ٹیگ کے محفوظات: مور

یاں سلیماں کے مقابل مور ہے

دیوان اول غزل 496
مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہے
یاں سلیماں کے مقابل مور ہے
مر گئے پر بھی ہے صولت فقر کی
چشم شیر اپنا چراغ گور ہے
جب سے کاغذباد کا ہے شوق اسے
ایک عالم اس کے اوپر ڈور ہے
رہنمائی شیخ سے مت چشم رکھ
وائے وہ جس کا عصاکش کور ہے
لے ہی جاتی ہے زر گل کو اڑا
صبح کی بھی بائو بادی چور ہے
دل کھنچے جاتے ہیں سارے اس طرف
کیونکے کہیے حق ہماری اور ہے
تھا بلا ہنگامہ آرا میر بھی
اب تلک گلیوں میں اس کا شور ہے
میر تقی میر

نہ نکلا کبھو عہدئہ مور سے

دیوان اول غزل 495
ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے
نہ نکلا کبھو عہدئہ مور سے
بہت دور کوئی رہا ہے مگر
کہ فریاد میں ہے جرس شور سے
مری خاک تفتہ پر اے ابرتر
قسم ہے تجھے ٹک برس زور سے
ترے دل جلے کو رکھا جس گھڑی
دھواں سا اٹھا کچھ لب گور سے
نہ پوچھو کہ بے اعتباری سے میں
ہوا اس گلی میں بتر چور سے
نہیں سوجھتا کچھ جو اس بن ہمیں
بغیر اس کے رہتے ہیں ہم کور سے
جو ہو میر بھی اس گلی میں صبا
بہت پوچھیو تو مری اور سے
میر تقی میر

ضبط گریہ سے پڑ گئے ناسور

دیوان اول غزل 218
دل جو اپنا ہوا تھا زخمی چور
ضبط گریہ سے پڑ گئے ناسور
صبح اس سرد مہر کے آگے
قرص خورشید ہو گیا کافور
ہم ضعیفوں کو پائمال نہ کر
دولت حسن پر نہ ہو مغرور
عرش پر بیٹھتا ہے کہتے ہیں
گر اٹھے ہے غبار خاطر مور
شکوئہ آبلہ ابھی سے میر
ہے پیارے ہنوز دلی دور
میر تقی میر

اور پاؤں کئی چوکور چلے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 558
بستی سے تری ،کمزور چلے
اور پاؤں کئی چوکور چلے
صحرا میں کہیں بھی ابر نہیں
دریا پہ گھٹا گھنگھور چلے
پھر میرے میانوالی نے کہا
تم لوگ کہاں لاہور چلے
یادوں میں مثالِ قوسِ قزح
رنگوں سے بھرا بلور چلے
گلیوں میں کہیں بندوق چلی
حکام مرے پُر شور چلے
دوچار پرندے ساتھ گریں
جس وقت یہ بارہ بور چلے
اب رنگ بدل کر پھول کھلیں
اب چال بدل کر مور چلے
میں اور جہاں خاموش رہا
سامان اٹھا کر چور چلے
منصور کہانی روندی گئی
کردار بڑے منہ زور چلے
منصور آفاق

کہہ رہا تھا کون کیا ساتویں فلور سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 537
بھر گئی تھی بیسمنٹ نیکیوں کے شور سے
کہہ رہا تھا کون کیا ساتویں فلور سے
نیم گرم دودھ کے ٹب میں میرے جسم کا
روشنی مساج کر اپنی پور پور سے
زاویہ وصال کا رہ نہ جائے ایک بھی
شاد کام جسم ہو لمس کے سکور سے
فاختہ کے خون سے ہونٹ اپنے سرخ رکھ
فائروں کے گیت سن اپنی بارہ بور سے
بام بام روشنی پول پول لائٹیں
رابطے رہے نہیں چاند کے چکور سے
وحشتِ گناہ سے نوچ لے لباس کو
نیکیوں کی پوٹلی کھول زور زور سے
واعظوں کی ناف پر کسبیوں کے ہاتھ ہیں
کوتوالِ شہر کی دوستی ہے چور سے
شیر کے شکار پر جانے والی توپ کی
رات بھر بڑی رہی بات چیت مور سے
خوابِ گاہِ یاد کی ایک الف داستاں
سُن پرانی رات میں اُس نئی نکور سے
منصور آفاق