ٹیگ کے محفوظات: منگا

لگ پڑتے ہیں ہم تم سے تو تم اوروں کو لگا دو ہو

دیوان پنجم غزل 1709
کیا کچھ ہم سے ضد ہے تم کو بات ہماری اڑا دو ہو
لگ پڑتے ہیں ہم تم سے تو تم اوروں کو لگا دو ہو
کیا روویں قدر و قیمت کو یہیں سے ہے معلوم ہمیں
کام ہمارا پاس تمھارے جو آتا ہے بہادو ہو
اتنی تو جا خالی رہی ہے بزم خوش میں تمھارے سوا
جن کو کہیں جاگہ نہیں ملتی پہلو میں ان کو جا دو ہو
زنگ تو جاوے دل سے ہمارے غیر سیہ روبدگو کے
کھینچ کے تو ایک ایسی لگائو تیغ ستم کی تا دو ہو
صحبت گرم ہماری تمھاری شمع پتنگے کی سی ہے
یعنی ہو دل سوز جو کوئی اس کو تم تو جلا دو ہو
رنگ صحبت کس کو دکھاویں خوبی اپنی قسمت کی
ساغر مے دشمن کو دو ہو ہم کو زہر منگا دو ہو
بند نہیں جو کرتے ہو تم سینے کے سوراخوں کو
جی کی رکن میں ان رخنوں سے شاید دل کو ہوا دو ہو
آنکھ جھپک جاتی نہیں تنہا آگے چہرئہ روشن کے
ماہ بھی بیٹھا جاتا ہے جب منھ سے نقاب اٹھا دو ہو
غیر سے غیریت ہے آساں لیکن تہ کچھ ہم کو نہیں
بات بتاویں کیا ہم تم کو تم ہم کو تو بنا دو ہو
میر حقارت سے ہم اپنی چپ رہ جاتے ہیں جان جلے
طول ہمارے گھٹنے کو دے کر جیسے چراغ بڑھا دو ہو
میر تقی میر

اس پردے ہی میں خوباں ہم کو سلا رکھیں گے

دیوان اول غزل 493
آنکھیں لڑا لڑا کر کب تک لگا رکھیں گے
اس پردے ہی میں خوباں ہم کو سلا رکھیں گے
فکر دہن میں اس کی کچھ بن نہ آئی آخر
اب یہ خیال ہم بھی دل سے اٹھا رکھیں گے
مشت نمک کو میں نے بیکار کم رکھا ہے
چھاتی کے زخم میرے مدت مزہ رکھیں گے
سبزان شہر اکثر درپے ہیں آبرو کے
اب زہر پاس اپنے ہم بھی منگا رکھیں گے
آنکھوں میں دلبروں کی مطلق نہیں مروت
یہ پاس آشنائی منظور کیا رکھیں گے
جیتے ہیں جب تلک ہم آنکھیں بھی لڑتیاں ہیں
دیکھیں تو جور خوباں کب تک روا رکھیں گے
اب چاند بھی لگا ہے تیرے سے جلوے کرنے
شبہاے ماہ چندے تجھ کو چھپا رکھیں گے
مژگان و چشم و ابرو سب ہیں ستم کے مائل
ان آفتوں سے دل ہم کیونکر بچا رکھیں گے
دیوان میر صاحب ہر اک کی ہے بغل میں
دو چار شعر ان کے ہم بھی لکھا رکھیں گے
میر تقی میر