج کی شب وصال کی شب ہے
دل سے ہر روز داستاں ہے وہی
چاند تارے ادھر نہیں آتے
ورنہ زنداں میں‌ آسماں ہے وہی
منٹگمری جیل
فیض احمد فیض

یہی خیال تھا آئندگاں ہمارا بھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 228
زمیں پہ ہو گا کہیں آسماں ہمارا بھی
یہی خیال تھا آئندگاں ہمارا بھی
خبر نہیں کہ ہمیں بھی ہوا کہاں لے جائے
کھلا ہوا ہے ابھی بادباں ہمارا بھی
بہت ہے یہ بھی کہ موجوں کے روبرو کچھ دیر
رہا ہے ریگِ رواں پر نشاں ہمارا بھی
یہ تیر اگر کبھی دونوں کے بیچ سے ہٹ جائے
تو کم ہو فاصلۂ درمیاں ہمارا بھی
اُسی سفر پہ نکلتے ہیں رفتگاں کی طرح
اب انتظار کریں بستیاں ہمارا بھی
سواد قریۂ نامہرباں میں یاد آیا
کہ لکھنؤ میں ہے اک مہرباں ہمارا بھی
عرفان صدیقی

پھر مہرباں ہوئی کسی نا مہرباں کی یاد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 155
وہ خواب گاہِ عرش وہ باغِ جناں کی یاد
پھر مہرباں ہوئی کسی نا مہرباں کی یاد
آنکھوں میں کس کے عارض و لب کے چراغ ہیں
پھرتی ہے یہ خیال میں آخر کہاں کی یاد
پھر گونجنے لگی ہے مرے لاشعور میں
روزِ ازل سے پہلے کے کچھ رفتگاں کی یاد
میں آسماں نژاد زمیں پر مقیم ہوں
کچھ ہے یہاں کا درد تو کچھ ہے وہاں کی یاد
کوئی نہ تھا جہاں پہ مری ذات کے سوا
آئی سکوتِ شام سے اُس لا مکاں کی یاد
دیکھوں کہیں خلوص تو آتی ہے ذہن میں
پیچھے سے وار کرتے ہوئے دوستاں کی یاد
دریائے ٹیمز! اپنے کنارے سمیٹ لے
آئی ہے مجھ کو سندھ کے آبِ رواں کی یاد
منصور آ رہی ہے سرِ آئینہ مجھے
اِس شہرِ پُر فریب میں سادہ دلاں کی یاد
منصور آفاق

کس حال میں قافلہ رواں ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 236
آواز جرس ہے یا فغان ہے
کس حال میں قافلہ رواں ہے
اٹھتے اٹھتے اٹھیں گے پردے
صدیوں کا غبار درمیاں ہے
کس کس سے بچائے کوئی دل کو
ہر گام پہ ایک مہرباں ہے
ہر چند زمیں زمیں ہے لیکن
تم ساتھ چلو تو آسماں ہے
ضو صبح کی چھو رہی ہے دل کو
ہر چند کہ رات درمیاں ہے
ہم ہوں کہ ہو گرد راہ باقیؔ
منزل ہے اسی کی جو رواں ہے
باقی صدیقی

فریب خوردہ تھے ہر مہرباں کے ساتھ چلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 216
نہ اپنے دل کے نہ اپنی زباں کے ساتھ چلے
فریب خوردہ تھے ہر مہرباں کے ساتھ چلے
کتاب دور جہاں کے وہ لفظ ہیں ہم لوگ
ہر اک فسانے ہر اک داستاں کے ساتھ چلے
وہ پی کے ہوش میں آئے کہ ہوش کھو بیٹھے
کھچ ایسے قصّے مئے ارغواں کے ساتھ چلے
کہاں کا سود کہ اپنا خیال بھی نہ رہا
زیاں کی فکر میں ہم ہر زیاں کے ساتھ چلے
یہ رُخ بھی کش مکش زندگی کا دیکھا ہے
جہاں کی بات نہ کی اور جہاں کے ساتھ چلے
ہمارے خون سے ابھریں چمن کی دیواریں
ہمارے قصّے بہار و خزاں کے ساتھ چلے
کچھ اس طرح بھی کیا ہم نے طے سفر باقیؔ
نشان بن کے ہر اک بے نشاں کے ساتھ چلے
باقی صدیقی

کچھ مہرباں جدا ہوئے کچھ مہرباں ملے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 214
غم اور خوشی کے راستے آ کر جہاں ملے
کچھ مہرباں جدا ہوئے کچھ مہرباں ملے
جن کے طفیل بزم تمنا میں رنگ تھا
وہ لوگ تجھ کو گردش دوراں کہاں ملے
راہوں پہ آج ان کا تصور بھی ہے گراں
منزل کے پاس کل جو ہمیں کارواں ملے
اہل نظر سے دل کی مہم سر نہ ہو سکی
کچھ سرنگوں ملے ہیں تو کچھ سرگراں ملے
روداد شوق تشنۂ اظہار ہی رہی
ملنے کو ہم خیال ملے، ہم زباں ملے
خوں رو رہے تھے کل جو بہاروں کی یاد میں
وہ آج بے نیاز غم گلستاں ملے
باقیؔ نہ تھی اگرچہ فریب وفاکی تاب
پھر بھی رُکے نقوش محبت جہاں ملے
باقی صدیقی

بغض دوستاں چہرے لطف دشمناں چہرے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 200
اردوگرد دیواریں اور درمیاں چہرے
بغض دوستاں چہرے لطف دشمناں چہرے
گردش زمانہ کا اک طویل افسانہ
یہ جلی جلی نظریں، یہ دھواں دھواں چہرے
نقش نقش پر برہم، داغ داغ پر خنداں
زندگی کی راہوں میں رہ گئے کہاں چہرے
قہقہوں کے ساغر میں ڈھل سکیں نہ وہ باتیں
موج لب سے پہلے ہی کر گئے بیاں چہرے
موسموں کی تلخی کا کچھ سراغ دیتے ہیں
شاخ جسم نازک پر برگ بے زباں چہرے
اک خیال دنیا کاکر گیا سکوں برہم
اک ہوا کے جھونکے سے ہو گئے عیاں چہرے
رنگ و بو کی تصویریں آئنے بدلتی ہیں
خار کی خلش چہرے، پھول کا گماں چہرے
رک گئے وہاں ہم بھی ایک دو گھڑی باقیؔ
جس جگہ نظر آئے چند مہرباں چہرے
باقی صدیقی

تو مہرباں تھا تو دنیا بھی مہرباں تھی کبھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 179
یہی جہاں تھا، یہی گردش جہاں تھی کبھی
تو مہرباں تھا تو دنیا بھی مہرباں تھی کبھی
ترے شگفتہ شگفتہ نقوش پا کے طفیل
مری نگاہ میں ہر راہ کہکشاں تھی کبھی
مرے خیال سے تیرا غرور روشن تھا
تری نگاہ سے دنیا میری جواں تھی کبھی
ترے تبسم رنگیں سے پھول کھلتے تھے
مری حیات بہاروں کی داستاں تھی کبھی
وہ بے خودی مری، وہ تیرے قرب کا احساس
نہ آس پاس تھی دنیا نہ درمیاں تھی کبھی
کبھی کبھی مجھے باقیؔ خیال آتا ہے
وہاں کھڑی ہے مری زندگی جہاں تھی کبھی
باقی صدیقی

وہ مہرباں تھے تو ہر چیز مہرباں تھی کبھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 178
یہی جہاں تھا، یہی گردش جہاں تھی کبھی
وہ مہرباں تھے تو ہر چیز مہرباں تھی کبھی
ترے شگفتہ شگفتہ نقوش پا کے طفیل
مری نظر میں ہر اک راہ کہکشاں تھی کبھی
مری نگاہ سے تیرا غرور روشن تھا
تری نگاہ سے دنیا مری جواں تھی کبھی
براہ راست نظر تجھ سے بات کرتی تھی
نہ آس پاس تھی دنیا نہ درمیاں تھی کبھی
کبھی کبھی مجھے باقیؔ خیال آتا ہے
وہاں نہیں ہے مری زندگی جہاں تھی کبھی
باقی صدیقی

کون سے مہرباں کی بات کریں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 111
آپ کی یا جہاں کی بات کریں
کون سے مہرباں کی بات کریں
حسن خوش ہے نہ عشق آسودہ
کیا ترے آستاں کی بات کریں
ہو چکیں اس جہان کی باتیں
اب کوئی اس جہاں کی بات کریں
زندگی نام ہے بہاروں کا
گل نہیں گلستاں کی بات کریں
سب کو ساحل کا پاس ہے باقیؔ
کس سے موج رواں کی بات کریں
باقی صدیقی