ٹیگ کے محفوظات: منوایا

نفرتوں کی مشق ہی کو کیوں ہمیں پیدا کِیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا
نفرتوں کی مشق ہی کو کیوں ہمیں پیدا کِیا
روک ڈالے مرغزاروں، پنگھٹوں کے راستے
گرگ نے کیا کیا غزالوں کا نہیں پیچھا کِیا
بچ نکلنے پر بھی اُس کے ظلم سے ہم رو دئیے
عمر بھر جو دھونس اپنی ہی تھا منوایا کِیا
کوڑھ سی مجبوریاں تھیں لے کے ہم نکلے جنہیں
نارسائی نے ہمیں کیا کیا نہیں رسوا کِیا
موسموں کے وار اِس پر بھی گراں جب سے ہوئے
پیڑ بھی ماجد ہمِیں سا جسم سہلایا کِیا
ماجد صدیقی

سانوں۔۔ جنہاں کھیڑیاں کولوں، اپنا حق منوایا اے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 118
ایس کارن توں اگوں لئی وی، کسّے نے ڈک سکنا نئیں
سانوں۔۔ جنہاں کھیڑیاں کولوں، اپنا حق منوایا اے
جس دے ہیتھاں بیٹھ کے بندہ، عرشاں دی سُونہہ لیندا اے
ساڈے سِراں دے اُتے، اوس ائی پک یقین دا سایا اے
ماجدُ ایہہ حاصل اے ساڈا، تن تے جریاں دھپاں دا
ہریاں فصلاں وانگر جیہڑا،سُکھ اکھیں لہرایا اے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)