ٹیگ کے محفوظات: مو

دریدہ دامن و آشفتہ مو ہماری طرح

احمد فراز ۔ غزل نمبر 35
پھرے گا تو بھی یونہی کو بکو ہماری طرح
دریدہ دامن و آشفتہ مو ہماری طرح
کبھی تو سنگ سے پھوٹے گی آبجو غم کی
کبھی تو ٹوٹ کے روئے گا تو ہماری طرح
پلٹ کے تجھ کو بھی آنا ہے اس طرف لیکن
لٹا کے قافلۂ رنگ و بو ہماری طرح
یہ کیا کہ اہل ہوس بھی سجائے پھرتے ہیں
دلوں پہ داغ جبیں پر لہو ہماری طرح
وہ لاکھ دشمن جاں ہو مگر خدا نہ کرے
کہ اس کا حال بھی ہو ہُو بہو ہماری طرح
ہمی فراز سزاوار سنگ کیوں ٹھرے
کہ اور بھی تو ہیں دیوانہ خو ہماری طرح
احمد فراز

اے دل! خیالِ طرہ تابیدہ مو نہیں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 77
یہ پیچ و تاب میں شبِ غم بے حواسیاں
اے دل! خیالِ طرہ تابیدہ مو نہیں
دستِ جنوں نے جامہ ہستی قبا کیا
اب ہائے چارہ گر کو خیالِ رفو نہیں
شکرِ ستم بھی راس نہ آیا ہمیں کہ اب
کہتے ہیں وہ کہ لائقِ الطاف تو نہیں
ہرجائی اپنے وحشی کو منہ سے یہ کہتے ہو
کیا آپ کا نشانِ قدم کو بکو نہیں
نیرنگیوں نے تیری یہ حالت تغیر کی
امید زندگی کی کبھو ہے، کبھو نہیں
کیا ہو سکے کسی سے علاج اپنا شیفتہ
اس گل پہ غش ہیں جس میں محبت کی بو نہیں
مصطفٰی خان شیفتہ

میں بھی برباد ہو گیا، تو بھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 152
خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی
میں بھی برباد ہو گیا، تو بھی
حسنِ مغموم، تمکنت میں تری
فرق آیا نہ یک سرِ مو بھی
یہ نہ سوچا تھا زیرِ سایہ ءِ زلف
کہ بچھڑ جائے گی یہ خوشبو بھی
حسن کہتا تھا چھیڑنے والے
چھیڑنا ہی تو بس نہیں چھو بھی
ہائے اس کا وہ موج خیز بدن
میں تو پیاسا رہا لبِ جُو بھی
یاد آتے ہیں معجزے اپنے
اور اس کے بدن کا جادو بھی
یاسمیں! اس کی خاص محرمِ راز
یاد آیا کرے گی اب تو بھی
یاد سے اس کی ہے مرا پرہیز
اے صبا اب نہ آئیو تو بھی
ہیں یہی جون ایلیا جو کبھی
سخت مغرور بھی تھے، بد خو بھی
جون ایلیا

خارِ پا ہیں جوہرِ آئینۂ زانو مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 238
پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
خارِ پا ہیں جوہرِ آئینۂ زانو مجھے
دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقت@
ہے نگاہِ آشنا تیرا سرِ ہر مو مجھے
ہوں سراپا سازِ آہنگِ شکایت کچھ نہ پوچھ
ہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
@ نسخۂ مہرمیں ” ہم آغوشی کے بعد”
مرزا اسد اللہ خان غالب

جان عزیز ابھی ہے مری آبرو کے ساتھ

دیوان چہارم غزل 1483
حیرت طلب کو کام نہیں ہے کسو کے ساتھ
جان عزیز ابھی ہے مری آبرو کے ساتھ
یک رنگ آشنا ہیں خرابات ہی کے لوگ
سرمیکشوں کے پھوٹتے دیکھے سبو کے ساتھ
قمری کا لوہو پانی ہوا ایک عشق میں
آتا ہے اس کا خون جگر آب جو کے ساتھ
خالی نہیں ہے خواہش دل سے کوئی بشر
جاتے ہیں سب جہان سے یک آرزو کے ساتھ
دم میں ہے دم جہاں تئیں گرم تلاش ہوں
سو پیچ و تاب رہتے ہیں ہر ایک مو کے ساتھ
کیا اضطراب عشق سے میں حرف زن ہوں میر
منھ تک جگر تو آنے لگا گفتگو کے ساتھ
میر تقی میر

غصے سے تیغ اکثر اپنے رہی گلو پر

دیوان سوم غزل 1139
کیا جانیں گے کہ ہم بھی عاشق ہوئے کسو پر
غصے سے تیغ اکثر اپنے رہی گلو پر
ہر کوئی چاہتا ہے سرمہ کرے نظر کا
ہونے لگے ہیں اب تو خون اس کی خاک کو پر
کر باغباں حیا ٹک گل کو نہ ہاتھ میں مل
دیتی ہے جان بلبل پھولوں کے رنگ و بو پر
حسرت سے دیکھتے ہیں پرواز ہم صفیراں
شائستہ بھی ہمارے ایسے ہی تھے کبھو پر
حرف و سخن کرے ہے کس لطف سے برابر
سلک گہر بھی صدقے کی اس کی گفتگو پر
گو شوق سے ہو دل خوں مجھ کو ادب وہی ہے
میں رو کبھو نہ رکھا گستاخ اس کے رو پر
تن راکھ سے ملا سب آنکھیں دیے سی جلتی
ٹھہری نظر نہ جوگی میر اس فتیلہ مو پر
میر تقی میر

لے گئے پیش فلک اس مہ کا ایسا رو کہاں

دیوان دوم غزل 888
گر کوئی اعمیٰ کہے کچھ پر کہاں وہ تو کہاں
لے گئے پیش فلک اس مہ کا ایسا رو کہاں
گل کو کیا نسبت ہے تجھ سے میں نہ مانوں زینہار
رنگ اگر بالفرض تیرا سا ہوا یہ بو کہاں
عشق لاتا ہے بروے کار مجنوں سا کبھو
بید بہتیرے کھڑے ہیں وے پریشاں مو کہاں
دیکھیاں کجیاں کمانوں کی بھی خم محراب کے
پر دلوں کو کھینچتے ہیں جیسے وے ابرو کہاں
سنبل آپھی آپ پیچ و تاب یوں کھایا کرے
یار کی سی زلف کے وے حلقہ حلقہ مو کہاں
آگے یہ آنکھیں گلے کی ہار ہی رہتی تھیں روز
اب جگر میں خوں نہیں وے سہرے سے آنسو کہاں
میر سچ کہتا تھا جنت ہو نصیب اس کے تئیں
حور کا چہرہ کہاں اس کا رخ نیکو کہاں
میر تقی میر

گویا وفا ہے عہد میں اس کے کبھو کی بات

دیوان دوم غزل 782
کیا پوچھتے ہو آہ مرے جنگجو کی بات
گویا وفا ہے عہد میں اس کے کبھو کی بات
اس باغ میں نہ آئی نظر خرمی مری
گر سبز بھی ہوا ہوں تو جیسے کسو کی بات
آئینہ پانی پانی رہا اس کے سامنے
کہیے جہاں کہوں یہ تو ہے روبرو کی بات
سر گل نے پھر جھکا کے اٹھایا نہ شرم سے
گلزار میں چلی تھی کہیں اس کے رو کی بات
حرمت میں مے کی کہنے سے واعظ کے ہے فتور
کیا اعتبار رکھتی ہے اس پوچ گو کی بات
ہم سوختوں میں آتش سرکش کا ذکر کیا
چل بھی پڑی ہے بات تو اس تند خو کی بات
کیا کوئی زلف یار سے حرف و سخن کرے
رکھتی ہے میر طول بہت اس کے مو کی بات
میر تقی میر

نظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی

دیوان اول غزل 434
یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کی
نظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی
سحر پاے گل بے خودی ہم کو آئی
کہ اس سست پیماں میں بو تھی کسو کی
یہ سرگشتہ جب تک رہا اس چمن میں
برنگ صبا جستجو تھی کسو کی
نہ ٹھہری ٹک اک جان بر لب رسیدہ
ہمیں مدعا گفتگو تھی کسو کی
جلایا شب اک شعلۂ دل نے ہم کو
کہ اس تند سرکش میں خو تھی کسو کی
نہ تھے تجھ سے نازک میانان گلشن
بہت تو کمر جیسے مو تھی کسو کی
دم مرگ دشوار دی جان ان نے
مگر میر کو آرزو تھی کسو کی
میر تقی میر

ہوں دوانہ ترے سگ کو کا

دیوان اول غزل 133
رات پیاسا تھا میرے لوہو کا
ہوں دوانہ ترے سگ کو کا
شعلۂ آہ جوں توں اب مجھ کو
فکر ہے اپنے ہر بن مو کا
ہے مرے یار کی مسوں کا رشک
کشتہ ہوں سبزئہ لب جو کا
بوسہ دینا مجھے نہ کر موقوف
ہے وظیفہ یہی دعاگو کا
میں نے تلوار سے ہرن مارے
عشق کر تیری چشم و ابرو کا
شور قلقل کے ہوتی تھی مانع
ریش قاضی پہ رات میں تھوکا
عطر آگیں ہے باد صبح مگر
کھل گیا پیچ زلف خوشبو کا
ایک دو ہوں تو سحر چشم کہوں
کارخانہ ہے واں تو جادو کا
میر ہرچند میں نے چاہا لیک
نہ چھپا عشق طفل بدخو کا
نام اس کا لیا ادھر اودھر
اڑ گیا رنگ ہی مرے رو کا
میر تقی میر

کہ سنگ محتسب سے پاے خم دست سبو ٹوٹا

دیوان اول غزل 120
سر دور فلک بھی دیکھوں اپنے روبرو ٹوٹا
کہ سنگ محتسب سے پاے خم دست سبو ٹوٹا
کہاں آتے میسر تجھ سے مجھ کو خودنما اتنے
ہوا یوں اتفاق آئینہ میرے روبرو ٹوٹا
کف چالاک میں تیری جو تھا سر رشتہ جانوں کا
گریباں سے مرے ہر اک ترا ٹانکا رفو ٹوٹا
طراوت تھی چمن میں سرو گویا اشک قمری سے
ادھر آنکھیں مندیں اس کی کہ ایدھر آب جو ٹوٹا
خطر کر تو نہ لگ چل اے صبا اس زلف سے اتنا
بلا آوے گی تیرے سر جو اس کا ایک مو ٹوٹا
وہ بے کس کیا کرے کہہ تو رہی دل ہی کی دل ہی میں
نپٹ بے جا ترا دل میر سے اے آرزو ٹوٹا
میر تقی میر