ٹیگ کے محفوظات: مکمل

جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 111
ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے
جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے
اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیں
مینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہوتے
کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیں
کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے
شائستگیِ غم کے سبب آنکھوں کے صحرا
نمناک تو ہو جاتے ہیں جل تھل نہیں ہوتے
کیسے ہی تلاطم ہوں مگر قلزمِ جاں میں
کچھ یاد جزیرے ہیں کہ اوجھل نہیں ہوتے
عشاق کے مانند کئی اہل ہوس بھی
پاگل تو نظر آتے ہیں پاگل نہیں ہوتے
سب خواہشیں پوری ہوں فراز ایسا نہیں ہے
جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے
احمد فراز

وصل کا خواب مکمل ہو جائے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 90
رنگ ، خوشبو میں اگر حل ہو جائے
وصل کا خواب مکمل ہو جائے
چاند کا چوما ہُوا سرخ گلاب
تیتری دیکھے تو پاگل ہو جائے
میں اندھیروں کو اُجالُوں ایسے
تیرگی آنکھ کا کاجل ہو جائے
دوش پر بارشیں لے کے گُھومیں
مَیں ہوا اور وہ بادل ہو جائے
نرم سبزے پہ ذرا جھک کے چلے
شبنمی رات کا آنچل ہو جائے
عُمر بھر تھامے رہے خوشبو کو
پُھول کا ہاتھ مگر شل ہو جائے
چڑیا پتّوں میں سمٹ کر سوئے
پیٹریُوں پھیلے کہ جنگل ہو جائے
پروین شاکر

وہ کہ جو کل نہ ہوا، کل نہیں ہونے والا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 83
مسئلہ آدمی کا حل نہیں ہونے والا
وہ کہ جو کل نہ ہوا، کل نہیں ہونے والا
ایک تعمیر جو ہر دم زدِ تخریب میں ہے
اس جگہ کچھ بھی مکمل نہیں ہونے والا
جھیل ہے آنکھ مری، ایک پرت پانی کی
جس سے جلوہ ترا اوجھل نہیں ہونے والا
اس عنایت میں کوئی اس کی غرض بھی ہو گی
یہ کرم تم پہ مسلسل نہیں ہونے والا
شوق سے بوجھ مصائب کا بڑھاتے جاؤ
یہ جو ہے دوش مرا، شل نہیں ہونے والا
آفتاب اقبال شمیم

یعنی منصوبہ زمانے کا مکمل ہو گیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 55
اک فنا کے گھاٹ اُترا، ایک پاگل ہو گیا
یعنی منصوبہ زمانے کا مکمل ہو گیا
جسم کے برفاب میں آنکھیں چمکتی ہیں ابھی
کون کہتا ہے اُس کا حوصلہ شل ہو گیا
ذہن پر بے سمتیوں کی بارشیں اتنی ہوئیں
یہ علاقہ تو گھنے راستوں کا جنگل ہو گیا
اس کلید اسم نا معلوم سے کیسے کُھلے
دل کا دروازہ کہ اندر سے مقفل ہو گیا
شعلہ زار گُل سے گزرے تو سرِ آغاز ہی
اک شرر آنکھوں سے اُترا، خون میں حل ہو گیا
شہر آئندہ کا دریا ہے گرفت ریگ میں
بس کہ جو ہونا ہے، اُسکا فیصلہ کل ہو گیا
موسمِ خیراتِگُل آتا ہے کس کے نام پر
کون ہے جس کا لہو اِس خاک میں حل ہو گیا
اس قدر خوابوں کو مسلا پائے آہن پوش نے
شوق کا آئین بالآخر معطل ہو گیا
آفتاب اقبال شمیم

کوئی رات آئے اور اس شہر کو جنگل کردے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 264
در و دیوار میں کچھ تازہ ہوا حل کردے
کوئی رات آئے اور اس شہر کو جنگل کردے
پس نظارہ نکلتا ہے تماشا کیا کیا
آنکھ وہ شے ہے کہ انسان کو پاگل کردے
میں وہ طائر ہوں کہ ہے تیر کی زد سے باہر
اب یہ ضد چھوڑ مجھے آنکھ سے اوجھل کردے
ہے کوئی شخص مرے دشتِ زیاں کا سفری
ہے کوئی شخص جو اس دھوپ کو بادل کردے
ایک رنگ آج بھی تصویرِ ہنر میں کم ہے
موجِ خوں آ‘ مرا دیوان مکمل کردے
عرفان صدیقی

جاگا ہوا نگر بھی مجھے شل دکھائی دے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 528
حرکت ہر ایک شے کی معطل دکھائی دے
جاگا ہوا نگر بھی مجھے شل دکھائی دے
آتے ہوئے منٹ کی طوالت کا کیا کہوں
گزری ہوئی صدی تو مجھے پل دکھائی دے
پلکوں کے ساتھ ساتھ فلک پر کہیں کہیں
مجھ کو کوئی ستارہ مسلسل دکھائی دے
برسات کی پھوار برہنہ کرے تجھے
تیرے بدن پہ ڈھاکہ کی ململ دکھائی دے
پیچھے زمین ٹوٹ کے کھائی میں گر پڑی
آگے تمام راستہ دلدل دکھائی دے
ہجراں کی رات نرم ملائم کچھ اتنی ہے
مجھ کو ترا خیال بھی بوجھل دکھائی دے
برفاب موسموں میں مرے جسم پر تری
بھیڑوں کی گرم اون کاکمبل دکھائی دے
اُس چشم کے اندھیرے میں سورج کی خیر ہو
دیکھوں جہاں تلک مجھے کاجل دکھائی دے
دیکھا ہے رکھ کے اپنی ہتھیلی پہ کتنی بار
وہ پھول ہر طرف سے مکمل دکھائی دے
نقشِ قدم سے پاک جزیرہ کہیں ملے
منصور ان چھوا کوئی جنگل دکھائی دے
منصور آفاق

شاید مرا جمال مکمل نہیں ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 69
اب تک انا سے ربطِ مسلسل نہیں ہوا
شاید مرا جمال مکمل نہیں ہوا
وحشت وہی مزاج کی رونے کے بعد بھی
بارش ہوئی ہے شہر میں جل تھل نہیں ہوا
پھر ہو گی تجھ تلک مری اپروچ بزم میں
مایوس جانِ من ترا پاگل نہیں ہوا
ممکن نہیں ہے جس کا ذرا سا مشاہدہ
میری نظر سے وہ کبھی اوجھل نہیں ہوا
ہر چیز آشنائے تغیر ہوئی مگر
قانونِ ہست و بود معطل نہیں ہوا
دستِ اجل نے کی ہے تگ و دو بڑی مگر
دروازۂ حیات مقفل نہیں ہوا
برسوں سے ڈھونڈتا ہوں کوئی اور شخص میں
اِس ہجر کا معمہ کبھی حل نہیں ہوا
منصور اپنی ذات شکستہ کیے بغیر
پانی کا بلبلا کبھی بادل نہیں ہوا
منصور آفاق