ٹیگ کے محفوظات: منجدھار

دل اٹھا لائے سرِ بازار ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
کیا دکھاتے اور حالِ زار ہم
دل اٹھا لائے سرِ بازار ہم
ہر سفر ہے اب تو ہجرت کا سفر
تھے کبھی اِس شہر میں انصار ہم
دل سے دل کو راہ اب ہوتی نہیں
بھولتے جاتے ہیں سب اقدار ہم
حرف و معنی بیچنے پر آ گئے
یوں بھی اب ہونے لگے زردار ہم
منتقل کر لائے اک اک سانس میں
جس میں الجھے تھے وہی منجدھار ہم
ڈھل چکی جب چودھویں کی رات بھی
کیوں نہ ہوں ماجدؔ، زوال آثار ہم
ماجد صدیقی

سچ لٹکتا ہے ہمیشہ دار سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 138
بچ نہیں سکتا رِیا کے وار سے
سچ لٹکتا ہے ہمیشہ دار سے
دُور کرنے راہ چلتوں کی تھکن
جھانکتی ہے بیل اِک دیوار سے
ڈھل گیا آخر تناؤ شاخ کا
عجز کے سجدوں میں، برگ و بار سے
جس میں ہو تاب و تواں ایقان کی
وُہ بدن کٹتا نہیں تلوار سے
کس نے آنا تھا بھلا لینے ہمیں
سر اٹھاتے بھی تو کیا منجدھار سے
دل مرا چڑیا کے بچّے کی طرح
دم بخود ہے حرص کی یلغار سے
سر جُھکے ماجدؔ دعا کو کس قدر
پوچھ لو یہ بھی کسی اوتار سے
ماجد صدیقی

لاحق ہونے کو ہے کیا آزار مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 158
آگ نظر آتا ہے ہر گلزار مجھے
لاحق ہونے کو ہے کیا آزار مجھے
شاید یوں تن کی عریانی ڈھانپ سکوں
بُننے ہیں اس پر ریشم کے تار مجھے
گرد کی چادر، زخم بریدہ شاخوں کے
موسم نے کیا برگ دئیے کیا بار مجھے
سیکھا مَیں نے جب سے فن تیراکی کا
روز پکارے ساحل سے منجدھار مجھے
ماجدؔ میرا روگ ہے رفعت ماتھے کی
راس نہیں آتا کوئی دربار مجھے
ماجد صدیقی

اک تماشا بن کے آ بیٹھا ہوں کوئے یار میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 70
چھوڑ کر گھر بار اپنا حسرتِ دیدار میں
اک تماشا بن کے آ بیٹھا ہوں کوئے یار میں
دم نکل جائے گا حسرت نہ دیکھ اے نا خدا
اب مری قسمت پہ کشتی چھوڑ دے منجدھار میں
دیکھ بھی آ بات کہنے کے لئے ہو جائے گی
صرف گنتی کی ہیں سانسیں اب ترے بیمار میں
فصلِ گل میں کس قدر منحوس ہے رونا مرا
میں نے جب نالے کئے بجلی گری گلزار میں
جل گیا میرا نشیمن یہ تو میں نے سن لیا
باغباں تو خیریت سے ہے صبا گلزار میں
قمر جلالوی

موج در موج ہیں سو رنگ کے منجدھار یہاں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 38
کشتیِٔ زیست سلامت ہے نہ پتوار یہاں
موج در موج ہیں سو رنگ کے منجدھار یہاں
ہم سفر چھوٹ گئے ، راہنما روٹھ گئے
یوں بھی آسان ہوئی منزلِ دشوار یہاں
تیرگی ٹوٹ پڑی، دور سے بادل گرجا
بجھ گئی سہم کے قندیلِ رخِ یار یہاں
کتنے طوفان اٹھے ، کتنے ستارے ٹوٹے
پھر بھی ڈوبا نہیں اب تک دلِ بیدار یہاں
میرے زخمِ کفِ پا چومنے آئے گی بہار
میں اگر مر بھی گیا وادیِٔ پر خار یہاں
شکیب جلالی