ٹیگ کے محفوظات: مِلا

وہ کسی خوابِ گریزاں میں مِلا ہے سو کہاں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 58
دشتِ افسُردہ میں اک پھول کھلا ہے سو کہاں
وہ کسی خوابِ گریزاں میں مِلا ہے سو کہاں
ہم نے مدت سے کوئی ہجو نہ واسوخت کہی
وہ سمجھتے ہیں ہمیں اُن سے گلہ ہے سو کہاں
ہم تیری بزم سے اُٹھے بھی تو خالی دامن
لوگ کہتے ہیں کہ ہر دُ کھ کا صلہ ہے سو کہاں
آنکھ اسی طور برستی ہے تو دل رستا ہے
یوں تو ہر زخم قرینے سے سِلا ہے سو کہاں
بارہا کوچۂ جاناں سے بھی ہو آئے ہیں
ہم نے مانا کہیں جنت بھی دلا ہے سو کہاں
جلوۂ دوست بھی دُھندلا گیا آخر کو فراز
ورنہ کہنے کو تو غم، دل کی جلا ہے سو کہاں
احمد فراز

جانے ہم خود میں کہ ناخود میں رہا کرتے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 119
کب پتا یار کو ہم اپنے لکھا کرتے ہیں
جانے ہم خود میں کہ ناخود میں رہا کرتے ہیں
اب تم شہرکے آداب سمجھ لو جانی
جو مِلا ہی نہیں کرتے وہ مِلا کرتے ہیں
جہلا علم کی تعظیم میں برباد گئے
جہل کا عیش جو ہے وہ علما کرتے ہیں
لمحے لمحے میں جیو جان اگر جینا ہے
یعنی ہم حرصِ بقا کو بھی فنا کرتے ہیں
جانے اس کوچہء حالت کا ہے کیا حال کہ ہم
اپنے حجرے سے بہ مشکل ہی اُٹھا کرتے ہیں
میں جو کچھ بھی نہیں کرتا ہوں یہ ہے میرا سوال
اور سب لوگ جو کرتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں
اب یہ ہے حالتِ احوال کہ اک یاد سے ہم
شام ہوتی ہے تو بس رُوٹھ لیا کرتے ہیں
جس کو برباد کیا اس کے فداکاروں نے
ہم اب اس شہر کی رُوداد سنا کرتے ہیں
شام ہو یا کہ سحر اب خس و خاشاک کو ہم
نزرِ پُرمایگئ جیبِ صبا کرتے ہیں
جن کو مُفتی سے کدورت ہو نہ ساقی سے گِلہ
وہی خوش وقت مری جان رہا کرتے ہیں
ایک پہنائے عبث ہے جسے عالم کہیے
ہو کوئی اس کا خدا ہم تو دعا کرتے ہیں
جون ایلیا

اب میں لبِ زخمِ بے گِلہ ہوں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 91
خود مست ہوں خود سے آملا ہوں
اب میں لبِ زخمِ بے گِلہ ہوں
میں ہمسفروں کی گرد کے بیچ
اک خود سفری کا قافلہ ہوں
خوشبو کے بدن میں تیرا ملبوس
دم لے کہ ابھی نہیں سِلا ہوں
میں نشہء ذات میں نہتا
احباب سے اپنے آ مِلا ہوں
میں صر صرِ لفظ میں ہوں معنی
پس اپنی جگہ سے کب ہِلا ہوں
جون ایلیا