ٹیگ کے محفوظات: مچانا

لِیے کے لَوٹانے پر شور مچانا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
پھل اور پُھول کے جھڑنے سے کترانا کیا
لِیے کے لَوٹانے پر شور مچانا کیا
آدم زاد ہوں میں، مردُودِ خدا بھی ہوں
کھو کر خود فردوسِ سکوں، پچتانا کیا
ڈالنی کیا مشکل میں سماعت شاہوں کی
بول نہ جو سمجھا جائے، دُہرانا کیا
بہرِ ترّحم جسم سے کچھ منہا بھی کرو
ہاتھ سلامت ہیں تو اُنہیں پَھیلانا کیا
سینکڑوں تَوجِیہیں ہیں جن کی خطاؤں پر
اپنے کئے پر شاہوں کا شرمانا کیا
بات سُجھاتی ہے تاریخ یہی اپنی
میدانوں میں اُتر کے پیٹھ دکھانا کیا
دیکھنے والوں کو ماجد! مت ہنسنے دو
پِٹ جائیں جو گال، اُنہیں سہلانا کیا
ماجد صدیقی

یادوں میں کسی نے پھر کہرام مچانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
کچھ دیر میں چندا کو جب بام پہ آنا ہے
یادوں میں کسی نے پھر کہرام مچانا ہے
پوچھے گا مروّت سے کب حال ہمارا وہ
پتھر ہے جو سینے پر کب اس نے ہٹانا ہے
اِس حبس کے موسم میں، ہر حرف تمنّا کا
گرحلق سے ابھرا بھی، خوں ہی میں سمانا ہے
ہے وقت کے کِیسے میں جتنا زرِ ناخالص
حصے میں ہمارے ہی آخر کو وہ آنا ہے
قابیل سے ملتا ہے جس کا بھی کوئی رشتہ
ہابیل پہ اُس نے ہی رعب اپنا جمانا ہے
ابجد نہ جنہیں آئے الفاظ کی ندرت کا
کہتے ہیں وُہ ماجدؔ کا انداز پرانا ہے
ماجد صدیقی

دیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصل

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 62
طالعِ خفتۂ دشمن نہ جگانا شبِ وصل
دیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصل
ان کو منظور نہیں نیند کا آنا شبِ وصل
اس لئے کہتے ہیں غیروں کا فسانہ شبِ وصل
صبر پروانے کا مجھ پر نہ پڑے ڈرتا ہوں
ماہ رو شمع کو ہرگز نہ جلانا شبِ وصل
خواہشِ کامِ دل اتنی نہ کر اے شوق کہ وہ
ڈھونڈتے ہیں چلے جانے کو بہانا شبِ وصل
آپ منت سے بلانے تجھے کیوں کر آؤں
غیر کے گھر میں ہے تیرا تو ٹھکانا شبِ وصل
شان میں صحبتِ ناکس سے خلل آتا ہے
صبحِ ہجراں کو بس اب منہ نہ لگانا شبِ وصل
تیرگی بختِ سیہ سے مرے لا جا کہ ضرور
جلوہ اس مہر لقا کا ہے چھپانا شبِ وصل
روزِ ہجراں میں اٹھے جاتے ہو کیوں دنیا سے
شیفتہ اور بھی تم لطف اٹھانا شبِ وصل
مصطفٰی خان شیفتہ