ٹیگ کے محفوظات: مند

ہمارا رخت اِدھر ایک چیونٹیوں سی کمند

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
دِہر فصیلِ ستم تا بہ آسمان بلند
ہمارا رخت اِدھر ایک چیونٹیوں سی کمند
نجانے کیوں ہمیں اپنی اُڑان یاد آئی
ہوئی پتنگ جہاں بھی زمین سے پیوند
ستم کی آنچ کہیں ہو ہمیں ہی تڑپائے
ہمیں ہی جیسے ودیعت ہوئی یہ خُوئے سپند
کمک کے باب میں ایسا ہے جیسے ایک ہمِیں
ندی میں ڈوبتے جسموں سے ہیں ضرورت مند
سراب نکلا ہے ماجد ہر ایک خطۂ آب
مٹے ہیں فاصلے جب بھی کبھی بہ زورِ زقند
ماجد صدیقی

اس شہر میں ہمارے خدا وند ہیں بہت

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 39
لات و مناتِ جہل کے فرزند ہیں بہت
اس شہر میں ہمارے خدا وند ہیں بہت
کُھلتے نہیں یہ زورِ مسلسل کے باوجود
آلودگیِٔ کہنہ سے در بند ہیں بہت
دے وقفۂ سکون پر اُٹھا ہُوا قدم
راہِ سفر میں سختیاں ہرچند ہیں بہت
کھوئیں گے کیا یہ معرکہ دوبارہ ہار کر
فکرِ زیاں کریں جو خرد مند ہیں بہت
پوشیدگی ہے ایک طرح کی برہنگی
دلقِ گدا پہ مکر کے پیوند ہیں بہت
اِن کو شعورِ رفتہ و آئندہ دیجئے
یہ لوگ رسمِ وقت کے پابند ہیں بہت
آفتاب اقبال شمیم

بستی کے گوشے گوشے سے شور بلند ہوا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 12
رزق کا جب ناداروں پر دروازہ بند ہوا
بستی کے گوشے گوشے سے شور بلند ہوا
مطلعِٔ بے انوار سے پھوٹا شوخ تبسم کرنوں کا
رات کے گھر میں سورج جیسا جیسا جب فرزند ہوا
سادہ، بے آمیزش جذبۂ پیر فقیر کرامت کا
جس کے اسم سے مایوسی کا زہر بھی قند ہوا
اول اول شور اُٹھا سینے میں عام تمنا کا
بند فصیلوں کے انبد میں جو دو چند ہوا
دکھ کو سمت شناسائی دی غم کے قربت داروں نے
دل دھارا، دریا مل کر بہرہ مند ہوا
چلئے! اپنے آپ سے چمٹے رہنا تو موقوف کیا
جب سے روز کے سمجھوتوں کا وہ پابند ہوا
آفتاب اقبال شمیم

علاجِ درد ترے درد مند کیا کرتے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 24
گرانیِ شبِ ہجراں دو چند کیا کرتے
علاجِ درد ترے درد مند کیا کرتے
وہیں لگی ہے جو نازک مقام تھے دل کے
یہ فرق دستِ عدو کے گزند کیا کرتے
جگہ جگہ پہ تھے ناصح تو کُو بکُو دلبر
اِنہیں پسند، اُنہیں ناپسند کیا کرتے
ہمیں نے روک لیا پنجہء جنوں ورنہ
ہمیں اسیر یہ کوتہ کمند کیا کرتے
جنہیں خبر تھی کہ شرطِ نواگری کیا ہے
وہ خوش نوا گلہء قید و بند کیا کرتے
گلوئے عشق کو دار و رسن پہنچ نہ سکے
تو لوٹ آئے ترے سر بلند ، کیا کرتے !
فیض احمد فیض

چلے فلم کوئی وصال کی دلِ ہجر مند کے سامنے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 565
کوئی نرم نرم سی آگ رکھ مرے بند بند کے سامنے
چلے فلم کوئی وصال کی دلِ ہجر مند کے سامنے
یہ عمل ومل کے کمال چپ، یہ ہنروری کے جمال چپ
یہ ہزار گن سے بھرے ہیں کیا، ترے بھاگ وند کے سامنے
کھلی کھڑکیوں کے فلیٹ سے ذرا جھانک شام کو روڈ پر
ترے انتظار کی منزلیں ہیں مری کمند کے سامنے
کئی ڈاٹ کام نصیب تھے جسے زینہ زنیہ معاش کے
وہ منارہ ریت کا دیوتا تھا اجل پسند کے سامنے
ابھی اور پھینک ہزار بم، مرے زخم زخم پہاڑ پر
کوئی حیثیت نہیں موت کی، کسی سر بلند کے سامنے
منصور آفاق