ٹیگ کے محفوظات: منحنی کی ثنا

منحنی کی ثنا

بہت سنجیدگی اچھی نہیں

یہ زندگی ایسی ہے۔۔۔۔ اِس پر مُسکرا لینا

شفا دیتا ہے زخموں کو

چلو کہہ لیں کہ سطحیں منحنی ہیں

نارسائی کی

ہمارے علم کی پیمائشوں میں بھید کے رقبے نہیں آتے

چلو کہہ لیں

کہ پیچیدہ مسائل پر بہت سنجیدہ ہو جانا

جنم لیتا ہے ظرفِ کم کشادہ سے

کسی دشوار ناہموار کے خوفِ زیادہ سے

ہمارا قہرِ بے بخشش، ہماری مہرِ بے پایاں

ہمیشہ آنسوؤں کے المیے تخلیق کرتے ہیں

مگر پھر معتدل ہونا بھی راس آتا نہیں

ذوقِ طبیعت کو

ارادہ زوردارِ غیب کے آگے نہیں چلتا

کبھی چیزیں بگڑتی ہیں بنانے سے

کبھی آلام بڑھتے ہیں گھٹانے سے

یہاں نزدیکیوں میں دوریاں ہیں

اور ہم الفاظ مضمونوں میں ملتا ہے نہایت فرق

معنی کا

سبھی چہرے مشابہ ہیں

مگر ان پر

جدا آنکھوں کے پرچم پھڑ پھڑاتے ہیں

پرانی دانشیں۔۔۔۔

گرتا ہوا پختہ ثمر مٹی کی جھولی میں

مسائل بھی نئے حل بھی نیا ہمراہ لاتے ہیں نئے انداز

جینے کے

یہاں اس کچھ سے کچھ ہوتی ہوئی دنیا کے فردا میں

جو ہو گا وہ نہیں ہو گا۔۔۔۔

کہ منطق ہے یہی ہونے نہ ہونے کی

تو پھر سنجیدگی اچھی نہیں

یہ زندگی ایسی ہے۔۔۔۔ کوئی کیا کرے

ہر چیز کو تسلیم نا تسلیم کرنے کے سوا

چارہ نہیں کوئی

آفتاب اقبال شمیم