ٹیگ کے محفوظات: مچائے

پھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 173
خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے
پھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئے
انہیں شہروں کوشتابی سے لپیٹا بھی گیا
جو عجب شوق فراخی سے بچھائے بھی گئے
بزمِ شوق کا کسی کی کہیں کیا حال جہاں
دل جلائے بھی گئے اور بجھائے بھی گئے
پشت مٹی سے لگی جس میں ہماری لوگو!
اُسی دنگل میں ہمیں داؤ سِکھائے بھی گئے
یادِ ایام کہ اک محفلِ جاں تھی کہ جہاں
ہاتھ کھینچے بھی گئے اور مِلائے بھی گئے
ہم کہ جس شہر میں تھے سوگ نشینِ احوال
روز اس شہر میں ہم دھوم مچائے بھی گئے
یاد مت رکھیو رُوداد ہماری ہرگز
ہم تھے وہ تاج محل جون جو ڈھائے بھی گئے
جون ایلیا

طاقِ اُمید میں یہ دیپ جلائے رکھو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 30
تندیِٔ باد سے آنکھوں کو بچائے رکھو
طاقِ اُمید میں یہ دیپ جلائے رکھو
میری خوش فہمیاں بھی میری وفا کا ہیں ثبوت
اُس کا فرمان جو ہے، آس لگائے رکھو
تم کہ شائستۂِ غم ہو، یہ تمہیں لازم ہے
ایک مسکان سی ہونٹوں پہ سجائے رکھو
قدرِ یک جام تمہیں بعد میں ہو گی معلوم
ربط دنیا سے کوئی دیر گنوائے رکھو
غم خود افروز بھی ہے تجربہ آموز بھی ہے
روز بڑھتا ہے اسے روز گھٹائے رکھو
جس کا سُن سکنا جفا کار کی فطرت میں نہیں
عادتاً تم بھی وہی شور مچائے رکھو
آفتاب اقبال شمیم