ٹیگ کے محفوظات: من

ہوا ہے موجبِ آرامِ جان و تن تکیہ

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 187
شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ
ہوا ہے موجبِ آرامِ جان و تن تکیہ
خراج بادشہِ چیں سے کیوں نہ مانگوں آج؟
کہ بن گیا ہے خمِ جعدِ@ پُرشکن تکیہ
بنا ہے تختۂ گل ہائے یاسمیں بستر
ہوا ہے دستۂ نسرین و نسترن تکیہ
فروغِ حسن سے روشن ہے خوابگاہ تمام
جو رختِ خواب ہے پرویں، تو ہے پرن تکیہ
مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کا
رکھے جو بیچ میں وہ شوخِ سیم تن تکیہ
اگرچہ تھا یہ ارادہ مگر خدا کا شکر
اٹھا سکا نہ نزاکت سے گلبدن تکیہ
ہوا ہے کاٹ کے چادر کو ناگہاں غائب
اگر چہ زانوئے نل پر رکھے دمن تکیہ
بضربِ تیشہ وہ اس واسطے ہلاک ہوا
کہ ضربِ تیشہ پہ رکھتا تھا کوہکن تکیہ
یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تک
رکھو نہ شمع پر اے اہلِ انجمن تکیہ
اگرچہ پھینک دیا تم نے دور سے لیکن
اٹھائے کیوں کہ یہ رنجورِ خستہ تن تکیہ
غش آ گیا جو پس از قتل میرے قاتل کو
ہوئی ہے اس کو مری نعشِ بے کفن تکیہ
شبِ فراق میں یہ حال ہے اذیّت کا
کہ سانپ فرش ہے اور سانپ کا ہے من تکیہ
روارکھونہ رکھو، تھاجو لفظ تکیہ کلام
اب اس کو کہتے ہیں اہلِ سخن "سخن تکیہ”
ہم اور تم فلکِ پیر جس کو کہتے ہیں
فقیر غالب مسکیں کا ہے کہن تکیہ
@ نسخۂ مہر میں دال پر جزم ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

جامہ زیبوں نے غضب آگ پہ دامن مارا

دیوان چہارم غزل 1347
سینے کا سوز بہت بھڑکا جلا تن مارا
جامہ زیبوں نے غضب آگ پہ دامن مارا
صورت اس کی مری کھینچی تھی گلے لگتے ہوئے
سو جفاکار نے نقاش کو گردن مارا
دل ہی میں خون ہوئی وصل کی خواہش اے میر
ہم نے آزادگی ہجر سے کیا من مارا
میر تقی میر

تم بھی تو دیکھو زلف شکن در شکن کے بیچ

دیوان دوم غزل 790
دل کھو گیا ہوں میں یہیں دیوانہ پن کے بیچ
تم بھی تو دیکھو زلف شکن در شکن کے بیچ
کیا جانے دل میں چائو تھے کیا کیا دم وصال
مہجور اس کا تھا ہمہ حسرت کفن کے بیچ
کنعاں سے جا کے مصر میں یوسفؑ ہوا عزیز
عزت کسو کی ہوتی نہیں ہے وطن کے بیچ
سن اے جنوں کہ مجھ میں نہیں کچھ سواے دم
تار ایک رہ گیا ہے یہی پیرہن کے بیچ
سرسبز ہند ہی میں نہیں کچھ یہ ریختہ
ہے دھوم میرے شعر کی سارے دکھن کے بیچ
ستھرائی اور نازکی گلبرگ کی درست
پر ویسی بو کہاں کہ جو ہے اس بدن کے بیچ
بلبل خموش و لالہ و گل دونوں سرخ و زرد
شمشاد محو بے کلی اک نسترن کے بیچ
کل ہم بھی سیر باغ میں تھے ساتھ یار کے
دیکھا تو اور رنگ ہے سارے چمن کے بیچ
یا ساتھ غیر کے ہے تمھیں ویسی بات چیت
سو سو طرح کے لطف ہیں اک اک سخن کے بیچ
یا پاس میرے لگتی ہے چپ ایسی آن کر
گویا زباں نہیں ہے تمھاری دہن کے بیچ
فرہاد و قیس و میر یہ آوارگان عشق
یوں ہی گئے ہیں سب کی رہی من کی من کے بیچ
میر تقی میر

برسوں ملے پر ہم سے صرفہ ہی سخن کا تھا

دیوان دوم غزل 689
کب لطف زبانی کچھ اس غنچہ دہن کا تھا
برسوں ملے پر ہم سے صرفہ ہی سخن کا تھا
اسباب مہیا تھے سب مرنے ہی کے لیکن
اب تک نہ موئے ہم جو اندیشہ کفن کا تھا
بلبل کو موا پایا کل پھولوں کی دوکاں پر
اس مرغ کے بھی جی میں کیا شوق چمن کا تھا
بے ڈول قدم تیرا پڑتا تھا لڑکپن میں
رونا ہمیں اول ہی اس تیرے چلن کا تھا
مرغان قفس سارے تسبیح میں تھے گل کی
ہر چند کہ ہر اک کا ڈھلکا ہوا منکا تھا
سب سطح ہے پانی کا آئینے کا سا تختہ
دریا میں کہیں شاید عکس اس کے بدن کا تھا
خوگر نہیں ہم یوں ہی کچھ ریختہ کہنے سے
معشوق جو اپنا تھا باشندہ دکن کا تھا
بھوئوں تئیں تم جس دن سج نکلے تھے اک پیچہ
اس دن ہی تمھیں دیکھے ماتھا مرا ٹھنکا تھا
رہ میر غریبانہ جاتا تھا چلا روتا
ہر گام گلہ لب پر یاران وطن کا تھا
میر تقی میر

آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا

دیوان اول غزل 15
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
آپڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغ
ہوسکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا
بدرساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگ
ورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوں
بیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
گرمی اس آتش کے پرکالے سے رکھے چشم تب
جب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کی
کاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
سوکھتے ہی آنسوئوں کے نور آنکھوں کا گیا
بجھ ہی جاتے ہیں دیے جس وقت سب روغن جلا
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سے
دوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میر
دے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
میر تقی میر

کیا گلہ کرتے کہ ہم کچھ عادتاً اچھے ہی تھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 69
کیوں نہیں ، ہم سے زمانے کے چلن اچھے ہی تھے
کیا گلہ کرتے کہ ہم کچھ عادتاً اچھے ہی تھے
کاٹیے اپنی صلیبوں کے اُٹھانے کی سزا
اور کہئیے، ہم سے قیس و کوہکن اچھے ہی تھے
تیرے پہلو کی گھنی نیندیں نہ راس آئیں ہمیں
ہجر کے وہ رت جگے اے جانِ من اچھے ہی تھے
یہ تصّور خود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں
آج کے باغات سے کل کے چمن اچھے ہی تھے
اس سلامت دامنی میں ربطِ گُل جاتا رہا
اپنے بوسیدہ دریدہ پیرہن اچھے ہی تھے
بعد ہم جلتے چراغوں کی طرح شاہد رہے
شوخ چہرے انجمن در انجمن اچھے ہی تھے
آ گئے کیوں عشرتِ یک جام کی خاطر یہاں
اِس مسرت سے تو غم ہائے وطن اچھے ہی تھے
آفتاب اقبال شمیم

لطفِ سخن، کچھ اس سے زیادہ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
قندِ دہن، کچھ اس سے زیادہ
لطفِ سخن، کچھ اس سے زیادہ
فصلِ خزاں میں لطفِ بہاراں
برگِ سمن کچھ اس سے زیادہ
حالِ چمن پر تلخ نوائی
مرغِ چمن، کچھ اس سے زیادہ
دل شکنی بھی، دلداری بھی
یادِ وطن، کچھ اس سے زیادہ
شمعِ بدن فانوسِ قبا میں
خوبیِ تن، کچھ اس سے زیادہ
عشق میں کیا ہے غم کے علاوہ
خواجۂ من، کچھ اس سے زیادہ
نذرِ حافظ ۔۔۔ ناصحم گفت بجز غم چہ ہنر دارد عشق ۔۔۔ بر وائے خواجۂ عاقلِ ہنرِ بہتر ازیں
بیروت
فیض احمد فیض

جو آسانی سے کھلتے ہیں بٹن اچھے نہیں ہوتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 525
زیادہ بے لباسی کے سخن اچھے نہیں ہوتے
جو آسانی سے کھلتے ہیں بٹن اچھے نہیں ہوتے
کئی اجڑے ورق خوشبو پسِ ملبوس رکھتے ہیں
کئی اچھی کتابوں کے بدن اچھے نہیں ہوتے
کبھی ناموں کے پڑتے ہیں غلط اثرات قسمت پر
کبھی لوگوں کی پیدائش کے سن اچھے نہیں ہوتے
غزالوں کے لیے اپنی زمینیں ٹھیک رہتی ہیں
جو گلیوں میں نکل آئیں ہرن اچھے نہیں ہوتے
محبت کے سفر میں چھوڑ دے تقسیم خوابوں کی
کسی بھی اک بدن کے دو وطن اچھے نہیں ہوتے
بڑی خوش چہرہ خوشبو سے مراسم ٹھیک ہیں لیکن
گلابوں کے بسا اوقات من اچھے نہیں ہوتے
منصور آفاق