ٹیگ کے محفوظات: مچائی

دوستو آگے چڑھائی ہے بہت

تم نے گو ہمت دلائی ہے بہت
دوستو آگے چڑھائی ہے بہت
کہہ رہی ہے آج بھی نہرِ فرات
ساتھ ہو تو ایک بھائی ہے بہت
روز اک تازہ امید اک تازہ رنج
ہم کو غربت راس آئی ہے بہت
اے خرد اب کچھ مرے دل کی بھی سوچ
اِس نے بھی آفت مچائی ہے بہت
بیٹھتا ہے شیخ کب رندوں کے پاس
اُس کو زعمِ پارسائی ہے بہت
دیس کی کایا پلٹنے کے لیے
ذوق ہو تو اک دہائی ہے بہت
باصر کاظمی

نیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شب

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 39
تھا غیر کا جو رنجِ جدائی تمام شب
نیند ان کو میرے ساتھ نہ آئی تمام شب
شکوہ مجھے نہ ہو جو مکافات حد سے ہو
واں صلح ایک دم ہے لڑائی تمام شب
یہ ڈر رہا کہ سوتے نہ پائیں کہیں مجھے
وعدے کی رات نیند نہ آئی تمام شب
سچ تو یہ ہے کہ بول گئے اکثر اہلِ شوق
بلبل نے کی جو نالہ سرائی تمام شب
دم بھر بھی عمر کھوئی جو ذکرِ رقیب میں
کیفیتِ وصال نہ پائی تمام شب
تھوڑا سا میرے حال پہ فرما کر التفات
کرتے رہے وہ اپنی بڑائی تمام شب
وہ آہ، تار و پود ہو جس کا ہوائے زلف
کرتی ہے عنبری و صبائی تمام شب
وہ صبح جلوہ، جلوہ گرِ باغ تھا جو رات
مرغِ سحر نے دھوم مچائی تمام شب
افسانے سے بگاڑ ہے، ان بن ہے خواب سے
ہے فکرِ وصل و ذکرِ جدائی تمام شب
جس کی شمیمِ زلف پہ میں غش ہوں شیفتہ
اس نے شمیمِ زلف سنگھائی تمام شب
مصطفٰی خان شیفتہ

مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 232
تری قیمت گھٹائی جا رہی ہے
مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے
یہ ہے تعمیرِ دنیا کا زمانہ
حویلی دل کی ڈھائی جا رہی ہے
وہ شے جو صرف ہندوستان کی تھی
وہ پاکستان لائی جا رہی ہے
کہاں کا دین۔۔کیسا دین۔۔کیا دین
یہ کیا گڑ بڑ مچائی جا رہی ہے
شعورِ آدمی کی سر زمیں تک
خدا کی اب دُہائی جا رہی ہے
بہت سی صورتیں منظر میں لا کر
تمنا آزمائی جا رہی ہے
مجھے اب ہوش آتا جا رہا ہے
خدا تیری خدائی جا رہی ہے
نہیں معلوم کیا سازش ہے دل کی
کہ خود ہی مات کھائی جا رہی ہے
***
نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
تیری فرقت منائی جا رہی ہے
ہے ویرانی کی دھوپ اور ایک آنگن
اور اس پر لُو چلائی جا رہی ہے
نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے
کہ اب سب سے نبھائی جا رہی ہے
کہاں لذت وہ سوزِ جستجو کی
یہاں ہر چیز پائی جا رہی ہے
سُن اے سورج جدائی موسموں کے
میری کیاری جلائی جا رہی ہے
بہت بدحال ہیں بستی، تیرے لوگ
تو پھر تُو کیوں سجائی جا رہی ہے
خوشا احوال اپنی زندگی کا
سلیقے سے گنوائی جا رہی ہے
جون ایلیا

بو کہ پھر کر بہار آئی ہے

دیوان پنجم غزل 1780
گل قفس تک نسیم لائی ہے
بو کہ پھر کر بہار آئی ہے
عشق دریا ہے ایک لنگردار
تہ کسو نے بھی اس کی پائی ہے
وہ نہ شرماوے کب تلک آخر
دوستی یاری آشنائی ہے
وے نہیں تو انھوں کا بھائی اور
عشق کرنے کی کیا منائی ہے
بے ستوں کوہکن نے کیا توڑا
عشق کی زور آزمائی ہے
بھیڑیں ٹلتی ہیں اس کے ابرو ہلے
چلی تلوار تو صفائی ہے
لڑکا عطار کا ہے کیا معجون
ہم کو ترکیب اس کی بھائی ہے
کج روی یار کی نہیں جاتی
یہی بے طور بے ادائی ہے
آنے کہتا ہے پھر نہیں آتا
یہی بدعہدی بے وفائی ہے
کر چلو نیکی اب تو جس تس سے
شاید اس ہی میں کچھ بھلائی ہے
برسوں میں میر سے ملے تو کہا
اس سے پوچھو کہ یہ کجائی ہے
میر تقی میر