ٹیگ کے محفوظات: مچانا

میں تنہا تھا، تجھ کو آنا چاہیئے تھا

سر رکھ کر رونے کو شانہ چاہیئے تھا
میں تنہا تھا، تجھ کو آنا چاہیئے تھا
آج میں آیا تھا خود کو پرسہ دینے
مجھ کو بیچ میں سے ہٹ جانا چاہیئے تھا
محفل میری ویراں ہوتی جاتی ہے
ہم عمروں کو دوست بنانا چاہیئے تھا
بس اک لمحہ چاہا تھا دلداری کا
کونسا مجھ کو ایک زمانہ چاہیئے تھا
آج کے دن اچھا تھا گھر میں رہنا ہی
وحشت کرنی تھی، ویرانہ چاہیئے تھا
تو بھی میرا غم ہی بانٹنے آیا ہے
یار، مرا کچھ دھیان بٹانا چاہیئے تھا
کس کو میرا ساتھ نبھانا آتا ہے
تجھ کو میرا ساتھ نبھانا چاہیئے تھا
تازہ شکلیں یادوں میں زندہ رہتیں
جا کر یاروں سے مل آنا چاہیئے تھا
حد سے بڑھ کر ضبط نہیں کرتے عرفان
درد بہت تھا، شور مچانا چاہیئے تھا
عرفان ستار

کس کو ہے اختیار جتانا پڑا مجھے

موضوعِ جبر بحث میں لانا پڑا مجھے
کس کو ہے اختیار جتانا پڑا مجھے
باغِ عدم کو چھوڑ کے دشتِ وجود میں
آتا کبھی نہیں مگر آنا پڑا مجھے
اِس درجہ روشنی سے عداوت بڑھی یہاں
"جلتا ہُوا چراغ بجھانا پڑا مجھے”
عالم وہ ایک ہُو کا کہ موت آ کے لَوٹ جائے
مرنے سے پہلے شور مچانا پڑا مجھے
ضامنؔ! وہ فردِ جرم تھی یا فردِ جبر تھی
خاموش ہو کے سر کو جھکانا پڑا مجھے
ضامن جعفری

لِیے کے لَوٹانے پر شور مچانا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
پھل اور پُھول کے جھڑنے سے کترانا کیا
لِیے کے لَوٹانے پر شور مچانا کیا
آدم زاد ہوں میں، مردُودِ خدا بھی ہوں
کھو کر خود فردوسِ سکوں، پچتانا کیا
ڈالنی کیا مشکل میں سماعت شاہوں کی
بول نہ جو سمجھا جائے، دُہرانا کیا
بہرِ ترّحم جسم سے کچھ منہا بھی کرو
ہاتھ سلامت ہیں تو اُنہیں پَھیلانا کیا
سینکڑوں تَوجِیہیں ہیں جن کی خطاؤں پر
اپنے کئے پر شاہوں کا شرمانا کیا
بات سُجھاتی ہے تاریخ یہی اپنی
میدانوں میں اُتر کے پیٹھ دکھانا کیا
دیکھنے والوں کو ماجد! مت ہنسنے دو
پِٹ جائیں جو گال، اُنہیں سہلانا کیا
ماجد صدیقی

یادوں میں کسی نے پھر کہرام مچانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
کچھ دیر میں چندا کو جب بام پہ آنا ہے
یادوں میں کسی نے پھر کہرام مچانا ہے
پوچھے گا مروّت سے کب حال ہمارا وہ
پتھر ہے جو سینے پر کب اس نے ہٹانا ہے
اِس حبس کے موسم میں، ہر حرف تمنّا کا
گرحلق سے ابھرا بھی، خوں ہی میں سمانا ہے
ہے وقت کے کِیسے میں جتنا زرِ ناخالص
حصے میں ہمارے ہی آخر کو وہ آنا ہے
قابیل سے ملتا ہے جس کا بھی کوئی رشتہ
ہابیل پہ اُس نے ہی رعب اپنا جمانا ہے
ابجد نہ جنہیں آئے الفاظ کی ندرت کا
کہتے ہیں وُہ ماجدؔ کا انداز پرانا ہے
ماجد صدیقی

دیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصل

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 62
طالعِ خفتۂ دشمن نہ جگانا شبِ وصل
دیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصل
ان کو منظور نہیں نیند کا آنا شبِ وصل
اس لئے کہتے ہیں غیروں کا فسانہ شبِ وصل
صبر پروانے کا مجھ پر نہ پڑے ڈرتا ہوں
ماہ رو شمع کو ہرگز نہ جلانا شبِ وصل
خواہشِ کامِ دل اتنی نہ کر اے شوق کہ وہ
ڈھونڈتے ہیں چلے جانے کو بہانا شبِ وصل
آپ منت سے بلانے تجھے کیوں کر آؤں
غیر کے گھر میں ہے تیرا تو ٹھکانا شبِ وصل
شان میں صحبتِ ناکس سے خلل آتا ہے
صبحِ ہجراں کو بس اب منہ نہ لگانا شبِ وصل
تیرگی بختِ سیہ سے مرے لا جا کہ ضرور
جلوہ اس مہر لقا کا ہے چھپانا شبِ وصل
روزِ ہجراں میں اٹھے جاتے ہو کیوں دنیا سے
شیفتہ اور بھی تم لطف اٹھانا شبِ وصل
مصطفٰی خان شیفتہ