ٹیگ کے محفوظات: مَیں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 29
حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں
چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
ہر اک سے پُو چھتا ہوں کہ “ جاؤں کدھر کو مَیں“
جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش جانتا نہ تری رہ گزر کو مَیں
ہے کیا، جو کس@ کے باندھیے میری بلا ڈرے
کیا جانتا نہیں ہُوں تمھاری کمر کو مَیں
لو، وہ بھی کہتے ہیں کہ ’یہ بے ننگ و نام ہے‘
یہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو مَیں
چلتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک تیز رَو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہُوں ابھی راہبر کو مَیں
خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
کیا پُوجتا ہوں اس بُتِ بیداد گر کو مَیں
پھر بے خودی میں بھول گیا راہِ کوئے یار
جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو مَیں
اپنے پہ کر رہا ہُوں قیاس اہلِ دہر کا
سمجھا ہوں دل پذیر متاعِ ہُنر کو میں
غالب خدا کرے کہ سوارِ سمندرِ ناز
دیکھوں علی بہادرِ عالی گُہر کو میں
مرزا اسد اللہ خان غالب

مَیں

تمہیں معلوم ہی کیا’ کون ہوں میں

کون سے ملتے بچھڑتے پل کے سنگم پر

کسی اسرار نے اپنی سنہری دھڑکنوں کی تال پر

مٹی سے بالیدہ کیا مجھ کو

تمہیں معلوم ہی کیا

اُس جہانوں کے جہاں والے نے

کس خوش بخت کو شہزادگی بخشی

چٹکتے کیسری لمحے کی بے سایہ زمینوں کی

تمہیں تو چاہئے تھا وقت سے لمحہ چرا کر

مجھ سے ملتے اُس ابد آباد جہلم کے محلے میں

جہاں کی تنگنائی سے افق کی وسعتوں تک

سرحدیں تھیں میری کشور کی

کہاں مہلت ملی تم کو

کہ آ کر دیکھتے آوارگی کے تخت پر اُڑتے سلیماں کو

کبھی تم دیکھتے آ کر

صبا کے ساتھ قصرِ خواب کی پھلواریوں میں گُھومتی

اُس موج پِیچاں کو

تمہیں معلوم ہی کیا، کون ہوں میں

ایک چوتھائی صدی سے عمر کی لمبی گلی میں

روز ہی جاتا ہوں دریوزہ گری کرنے

زمیں زادہ خداوندانِ نعمت کے دروں پر نوکری کرنے

آفتاب اقبال شمیم