ٹیگ کے محفوظات: مچلنا

صیّاد کو گلشن سے نکلنا ہی پڑے گا

طاقت کے توازن کو بدلنا ہی پڑے گا
صیّاد کو گلشن سے نکلنا ہی پڑے گا
یہ راستہ منزل کو تَو جاتا ہی نہیں ہے
اب اَور کسی راہ پہ چلنا ہی پڑے گا
یہ آگ لگائی بھی تَو ہے آپ نے صاحب
اِس آگ میں اب آپ کو جلنا ہی پڑے گا
ہاں تیری تمازت سے بہت تنگ ہیں ہم لوگ
خورشیدِ تظلّم! تجھے ڈھَلنا ہی پڑے گا
سیلابِ لہو چاہیے تطہیرِ چمن کو
اب خون کے قطروں کو مچلنا ہی پڑے گا
وہ لوگ جو خوں پی کے تنومند ہُوئے ہیں
اُن لوگوں کو اب خون اُگلنا ہی پڑے گا
یہ زہرِ رعونت جو تری جان کا ہے روگ
اُگلا نہیں جاتا تَو نگلنا ہی پڑے گا
منزل کی طرف پُشت اگر کر کے چلیں گے
ضامنؔ! کفِ افسوس تَو مَلنا ہی پڑے گا
ضامن جعفری

حادثے سے پہلے ہوٹل سے نکلنا پڑ گیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 130
برقی زینے پر مخالف سمت چلنا پڑ گیا
حادثے سے پہلے ہوٹل سے نکلنا پڑ گیا
ساحلوں کی ریت پر گرتے ہوئے آیا خیال
کیا ہواکہ موج سے مل کر اچھلنا پڑ گیا
آ گیا پھر یاد کہ پستی نہیں میرامقام
گرتے گرتے راستے میں پھر سنبھلنا پڑ گیا
دیکھ کر لاہور کو جاتا ہوا کوئی جہاز
ایک بچے کی طرح دل کو مچلنا پڑ گیا
درد تھا اس کی رگوں میں سلسلے تھے آگ کے
کار کے منصور انجن کو بھی جلنا پڑ گیا
منصور آفاق