ٹیگ کے محفوظات: موسیٰ

تب آنکھوں تلے میری اترتا ہے لہو سا

دیوان سوم غزل 1086
جب گل کہے ہے اپنے تئیں یار کے رو سا
تب آنکھوں تلے میری اترتا ہے لہو سا
تحقیق کروں کس سے حقیقت کے نشے کو
خضر آب اسے کہتا ہے آتش کہے موسیٰ
کیا دور ہے شربت پہ اگر قند کے تھوکے
ٹک جن نے ترے شربتی ان ہونٹوں کو چوسا
دم لا بہ کریں شیخ رکھیں شملے تو کیا ہے
ہونا مگر آسان ہے اس کے سگ کو سا
تعبیر جسے کرتے ہیں ہنگامۂ محشر
وہ یار کے کوچے کا ہے کچھ شور غلو سا
آرائش درویشی بھی اپنی نہیں بے لطف
ہے بوریے کا نقش مرے تن پہ اتو سا
کب کی ہے حدیث اس سے سخن کرنے کی میں نے
کیا میر سے بولے کوئی ہے بیہدہ گو سا
میر تقی میر