ٹیگ کے محفوظات: مہتاب

کیوں چَین تجھے اے دلِ بے تاب! نہ آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
ٹھہراؤ کہیں صورتِ سیماب نہ آئے
کیوں چَین تجھے اے دلِ بے تاب! نہ آئے
شکوہ جو سرِ اشک ہے لفظوں میں نہ ڈھالو
کائی کہ جو تہہ میں ہے، سرِآب نہ آئے
کیا لفظ تھے ہم اور غلط العام ہوئے کیا
کوئی بھی لگانے جِنہیں اعراب نہ آئے
وہ غار نشیں ہم ہیں تصوّر میں بھی جن کے
بہروپ میں جگنو کے بھی مہتاب نہ آئے
رفعت جو ذرا سر کے جھکانے سے دلائیں
ماجد تمہی اب تک، وہی آداب نہ آئے
ماجد صدیقی

تجھ سے ملنے میں ترے خواب میں آیا ہُوا ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 28
کس عجب ساعتِ نایاب میں آیا ہُوا ہوں
تجھ سے ملنے میں ترے خواب میں آیا ہُوا ہوں
پھر وہی میں ہوں، وہی ہجر کا دریائے عمیق
کوئی دم عکسِ سرِ آب میں آیا ہُوا ہوں
کیسے آئینے کے مانند چمکتا ہُوا میں
عشق کے شہرِ ابدتاب میں آیا ہُوا ہوں
میری ہر تان ہے از روزِ ازل تا بہ ابد
ایک سُر کے لیے مضراب میں آیا ہُوا ہوں
کوئی پرچھائیں کبھی جسم سے کرتی ہے کلام؟
بے سبب سایہِٗ مہتاب میں آیا ہُوا ہوں
ہر گزرتے ہوئے لمحے میں تپکتا ہُوا میں
درد ہوں، وقت کے اعصاب میں آیا ہُوا ہوں
کیسی گہرائی سے نکلا ہوں عدم کی عرفان
کیسے پایاب سے تالاب میں آیا ہُوا ہوں
عرفان ستار

بہہ گئے سب نیند کے سیلاب میں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 61
کیسے کیسے تھے جزیرے خواب میں
بہہ گئے سب نیند کے سیلاب میں
لڑکیاں بیٹھی تھیں پاؤں ڈال کر
روشنی سی ہو گئی تالاب میں
جکڑے جانے کی تمنّا تیز تھی
آگئے پھر حلقہ ءِ گرداب میں
ڈوبتے سُورج کی نارنجی لیکن
تیرتی ہے دیدہ ءِ خونناب میں
وہ تو میرے سامنے بیٹھا تھا___پھر
کس کا چہرہ نقش تھا مہتاب میں !
پروین شاکر

اِس اماوس کی گھنی رات میں مہتاب کہاں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 50
نیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاں
اِس اماوس کی گھنی رات میں مہتاب کہاں
رنج سہنے کی مرے دل میں تب و تاب کہاں
اور یہ بھی ہے کہ پہلے سے وہ اعصاب کہاں
مَیں بھنور سے تو نکل آئی،اور اب سوچتی ہوں
موجِ ساحل نے کیا ہے مجھے غرقاب کہاں
مَیں نے سونپی تھی تجھے آخری پُونجی اپنی
چھوڑ آیا ہے مری ناؤ تہہِ آب کہاں
ہے رواں آگ کا دریا مری شریانوں میں
موت کے بعد بھی ہو پائے گا پایاب کہاں
بند باندھا ہے سَروں کا مرے دہقانوں نے
اب مری فصل کو لے جائے گا سیلاب کہاں
پروین شاکر

جنس نایاب ہو گئی شاید

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 37
نیند تو خواب ہو گئی شاید
جنس نایاب ہو گئی شاید
اپنے گھر کی طرح وہ لڑکی بھی
نذرِ سیلاب ہو گئی شاید
تجھ کو سوچوں تو روشنی دیکھوں
یاد ، مہتاب ہو گئی شاید
ایک مدت سے آنکھ روئی نہیں
جھیل پایاب ہو گئی شاید
ہجر کے پانیوں میں عشق کی ناؤ
کہیں غرقاب ہو گئی شاید
چند لوگوں کی دسترس میں ہے
زیست کم خواب ہو گئی شاید
پروین شاکر

کہ کچھ حظ اٹھے سیرِ مہتاب کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 17
پلا جام ساقی مے ناب کا
کہ کچھ حظ اٹھے سیرِ مہتاب کا
دلِ زار کا ماجرا کیا کہوں
فسانہ ہے مشہور سیماب کا
کہاں پھر وہ نایاب، پایا جسے
غلط شوق ہے جنسِ نایاب کا
نہ کیجو غل اے خوش نوایانِ صبح
یہ ہے وقت ان کی شکر خواب کا
محبت نہ ہرگز جتائی گئی
رہا ذکر کل اور ہر باب کا
دمِ سرد سے لا نہ طوفانِ باد
نہ سن ماجرا چشمِ پر آب کا
وہاں بے خودوں کی خبر کون لے
جہاں شغل ہو بادۂ ناب کا
وہاں تیرہ روزوں کی پروا کسے
جہاں شوق ہو سیرِ مہتاب کا
وہ تشخیصِ شخصی بھی جاتی رہی
کنارا الٹتے ہی جلباب کا
میں بے جرم رہتا ہوں خائف کہ واں
جفا میں نہیں دخل اسباب کا
پڑے صبر آرام کی جان پر
مری جانِ بے صبر و بے تاب کا
لبِ لعل کو کس کے جنبش ہوئی
ہوا میں ہے کچھ رنگ عناب کا
نہ کرنا خطا پر نظر شیفتہ
کہ اغماض شیوہ ہے احباب کا
مصطفٰی خان شیفتہ

وہ جو تڑپا لے گیا آسودگی و خواب کو

دیوان ششم غزل 1860
کیونکے نیچے ہاتھ کے رکھا دل بیتاب کو
وہ جو تڑپا لے گیا آسودگی و خواب کو
کم نہیں ہے سحر سے یہ بھی تصرف عشق کا
پانی کر آنکھوں میں لایا دل کے خون ناب کو
تھا یہی سرمایۂ بحر بلا پچھلے دنوں
چشم کم سے دیکھو مت اس دیدئہ پرآب کو
تو کہے تھی برق خاطف ناگہاں آکر گری
اک نگہ سے مار رکھا ان نے شیخ و شاب کو
کیا سفیدی دیکھی اس کی آستیں کے چاک سے
جس کے آگے رو نہ تھا کچھ پرتو مہتاب کو
چاہتا ہے جب مسبب آپھی ہوتا ہے سبب
دخل اس عالم میں کیا ہے عالم اسباب کو
دم بخود رہتا ہوں اکثر سر رکھے زانو پہ میر
حال کہہ کر کیا کروں آزردہ اور احباب کو
میر تقی میر

دل کے پہلو سے ہم آتش میں ہیں اور آب میں ہیں

دیوان سوم غزل 1174
ٹھنڈی سانسیں بھریں ہیں جلتے ہیں کیا تاب میں ہیں
دل کے پہلو سے ہم آتش میں ہیں اور آب میں ہیں
ساتھ اپنے نہیں اسباب مساعد مطلق
ہم بھی کہنے کے تئیں عالم اسباب میں ہیں
غفلت دل سے ستم گذریں ہیں سو مت پوچھو
قافلے چلنے کو تیار ہیں ہم خواب میں ہیں
عشق کے ہیں گے جو سرگشتہ پڑے ہیں ڈوبے
کشتیاں نکلیں سو کیا آن کے گرداب میں ہیں
دور کیا اس سے جو بیٹھے ہے غبار اپنا دور
پاس اس طور کے بھی عشق کے آداب میں ہیں
ہے فروغ مہ تاباں سے فراغ کلی
دل جلے پرتو رخ سے ترے مہتاب میں ہیں
ہم بھی اس شہر میں ان لوگوں سے ہیں خانہ خراب
میر گھر بار جنھوں کے رہ سیلاب میں ہیں
میر تقی میر

رخسار تیرے پیارے ہیں آفتاب مہتاب

دیوان دوم غزل 777
برقع میں کیا چھپیں وے ہوویں جنھوں کی یہ تاب
رخسار تیرے پیارے ہیں آفتاب مہتاب
اٹکل ہمیں کو ان نے آخر ہدف بنایا
ہرچند ہم بلاکش تھے ایک تیر پرتاب
کچھ قدر میں نہ جانی غفلت سے رفتگاں کی
آنکھیں سی کھل گئیں اب جب صحبتیں ہوئیں خواب
ان بن ہی کے سبب ہیں اس لالچی سے سارے
یاں ہے فقیری محض واں چاہیے ہے اسباب
اس بحر حسن کے تیں دیکھا ہے آپ میں کیا
جاتا ہے صدقے اپنے جو لحظہ لحظہ گرداب
اچرج ہے یہ کہ مطلق کوئی نہیں ہے خواہاں
جنس وفا اگرچہ ہے گی بہت ہی کمیاب
تھی چشم یہ رکے گا پلکوں سے گریہ لیکن
ہوتی ہے بند کوئی تنکوں سے راہ سیلاب
تو بھی تو مختلط ہو سبزے میں ہم سے ساقی
لے کر بغل میں ظالم میناے بادئہ ناب
نکلی ہیں اب کے کلیاں اس رنگ سے چمن میں
سر جوڑ جوڑ جیسے مل بیٹھتے ہیں احباب
کیا لعل لب کسو کے اے میر چت چڑھے ہیں
چہرے پہ تیرے ہر دم بہتا رہے ہے خوناب
میر تقی میر

قسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا

دیوان اول غزل 97
اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا
قسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا
کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
آوے جو مصطبے میں تو سن لو کہ راہ سے
واعظ کو ایک جام مئے ناب لے گیا
نے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوش
آیا جو سیل عشق سب اسباب لے گیا
میرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیا
رویا میں اس قدر کہ مجھے آب لے گیا
احوال اس شکار زبوں کا ہے جاے رحم
جس ناتواں کو مفت نہ قصاب لے گیا
منھ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئے
شب ہم کو میر پرتو مہتاب لے گیا
میر تقی میر

برقع سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا

دیوان اول غزل 20
گل شرم سے بہ جائے گا گلشن میں ہوکر آب سا
برقع سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا
گل برگ کا یہ رنگ ہے مرجاں کا ایسا ڈھنگ ہے
دیکھو نہ جھمکے ہے پڑا وہ ہونٹ لعل ناب سا
وہ مایۂ جاں تو کہیں پیدا نہیں جوں کیمیا
میں شوق کی افراط سے بیتاب ہوں سیماب سا
دل تاب ہی لایا نہ ٹک تا یاد رہتا ہم نشیں
اب عیش روز وصل کا ہے جی میں بھولا خواب سا
سناہٹے میں جان کے ہوش و حواس و دم نہ تھا
اسباب سارا لے گیا آیا تھا اک سیلاب سا
ہم سرکشی سے مدتوں مسجد سے بچ بچ کر چلے
اب سجدے ہی میں گذرے ہے قد جو ہوا محراب سا
تھی عشق کی وہ ابتدا جو موج سی اٹھی کبھو
اب دیدئہ تر کو جو تم دیکھو تو ہے گرداب سا
بہکے جو ہم مست آگئے سو بار مسجد سے اٹھا
واعظ کو مارے خوف کے کل لگ گیا جلاب سا
رکھ ہاتھ دل پر میر کے دریافت کر کیا حال ہے
رہتا ہے اکثر یہ جواں کچھ ان دنوں بیتاب سا
میر تقی میر

میں ہجومِ ریشم و کمخواب میں رہتا نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 395
دھوپ میں پھرتا ہوں دن بھر خواب میں رہتا نہیں
میں ہجومِ ریشم و کمخواب میں رہتا نہیں
ہے مناسب بے کسی کی کوٹھری میرے لئے
غم پہن کر میں شبِ مہتاب میں رہتا نہیں
کھل کے روتا ہوں ہمیشہ بادلوں کے ساتھ میں
یونہی ہجراں کے ادب آداب میں رہتا نہیں
ایک صحرا ہے مرے چاروں طرف پھیلا ہوا
میں مری جاں ! قریۂ شاداب میں رہتا نہیں
ہر طرف بکھری ہوئی منصور ویرانی سی ہے
میں مکاں کے عالمِ اسباب میں رہتا نہیں
منصور آفاق

چاند ہے تُو رات کے اسباب سے باہر نہ آ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 17
پانیوں میں رقص کر، تالاب سے باہر نہ آ
چاند ہے تُو رات کے اسباب سے باہر نہ آ
سرسراتے سانپ ہیں گہری سنہری گھاس میں
جنگلوں میں پابرہنہ خواب سے باہر نہ آ
ہجر کے تاریک منظر میں یہی امکان گاہ
چاندنی سے قریہ ء مہتاب سے باہر نہ آ
اک وہی رہنے دے اپنی آنکھ میں تصویر بس
ساعتِ بھرپور سے شاداب سے باہر نہ آ
آگ دوزخ کی ہے سورج کی نگاہِ ناز میں
اور کچھ دن حجلہ ء برفاب سے باہر نہ آ
لاکھ دے دشنام شیخِ بدنسب کے کام کو
زندگی تُو ، منبر و محراب سے باہر نہ آ
ذات کی پاتال میں ہو گی بلندی عرش کی
ڈوب جا منصور کے گرداب سے باہر نہ آ
منصور آفاق