ٹیگ کے محفوظات: مکیں

کھو جائیں گے تلاش میں اُس کی ہمیں کہیں

معلوم ہے کہ وہ تو ملے گا نہیں کہیں
کھو جائیں گے تلاش میں اُس کی ہمیں کہیں
شاید فلک ہی ٹوٹ پڑا تھا وگرنہ یوں
جاتا ہے چھوڑ کر کوئی اپنی زمیں کہیں
اک دوسرے کو دیکھتے ہیں آئینے کی طرح
ہو جائیں روبرو جو کبھی دو حسیں کہیں
مقصود اِس سے اہلِ نظر کا ہے اِمتحاں
وہ سامنے نہیں ہے مگر ہے یہیں کہیں
شہروں میں اپنے گویا قیامت ہی آگئی
اڑ کر مکاں کہیں گئے باصرِؔ مکیں کہیں
باصر کاظمی

اس آگہی سے میں تو کہیں کا نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 14
دنیا سے دور ہو گیا، دیں کا نہیں رہا
اس آگہی سے میں تو کہیں کا نہیں رہا
رگ رگ میں موجزن ہے مرے خوں کے ساتھ ساتھ
اب رنج صرف قلبِ حزیں کا نہیں رہا
دیوار و در سے ایسے ٹپکتی ہے بے دلی
جیسے مکان اپنے مکیں کا نہیں رہا
تُو وہ مہک، جو اپنی فضا سے بچھڑ گئی
میں وہ شجر، جو اپنی زمیں کا نہیں رہا
سارا وجود محوِ عبادت ہے سر بہ سر
سجدہ مرا کبھی بھی جبیں کا نہیں رہا
پاسِ خرد میں چھوڑ دیا کوچہءِ جنوں
یعنی جہاں کا تھا میں، وہیں کا نہیں رہا
وہ گردبادِ وہم و گماں ہے کہ اب مجھے
خود اعتبار اپنے یقیں کا نہیں رہا
اب وہ جواز پوچھ رہا ہے گریز کا
گویا محل یہ صرف نہیں کا نہیں رہا
میرا خدا ازل سے ہے سینوں میں جاگزیں
وہ تو کبھی بھی عرشِ بریں کا نہیں رہا
ہر ذرۤہءِ زمیں کا دھڑکتا ہے اس میں غم
دل کو مرے ملال یہیں کا نہیں رہا
آخر کو یہ سنا تو بڑھا لی دکانِ دل
اب مول کوئی لعل و نگیں کا نہیں رہا
عرفان، اب تو گھر میں بھی باہر سا شور ہے
گوشہ کوئی بھی گوشہ نشیں کا نہیں رہا
عرفان ستار

مکاں کو راس نہ آئے مکیں تو کیا کیجے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 111
یہ فرش و بام یہ دیوار و در سوال کریں
مکاں کو راس نہ آئے مکیں تو کیا کیجے
سمجھ میں آئے اگر شک پہ شک کیا جائے
اگر یقین پہ نہ آئے یقیں تو کیا کیجے
یہی ہے قصد و قضا، وقت کرتا رہتا ہے
نہیں کو ہاں کبھی ہاں کو نہیں تو کیا کیجے
آفتاب اقبال شمیم

برقِ تجلیٰ اوڑھ لی سورج نشیں ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 54
جب قریہء فراق مری سرزمیں ہوا
برقِ تجلیٰ اوڑھ لی سورج نشیں ہوا
جا کر تمام زندگی خدمت میں پیش کی
اک شخص ایک رات میں اتنا حسیں ہوا
میں نے کسی کے جسم سے گاڑی گزار دی
یہ حادثہ بھی روح کے اندر کہیں ہوا
ڈر ہے کہ بہہ نہ جائیں در و بام آنکھ کے
اک اشک کے مکاں میں سمندر مکیں ہوا
ہمت ہے میرے خانہء دل کی کہ بار بار
لٹنے کے باوجود بھی خالی نہیں ہوا
منظر جدا نہیں ہوا اپنے مقام سے
ہونا جہاں تھا واقعہ بالکل وہیں ہوا
کھڑکی سے آرہا تھا ابھی تو نظر مجھے
یہ خانماں خراب کہاں جاگزیں ہوا
چھونے لگی ہے روح کا پاتال کوئی سانس
منصور کون یاد کے اتنے قریں ہوا
منصور آفاق