ٹیگ کے محفوظات: مَل

بارش میں گلاب جل رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 120
موسم کا عذاب چل رہا ہے
بارش میں گلاب جل رہا ہے
پھر دیدہ و دل کی خیر یارب!
پھر ذہن میں خواب پل رہا ہے
صحرا کے سفر میں کب ہوں
تنہا ہمراہ سراب چل رہا ہے
آندھی میں دُعا کو بھی نہ اُٹھا
یوں دستِ گُلاب شل رہا ہے
کب شہرِ جمال میں ہمیشہ
وحشت کا عتاب چل رہا ہے
زخموں پہ چھڑک رہا ہے خوشبو
آنکھوں پہ گلاب مَل رہا ہے
ماتھے پہ ہَوانے ہاتھ رکھے
جسموں کو سحاب جھل رہا ہے
موجوں نے وہ دُکھ دیے بدن کو
اب لمسِ حباب کَھل رہا ہے
قرطاسِ بدن پہ سلوٹیں ہیں
ملبوسِ کتاب ،گل رہا ہے
پروین شاکر

دیکھوں تو نظر بدل رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 116
سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے
دیکھوں تو نظر بدل رہا ہے
کیوں بات زباں سے کہہ کے کھوئی
دل آج بھی ہاتھ مَل رہا ہے
راتوں کے سفر میں وہم ساتھا
یہ میں ہوں کہ چاند چل رہا ہے
ہم بھی ترے بعد جی رہے ہیں
اور تُو بھی کہیں بہل رہا ہے
سمجھا کے ابھی گئی ہیں سکھیاں
اور دل ہے کہ پھر مچل رہا ہے
ہم ہی بُرے ہو گئےِ_کہ تیرا
معیارِ وفا بدل رہا ہے
پہلی سی وہ روشنی نہیں اب
کیا درد کا چاند ڈھل رہا ہے
پروین شاکر