ٹیگ کے محفوظات: مٹی کا زنگ

مٹی کا زنگ

کیسے پیلے رنگ اُمنڈ کر آئے چاروں جانب سے

پتوں کی بارش میں ہم تو بھیگ گئے

کس بستی میں دھوپ کا نعمہ سُننے جائیں

سارے رستے سوچوں کے

جاتے ہیں بے انت نشیبوں کی جانب

قدموں کے آگے ابہام کی دلدل ہے

دل کی دہشت نگری کے سنّاٹے میں

کالے فوجی بوٹوں کی آواز سنائی دیتی ہے

بگل بجاؤ

رات کی اس ڈھلوان سے اُتریں

پسپا ہونے والی فوجیں

آج کا آرم رات گزرنے سے پہلے مر جائے گا

(کل بھی ہم نے حرف بہ حرف یہی سوچا تھا)

نہر کی سوکھی، سکڑی رگوں میں

ہول اُڑتا ہے

چوٹیاں اپنی دودھ سے خالی چھاتیاں کھولے بیٹھی ہیں

وہ اک ہو کے عالم میں

جھانک رہے ہیں آنکھوں کے سوراخوں سے

اور بقا کی خانہ جنگی

ہر زینے پر، ہر کمرے میں جاری ہے

آفتاب اقبال شمیم