ٹیگ کے محفوظات: مچانوں

زخم دے گئے دل کو خار پھر زبانوں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
ذِلّتوں کی بستی سے پھر نئے پیام آئے
زخم دے گئے دل کو خار پھر زبانوں کے
سامنے کی باتیں تو سامنے کی باتیں ہیں
اور بھی کچھ اِحساں ہیں ہم پہ مہربانوں کے
جبر نے دکھایا ہے پھر کہیں کمال اپنا
لوتھڑے فضا میں ہیں کچھ نحیف جانوں کے
شیر کے در آنے کے اشتباہ پر ماجدؔ
اہتمام کیا کیا تھے دشت میں مچانوں کے
ماجد صدیقی

خوف جاتا نہیں مچانوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
دل سے تیروں کا اور کمانوں کا
خوف جاتا نہیں مچانوں کا
ایک ہی گھر کے فرد ہیں ہم تم
فرق رکھتے ہیں پر زبانوں کا
رُت بدلنے کی کیا بشارت دے
ایک سا رنگ گلستانوں کا
کون اپنا ہے اِک خدا وہ بھی
رہنے والا ہے آسمانوں کا
بات ماجدؔ کی پُوچھتے کیا ہو
شخص ہے اِک گئے زمانوں کا
ماجد صدیقی

گمرہی تھی عجب اُڑانوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 141
برق اُتری جب آشیانوں میں
گمرہی تھی عجب اُڑانوں میں
مرحلے پر مری صفائی کے
لکنتیں آ گئیں زبانوں میں
دھاڑ ہی شیر کی کُچھ ایسی تھی
شل تھے صّیاد سب مچانوں میں
غار کے بطن کی سیاہی نے
دیو درباں کیے دہانوں میں
جانے موزوں نہ کیوں ہوئے ماجدؔ
تیر جتنے چڑھے کمانوں میں
ماجد صدیقی