ٹیگ کے محفوظات: مٹائے

پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 174
ہم بصد ناز دل و جاں ‌ میں بسائے بھی گئے
پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے
ہم ترا ناز تھے ، پھر تیری خوشی کی خاطر
کر کے بے چارہ ترے سامنے لائے بھی گئے
کج ادائی سے سزا کج کلہی کی پائی
میرِ محفل تھے سو محفل سے اٹھائے بھی گئے
کیا گلہ خون جو اب تھوک رہے ہیں ‌ جاناں
ہم ترے رنگ کے پرتَو سے سجائے بھی گئے
ہم سے روٹھا بھی گیا ہم کو منایا بھی گیا
پھر سبھی نقش تعلق کے مٹائے بھی گئے
جمع و تفریق تھے ہم مکتبِ جسم و جاں ‌ کی
کہ بڑھائے بھی گئے اور گھٹائے بھی گئے
جون، دلِ شہرِ حقیقت کو اجاڑا بھی گیا
اور پھر شہر توّہم کے بسائے بھی گئے
جون ایلیا

یہ صعوبت کب تلک کوئی اٹھائے

دیوان پنجم غزل 1766
درد و غم سے دل کبھو فرصت نہ پائے
یہ صعوبت کب تلک کوئی اٹھائے
طفل تہ بازار کا عاشق ہوں میں
دل فروشی کوئی مجھ سے سیکھ جائے
زار رونا چشم کا کب دیکھتے
دیکھیں ہیں لیکن خدا جو کچھ دکھائے
کب تلک چاک قفس سے جھانکیے
برگ گل یاں بھی صبا کوئی تو لائے
کب سے ہم کو ہے تلاش دست غیب
تا کمر پیچ اس کا اپنے ہاتھ آئے
اس کی اپنی بنتی ہی ہرگز نہیں
بگڑی صحبت ایسی کیا کوئی بنائے
جو لکھی قسمت میں ذلت ہو سو ہو
خط پیشانی کوئی کیونکر مٹائے
داغ ہے مرغ چمن پائیز سے
دل نہ ہو جلتا جو اس کا گل نہ کھائے
زخم سینہ میرا اس کے ہاتھ کا
ہو کوئی رجھواڑ تو اس کو رجھائے
میر اکثر عمر کے افسوس میں
زیر لب بالاے لب ہے ہائے وائے
میر تقی میر

ہونٹوں پہ جان آئی پر آہ وے نہ آئے

دیوان اول غزل 549
کل وعدہ گاہ میں سے جوں توں کے ہم کو لائے
ہونٹوں پہ جان آئی پر آہ وے نہ آئے
زخموں پہ زخم جھیلے داغوں پہ داغ کھائے
یک قطرہ خون دل نے کیا کیا ستم اٹھائے
اس کی طرف کو ہم نے جب نامہ بر چلائے
ان کا نشاں نہ پایا خط راہ میں سے پائے
خوں بستہ جب تلک تھیں در یا رکے کھڑے تھے
آنسو گرے کروڑوں پلکوں کے ٹک ہلائے
اس جنگ جو کے زخمی اچھے نہ ہوتے دیکھے
گل جب چمن میں آئے وے زخم سب دکھائے
بڑھتیں نہیں پلک سے تا ہم تلک بھی پہنچیں
پھرتی ہیں وے نگاہیں پلکوں کے سائے سائے
پر کی بہار میں جو محبوب جلوہ گر تھے
سو گردش فلک نے سب خاک میں ملائے
ہر قطعۂ چمن پر ٹک گاڑ کر نظر کر
بگڑیں ہزار شکلیں تب پھول یہ بنائے
یک حرف کی بھی مہلت ہم کو نہ دی اجل نے
تھا جی میں آہ کیا کیا پر کچھ نہ کہنے پائے
چھاتی سراہ ان کی پائیز میں جنھوں نے
خار و خس چمن سے ناچار دل لگائے
آگے بھی تجھ سے تھا یاں تصویر کا سا عالم
بے دردی فلک نے وے نقش سب مٹائے
مدت ہوئی تھی بیٹھے جوش و خروش دل کو
ٹھوکر نے اس نگہ کی آشوب پھر اٹھائے
اعجاز عشق ہی سے جیتے رہے وگرنہ
کیا حوصلہ کہ جس میں آزار یہ سمائے
دل گر میاں انھوں کی غیروں سے جب نہ تب تھیں
مجلس میں جب گئے ہم غیرت نے جی جلائے
جیتے تو میر ہر شب اس طرز عمر گذری
پھر گور پر ہماری لے شمع گو کہ آئے
میر تقی میر