ٹیگ کے محفوظات: مکتب

سُبحۂ زاہد ہوا ہے ، خندہ زیرِ لب مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 237
یاد ہے شادی میں بھی ، ہنگامۂ "یارب” ، مجھے
سُبحۂ زاہد ہوا ہے ، خندہ زیرِ لب مجھے
ہے کُشادِ خاطرِ وابستہ دَر ، رہنِ سخن
تھا طلسمِ قُفلِ ابجد ، خانۂ مکتب مجھے
یارب ! اِس آشفتگی کی داد کس سے چاہیے!
رشک ، آسائش پہ ہے زندانیوں کی اب مجھے
طبع ہے مشتاقِ لذت ہائے حسرت کیا کروں!
آرزو سے ، ہے شکستِ آرزو مطلب مجھے
دل لگا کر آپ بھی غالب مُجھی سے ہو گئے
عشق سے آتے تھے مانِع ، میرزا صاحب مجھے
مرزا اسد اللہ خان غالب

جا چکا ہوں جہان سے کب کا

دیوان چہارم غزل 1316
رفتۂ عشق کیا ہوں میں اب کا
جا چکا ہوں جہان سے کب کا
لوگ جب ذکر یار کرتے ہیں
دیکھ رہتا ہوں دیر منھ سب کا
مست رہتا ہوں جب سے ہوش آیا
میں بھی عاشق ہوں اپنے مشرب کا
ہم تو ناکام ہی چلے یاں سے
تم کو ہو گا وصول مطلب کا
درس کہیے جنوں کا تو مجنوں
اپنے آگے ہے طفل مکتب کا
لعل کی بات کون سنتا ہے
شور ہے زور یار کے لب کا
زلف سا پیچ دار ہے ہر شعر
ہے سخن میر کا عجب ڈھب کا
میر تقی میر