ٹیگ کے محفوظات: مٹا

وہ رات ہے کہ دیا بھی جلا نہیں سکتا

کہاں کی آہ و فغاں لب ہلا نہیں سکتا
وہ رات ہے کہ دیا بھی جلا نہیں سکتا
وہ نقش چھوڑ گئے زندگی میں اہلِ ہنر
فنا کا ہاتھ بھی جن کو مٹا نہیں سکتا
وہ پیڑ دیکھے ہیں میں نے سفر میں اب کے برس
زمینِ شعر میں جن کو اُگا نہیں سکتا
جو میرا دوست نہ ہو کر بھی میرے کام آیا
میں ایسے شخص کو دشمن بنا نہیں سکتا
شریکِ سازشِ دل ایسا کون تھا باصرِؔ
تُو جس کا نام بھی ہم کو بتا نہیں سکتا
باصر کاظمی

سکوتِ شب کو کھٹک رہا ہوں، بہت برا ہوں

میں خود پسندی میں مبتلا ہوں، بہت برا ہوں
سکوتِ شب کو کھٹک رہا ہوں، بہت برا ہوں
مرے تعاقب میں نامرادی کا جِن لگا ہے
ہزار سالوں سے گھر پڑا ہوں، بہت برا ہوں
کئی حسینوں نے معذرت کے خطوط بھیجے
مگر میں پھر بھی لگا ہوا ہوں، بہت برا ہوں
نمک حرامی کروں گا دنیا کو چھوڑ دوں گا
تری محبت پر تھوکتا ہوں، بہت برا ہوں
تمام حوریں مری محبت سے باز آئیں
میں جنّتی ہوں مگر برا ہوں، بہت برا ہوں
مرے حواری، مری محبت کو عام کریو
میں ربِ غربت پہ مر مٹا ہوں، بہت برا ہوں
فلک نے رستہ دکھا دیا تو چلے چلیں گے
اسی بہانے تو لاپتہ ہوں، بہت برا ہوں
افتخار فلک

کسی طرح ہی سے دیجے، مجھے سزا دیجے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
ثبوتِ جرم کی صورت کوئی بنا دیجے
کسی طرح ہی سے دیجے، مجھے سزا دیجے
اُٹھے جو حرفِ حمایت کوئی مرے حق میں
دمِ نمود سے پہلے اُسے دبا دیجے
دراز قد ہوں تو پھر گاڑئیے زمیں میں مجھے
جو فرق اعلیٰ و ادنیٰ میں ہے مٹا دیجے
گرفت گر مری پرواز پر نہیں ہے تو کیا
نظر کی آگ سے ہی پر مرے جلا دیجے
کتابِ عدل میں کیا؟ جو تہہِ خیال میں ہے
وُہ حکمِ خاص بھی اَب خیر سے سُنا دیجے
کھنچو نہ میرے نشیمن کے ہم نشیں پتّو!
یہ جل اٹُھا ہے تو تُم بھی اِسے ہوا دیجے
میانِ دیدہ و لب، شعلۂ بیاں ماجدؔ!
کہو اُنہیں کہ جہاں بھی اُٹھے،بُجھا دیجے
ماجد صدیقی

کہ جاناں سے بھی جی ملا جانتا ہے

دیوان پنجم غزل 1783
یہی عشق ہے جی کھپا جانتا ہے
کہ جاناں سے بھی جی ملا جانتا ہے
بدی میں بھی کچھ خوبی ہووے گی تب تو
برا کرنے کو وہ بھلا جانتا ہے
مرا شعر اچھا بھی دانستہ ضد سے
کسو اور ہی کا کہا جانتا ہے
زمانے کے اکثر ستم گار دیکھے
وہی خوب طرز جفا جانتا ہے
نہیں جانتا حرف خط کیا ہیں لکھے
لکھے کو ہمارے مٹا جانتا ہے
نہ جانے جو بیگانہ تو بات پوچھے
سو مغرور کب آشنا جانتا ہے
نہیں اتحاد تن و جاں سے واقف
ہمیں یار سے جو جدا جانتا ہے
میر تقی میر

اغلال و سلاسل ٹک اپنی بھی ہلا جاوے

دیوان پنجم غزل 1781
یارب کوئی دیوانہ بے ڈھنگ سا آجاوے
اغلال و سلاسل ٹک اپنی بھی ہلا جاوے
خاموش رہیں کب تک زندان جہاں میں ہم
ہنگامہ قیامت کا شورش سے اٹھا جاوے
کب عشق کی وادی ہے سر کھینچنے کی جاگہ
ہو سیل بھلا سا تو منھ موڑ چلا جاوے
عاشق میں ہے اور اس میں نسبت سگ و آہو کی
جوں جوں ہو رمیدہ وہ توں توں یہ لگا جاوے
افسوس کی جاگہ ہے یاں باز پسیں دم میں
ہو روبرو آئینہ وہ منھ کو چھپا جاوے
ان نو خطوں سے میری قسمت میں تو تھی خواری
کس طرح لکھا میرا کوئی آ کے مٹا جاوے
دیکھ اس کو ٹھہر رہنا ثابت قدموں سے ہو
اس راہ سے آوے تو ہم سے نہ رہا جاوے
کہیے جہاں کرتا ہو تاثیر سخن کچھ بھی
وہ بات نہیں سنتا کیا اس سے کہا جاوے
یہ رنگ رہے دیکھیں تاچند کہ وہ گھر سے
کھاتا ہوا پان آکر باتوں کو چبا جاوے
ہم دیر کے جنگل میں بھولے پھرے ہیں کب کے
کعبے کا ہمیں رستہ خضر آ کے بتا جاوے
ہاتھوں گئی خوباں کے کچھ شے نہیں پھر ملتی
کیونکر کوئی اب ان سے دل میرا دلا جاوے
یہ ذہن و ذکا اس کا تائید ادھر کی ہے
ٹک ہونٹ ہلے تو وہ تہ بات کی پا جاوے
یوں خط کی سیاہی ہے گرد اس رخ روشن کے
ہر چار طرف گاہے جوں بدر گھرا جاوے
کیا اس کی گلی میں ہے عاشق کسو کی رویت
آلودئہ خاک آوے لوہو میں نہا جاوے
ہے حوصلہ تیرا ہی جو تنگ نہیں آتا
کس سے یہ ستم ورنہ اے میر سہا جاوے
میر تقی میر

کیا جانیے کیا ہو گا آخر کو خدا جانے

دیوان اول غزل 581
انجام دل غم کش کوئی عشق میں کیا جانے
کیا جانیے کیا ہو گا آخر کو خدا جانے
واں آرسی ہے وہ ہے یاں سنگ ہے چھاتی ہے
گذرے ہے جو کچھ ہم پر سو اس کی بلا جانے
ناصح کو خبر کیا ہے لذت سے غم دل کی
ہے حق بہ طرف اس کے چکھے تو مزہ جانے
میں خط جبیں اپنا یارو کسے دکھلائوں
قسمت کے لکھے کے تیں یاں کون مٹا جانے
بے طاقتی دل نے ہم کو نہ کیا رسوا
ہے عشق سزا اس کو جو کوئی چھپا جانے
اس مرتبہ ناسازی نبھتی ہے دلا کوئی
کچھ خُلق بھی پیدا کر تا خلق بھلا جانے
لے جایئے میر اس کے دروازے کی مٹی بھی
اس درد محبت کی جو کوئی دوا جانے
میر تقی میر

اس بائو نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا

دیوان اول غزل 144
آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا
اس بائو نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا
سمجھی نہ باد صبح کہ آکر اٹھا دیا
اس فتنۂ زمانہ کو ناحق جگا دیا
پوشیدہ راز عشق چلا جائے تھا سو آج
بے طاقتی نے دل کی وہ پردہ اٹھا دیا
اس موج خیز دہر میں ہم کو قضا نے آہ
پانی کے بلبلے کی طرح سے مٹا دیا
تھی لاگ اس کی تیغ کو ہم سے سو عشق نے
دونوں کو معرکے میں گلے سے ملا دیا
سب شور ما ومن کو لیے سر میں مر گئے
یاروں کو اس فسانے نے آخر سلا دیا
آوارگان عشق کا پوچھا جو میں نشاں
مشت غبار لے کے صبا نے اڑا دیا
اجزا بدن کے جتنے تھے پانی ہو بہ گئے
آخر گداز عشق نے ہم کو بہا دیا
کیا کچھ نہ تھا ازل میں نہ طالع جو تھے درست
ہم کو دل شکستہ قضا نے دلا دیا
گویا محاسبہ مجھے دینا تھا عشق کا
اس طور دل سی چیز کو میں نے لگا دیا
مدت رہے گی یاد ترے چہرے کی جھلک
جلوے کو جس نے ماہ کے جی سے بھلا دیا
ہم نے تو سادگی سے کیا جی کا بھی زیاں
دل جو دیا تھا سو تو دیا سر جدا دیا
بوے کباب سوختہ آئی دماغ میں
شاید جگر بھی آتش غم نے جلا دیا
تکلیف درد دل کی عبث ہم نشیں نے کی
درد سخن نے میرے سبھوں کو رلا دیا
ان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میر
ہم نے بھی ایک دم میں تماشا دکھا دیا
میر تقی میر

اٹھایا جاؤں تو پھر شاخ پر لگا کے دکھا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 62
خدائے برگ! مجھے خاک سے اٹھا کے دکھا
اٹھایا جاؤں تو پھر شاخ پر لگا کے دکھا
میں سنگِ شام سے سر پھوڑنے چلا ہوں ذرا
کنول سے خواب مجھے میری ابتدا کے دکھا
میں نیل نیل ترا حلفیہ بیاں تو پڑھوں
فگار پشت سے کُرتا ذرا اٹھا کے دکھا
تجھے میں ہدیۂِ تائید دوں مگر پہلے
مرے وجود سے حرفِ نفی مٹا کے دکھا
تو پربتوں کو زمیں پر پچھاڑ دے تو کیا
ہوس کو جسم کے گھمسان میں ہرا کے دکھا
اسی کے نام کی ہر سُو اذاں سنائی دے
نقیبِ شہر! ہمیں معجزے صدا کے دکھا
نظر فروز ہو جو کل کی سرخیوں کی طرح
وہ لفظ آج سرِ طاقِ لب جلا کے دکھا
آفتاب اقبال شمیم

جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 30
نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا
مرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دُشمناں کو خبر کرو
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر، وہ حساب آج چُکا دیا
کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا
اُدھر ایک حرف کہ کُشتنی، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو سُن کے اُڑا دیا، جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا
جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم ، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا
فیض احمد فیض