ٹیگ کے محفوظات: منتر

یہ میرا گھر ہے! لیکن نہیں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 15
سب میسّر ہے لیکن نہیں
یہ میرا گھر ہے! لیکن نہیں
روز لگتا ہے ایسا ہمیں
آج محشرہے ۔۔ لیکن نہیں
اُگ رہا ہے نظر میں سراب
ایک منظر ہے لیکن نہیں
یہ محبت بھری گفتگو!
کوئی منتر ہے لیکن نہیں
دوسروں سے مرا بے وفا
لاکھ بہتر ہے! لیکن نہیں
میری گردن پہ گو رات دن
نوکِ خنجر ہے لیکن نہیں
کج ادائی پہ ما ئل کوئی
میرے اندر ہے!! لیکن نہیں
نیند کے آخری موڑ تک
خواب رہبر ہے لیکن نہیں
باب در باب وہ داستاں
لاکھ ازبر ہے!! لیکن نہیں
توڑ دے وہم کی ہر فصیل
وقت پتھر ہے لیکن نہیں
پاؤں پھیلا رہی ہے طلب
تنگ چادر ہے لیکن نہیں
کب گزرتا ہے بچپن مرا
دل معمر ہے لیکن نہیں
نینا عادل

سفر ، میرا تعاقب کر رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 118
کہاں آرام لمحہ بھر رہا ہے
سفر ، میرا تعاقب کر رہا ہے
رہی ہوں بے اماں موسم کی زد پر
ہتھیلی پر ہَوا کی ، سر رہا ہے
میں اِک نو زائیدہ چڑیا ہوں لیکن
پُرانا باز ، مُجھ سے ڈر رہا ہے
پذیرائی کو میری شھرِ گل میں
صبا کے ہاتھ میں پتّھر رہا ہے
ہَوائیں چُھو کے رستہ بُھول جائیں
مرے تن میں کوئی منتر رہا ہے
میں اپنے آپ کو ڈسنے لگی ہوں
مجھے اب زہر اچھا کر رہا ہے
کھلونے پا لیے ہیں میں نے لیکن
مرے اندر کا بچہ مر رہا ہے
پروین شاکر

منتر

ننھا رام۔ ننھا تو تھا، لیکن شرارتوں کے لحاظ سے بہت بڑا تھا۔ چہرے سے بے حد بھولا بھالا معلوم ہوتا تھا۔ کوئی خط یا نقش ایسا نہیں تھا جو شوخی کا پتہ دے۔ اس کے جسم کا ہر عضو بھدے پن کی حد حد تک موٹا تھا۔ جب چلتا تھا تو ایسا معلوم ہوتا تھاکہ فٹ بال لڑھک رہا۔ عمر بمشکل آٹھ برس کی ہو گی۔ مگر بلا کا ذہین اور چالاک تھا۔ لیکن اس کی ذہانت اور چالاکی کا پتا اس کے سراپا سے لگانا بہت مشکل تھا۔ مسٹر شنکر آچاریہ ایم اے، ایل ایل بی۔ رام کے پتا کہا کرتے تھے کہ

’’منہ میں رام رام اور بغل میں چُھری‘‘

والی مثال اس رام ہی کے لیے بنائی گئی ہے۔ رام کے منہ سے رام رام تو کسی نے سنا نہیں تھا۔ مگر اس کی بغل میں چھری کی بجائے ایک چھوٹی سی چھڑی ضرور ہوا کرتی تھی۔ جس سے وہ کبھی کبھی ڈگلس فیئر بینکس یعنی بغدادی چور کی تیغ زنی کی نقل کیا کرتا تھا۔ جب رام کی ماں یعنی مسز شنکر آچاریہ اس کے کان سے پکڑ کر اس کے باپ کے سامنے لائیں تو وہ بالکل خاموش تھا۔ آنکھیں خشک تھیں۔ اس کا ایک کان جو اس کی ماں کے ہاتھ میں تھا۔ دوسرے کان سے بڑا معلوم ہورہا تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ مگر اس کے چہرے سے پتہ چلتا تھا کہ وہ اپنی ماں سے کھیل رہا ہے اور اپنے کان کو ماں کے ہاتھ میں دے کر ایک خاص قسم کا لطف اٹھا رہا ہے جس کو دوسروں پر ظاہر کرنا نہیں چاہتا۔ جب رام مسٹر شنکر آچاریہ کے سامنے لایا گیا تو وہ آرام سے کرسی پر جم کر بیٹھ گئے کہ اس نالائق کے کان کھینچیں حالانکہ وہ اس کے کان کھینچ کھینچ کر کافی سے زیادہ لمبے کر چکے تھے اور اس کی شرارتوں میں کوئی فرق نہ آنے پایا تھا۔ وہ عدالت میں قانون کے زور پر بہت کچھ کرلیتے تھے۔ مگر یہاں اس چھوٹے سے لونڈے کے سامنے ان کی کوئی پیش نہ چلتی تھی۔ ایک مرتبہ مسٹر رام شنکر اچاریہ نے کسی شرارت پر اس کو پرمیشور کے نام سے ڈرانے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا۔

’’دیکھ رام، تو اچھا لڑکا بن جا، ورنہ مجھے ڈر ہے پرمیشور تجھ سے خفا ہو جائیں گے۔ ‘‘

رام نے جواب دیا تھا۔

’’آپ بھی تو خفا ہو جایا کرتے ہیں اور میں آپ کو منا لیا کرتا ہوں۔ ‘‘

اور پھرتھوڑی دیرسوچنے کے بعد اس نے یہ پوچھا تھا

’’بابو جی یہ پرمیشور کون ہیں‘‘

مسٹر شنکر اچاریہ نے اسے سمجھانے کے لیے جواب دیا تھا۔

’’بھگوان اور کون۔ ہم سب سے بڑے۔ ‘‘

’’اس مکان جتنے۔ ‘‘

’’اس سے بھی بڑے۔ دیکھو اب تو کوئی شرارت نہکیجیو، ورنہ وہ تجھے مار ڈالیں گے!‘‘

مسٹر شنکر اچاریہ نے اپنے بیٹے پر ہیبت طاری کرنے کے لیے پرمیشور کو اس سے زیادہ ڈراؤنی شکل میں پیش کرنے کے بعد یہ خیال کر لیا تھا کہ اب رام سدھر جائے گا اور کبھی شرارت نہ کرے گا۔ مگر رام جو اس وقت خاموش بیٹھا تھا، اپنے ذہن کے ترازو میں پرمیشور کو تول رہا تھا۔ کچھ دیر غور کرنے کے بعد جب اس نے بڑے بھولے پن سے کہا تھا۔

’’بابو جی۔ آپ مجھے پرمیشور دکھا دیجیے۔ ‘‘

تو مسٹر راما شنکر اچاریہ کی ساری قانون دانی اور وکالت دھری کی دھری رہ گئی تھی۔ کسی مقدمے کا حوالہ دینا ہوتا تووہ اس فائل کو نکال کر دکھا دیتے یا اگر کوئی تعزیرات ہند کی کسی دفعہ کے متعلق سوال کرتا تووہ اپنی میز پر سے وہ موٹی کتاب اٹھا کر کھولنا شروع کردیتے جس کی جلد پر ان کے اس لڑکے نے چاؤ سے بیل بوٹے بنا رکھے تھے مگر پرمیشور کو پکڑ کر کہاں سے لاتے جس کے متعلق انھیں خود اچھی طرح معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا ہے، کہاں رہتا ہے اور کیا کرتا ہے۔ جس طرح ان کو یہ معلوم تھا کہ دفعہ379 چوری کے فعل پر عائد ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ مارنے اور پیدا کرنے والے کو پرمیشور کہتے ہیں اور جس طرح ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ جس کے قانون بنے ہوئے ہیں۔ اس کی اصلیت کیا ہے ٹھیک اسی طرح ان کو پرمیشور کی اصلیت معلوم نہ تھی۔ وہ ایم، اے، ایل، ایل، بی تھے۔ مگر یہ ڈگری انھوں نے نئی الجھنوں میں پھنسنے کے لیے نہیں بلکہ دولت کمانے کیلیے حاصل کی تھی۔ وہ رام کو پرمیشور نہ دکھا سکے اور نہ اس کو کوئی معقول جواب ہی دے سکے۔ اس لیے کہ یہ سوال ان سے اس طرح اچانک طور پر کیا گیا تھا کہ ان کا دل پریشان ہو گیا تھا۔ وہ صرف اس قدر کہہ سکے تھے۔

’’جارام، جا، میرا دماغ نہ چاٹ، مجھے بہت کام کرنا ہے۔ ‘‘

اس وقت انھیں کام واقعی بہت کرنا تھا مگر وہ پرانی شکستوں کا بھول کر فوراً ہی اس نئے مقدمے کا فیصلہ کردینا چاہتے تھے۔ انھوں نے رام کی طرف خشم آلود نگاہوں سے دیکھ کراپنی دھرم پتنی سے کہا۔

’’آج اس نے کونسی نئی شرارت کی ہے۔ مجھے جلدی بتاؤ، میں آج اسے ڈبل سزا دوں گا۔ ‘‘

مسز اچاریہ نے رام کا کان چھوڑ دیا اور کہا کہ

’’اس موئے نے تو زندگی وبال کررکھی ہے جب دیکھو ناچنا، تھرکنا، کودنا۔ نہ آئے کی شرم نہ گئے کا لحا٭۔ صبح سے مجھے ستا رہا ہے۔ کئی بار پیٹ چکی ہوں مگریہ اپنی شرارتوں سے باز ہی نہیں آتا۔ نعمت خانے میں سے دو کچے ٹماٹر نکال کر کھا گیا ہے۔ اب میں سلاد میں اس کا سر ڈالوں‘‘

یہ سن کر مسٹر شنکر اچاریہ کو ایک دھکا سا لگا۔ وہ خیال کررہے تھے کہ رام کے خلاف کوئی سنگین الزام ہو گا۔ مگر یہ سن کر کہ اس نے نعمت خانے سے صرف دو کچے ٹماٹر نکال کرکھائے ہیں انھیں سخت ناامیدی ہوئی۔ رام کو جھڑکنے اور کوسنے کے لیے ان کی سب تیاری ایکا ایکی سرد پڑ گئی۔ ان کو ایسا محسوس ہوا کہ اُن کا سینہ ایک دم خالی ہو گیا۔ جیسے ایک دفعہ ان کے موٹر کے پہیے کی ساری ہوا نکل گئی تھی۔ کچے ٹماٹر کھانا کوئی جرم نہیں، اس کے علاوہ ابھی کل ہی مسٹر شنکر اچاریہ کے ایک دوست نے جوجرمنی سے طب کی سند لے آئے تھے ان سے کہا تھا کہ اپنے بچوں کو کھانے کے ساتھ کچے ٹماٹر ضرور دیا کیجیے۔ کیونکہ ان میں کثرت سے وٹامنز ہیں مگر اب چونکہ وہ رام کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے اور ان کی بیوی کی بھی یہی خواہش تھی۔ اس لیے انھوں نے تھوڑی غور کرنے کے بعد ایک قانونی نکتہ سوچا اور اس انکشاف پر دل ہی دل میں خوش ہو کر اپنے بیٹے سے کہا۔

’’میرے نزدیک آؤ اور جوکچھ میں تجھ سے پوچھوں سچ سچ بتا۔ ‘‘

مسز راما شنکر اچاریہ چلی گئیں اور رام خاموشی سے اپنے باپ کے پاس کھڑا ہو گیا۔ مسٹر راما شنکر اچاریہ نے پوچھا۔

’’تو نے نعمت خانے سے دو کچے ٹماٹر نکال کر کیوں کھائے۔ ‘‘

رام نے جواب دیا۔

’’دو کہاں تھے۔ ماتا جی جھوٹ بولتی ہیں۔ ‘‘

’’تو ہی بتا کتنے تھے؟‘‘

’’ڈیڑھ۔ ایک اور آدھا۔ ‘‘

رام نے یہ الفاظ انگلیوں سے آدھے کا نشان بنا کر ادا کیے۔ دوسرے آدھے سے ماتا جی نے دوپہر کو چٹنی بنائی تھی۔ ‘‘

’’چلو ڈیڑھ ہی سہی، پر تو نے یہ وہاں سے اٹھائے کیوں؟‘‘

رام نے جواب دیا۔

’’کھانے کے لیے۔ ‘‘

’’ٹھیک ہے، مگر تو نے چوری کی۔ ‘‘

مسٹر شنکر اچاریہ نے قانونی نکتہ کو پیش کیا۔

’’چوری!۔ بابو جی میں نے چوری نہیں کی۔ ٹماٹر کھائے ہیں۔ مگر یہ چوری کیسے ہوئی۔ ‘‘

یہ کہتا ہوا رام فرش پربیٹھ گیا۔ اور غور سے انپے باپ کی طرف دیکھنے لگا۔

’’یہ چوری تھی۔ دوسرے کی چیز کو اس کی اجازت کے بغیر اٹھالیناچوری ہوتی ہے‘‘

مسٹر شنکر اچاریہ نے یوں اپنے بچے کو سمجھایا اور خیال کیا کہ وہ ان کا مفہوم اچھی طرح سمجھ گیا ہے۔ رام نے فوراً کہا۔

’’مگر ٹماٹر تو ہمارے اپنے تھے۔ میری ماتا جی کے۔ ‘‘

مسٹرراما شنکر اچاریہ سٹپٹا گئے۔ مگر فوراً اپنا مطلب واضح کرنے کی کوشش کی،

’’تیری ماتا جی کے تھے، ٹھیک ہے، پر وہ تیرے تو نہیں ہوئے، جو چیز ان کی ہے وہ تیری کیسے ہوسکتی ہے۔ دیکھ سامنے میز پر جو تیرا کھلونا ہے پڑا ہے، اٹھا لا، میں تجھے اچھی طرح سمجھاتا ہوں۔ ‘‘

رام اٹھا اور دوڑ کر لکڑی کا گھوڑا اٹھالایا اور اپنے باپ کے ہاتھ میں دے دیا۔

’’یہ لیجیے۔ ‘‘

مسٹر راما شنکر اچاریہ بولے۔

’’ہاں تو دیکھ، یہ گھوڑا تیرا ہے نا؟‘‘

’’جی ہاں۔ ‘‘

’’اب اگر میں اسے تیری اجازت کے بغیر اٹھا کراپنے پاس رکھ لوں۔ تو یہ چوری ہو گی۔ ‘‘

پھر مسٹر راما شنکر نے مزید وضاحت سے کام لیتے ہوئے کہا۔

’’اور میں چور۔ ‘‘

’’نہیں پتا جی، آپ اسے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ میں آپ کو چور نہیں کہوں گا۔ میرے پاس کھیلنے کے لیے ہاتھی جو ہے۔ کیا آپ نے ابھی تک دیکھا نہیں ہے۔ کل ہی منشی دادا نے لا کے دیا ہے۔ ٹھہریے، میں ابھی آپ کو دکھاتا ہوں۔ ‘‘

یہ کہہ وہ تالیاں بجاتا ہوا دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ اور مسٹر راما شنکر اچاریہ آنکھیں جھپکتے رہ گئے۔ دوسرے روز مسٹر راما شنکر اچاریہ کو ایک خاص کام سے پونا جانا پڑا، اُن کی بڑی بہن وہیں رہتی تھی۔ ایک عرصے سے وہ چھوٹے رام کو دیکھنے کیلیے بے قرار تھی چنانچہ ایک پنتھ دو کاج کے پیش نظر مسٹر راما شنکر اچاریہ اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے گئے مگر اس شرط پر کہ وہ راستے میں کوئی۔ شرارت نہ کرے گا۔ ننھا رام اس شرط پر بوری بند اسٹیفن کے پلیٹ فارم تک قائم رہ سکا۔ ادھر دکن کوئین چلی اور ادھر رام کے ننھے سے سینے میں شرارتیں مچلنا شروع ہو گئیں۔ مسٹرراما شنکر اچاریہ سیکنڈ کلاس کمپارٹمنٹ کی چوڑی سیٹ پر بیٹھے اپنے ساتھ والے مسافر کا اخبار پڑھ رہے تھے اور سیٹ کے آخری حصے پر رام کھڑکی میں سے باہر جھانک رہا اور ہوا کا دباؤ دیکھ کر یہ سوچ رہا تھا کہ اگر وہ اسے لے اڑے تو کتنا مزہ آئے۔ مسٹر راما شنکر اچاریہ نے اپنی عینک کے گوشوں سے رام کی طرف دیکھا اور اس کو بازو سے پکڑ کر نیچے بٹھا دیا۔ تو چین بھی لینے دے گا یا نہیں۔ رام آرام سے بیٹھ جا کہتے ہوئے ان کی نظررام کی نئی ٹوپی پر پڑی۔ جو اس کے سر پر چمک رہی تھی۔

’’اسے اتار کر رکھ نالائق، ہوا سے اڑ جائے گی۔ ‘‘

انھوں نے رام کے سر پرسے ٹوپی اتار کر اس کی گود میں رکھ دی۔ مگر تھوڑی کے بعد ٹوپی، پھر رام کے سر پر تھی۔ اور وہ کھڑکی سے باہر سر نکالے دوڑتے ہوئے درختوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ درختوں کی بھاگ دوڑ رام کے ذہن میں آنکھ مچولی کے دلچسپ کھیل کا نقشہ کھینچ رہی تھی۔ ہوا کے جھونکے سے اخبار دوہرا ہو گیا۔ اور ماسٹر راما شنکر اچاریہ نے اپنے بیٹیکے سر کو پھر کھڑکی سے باہر پایا، غصے میں انھوں نے اس کا بازہ کھینچ کر اپنے پاس بٹھا لیا اور کہا کہ اگر تو یہاں سے ایک انچ بھی ہلا تو تیری خیر نہیں۔ یہ کہہ کر انھوں نے ٹوپی اتار کراس کی ٹانگوں میں رکھ دی۔ اس کام سے فارغ ہو کرا نہوں نے اخبار اٹھایا اور وہ ابھی اس میں وہ سطر ہی ڈھونڈ رہے تھے جہاں سے انھوں نے پڑھنا چھوڑا تھا کہ رام نے کھڑکی کے پاس سرک کر باہر جھانکنا شروع کردیا۔ ٹوپی اس کے سرپر تھی۔ یہ دیکھ کر مسٹر شنکر اچاریہ کو سخت غصہ آیا۔ ان کا ہاتھ بھوکی چیل کی طرح ٹوپی کی طرف بڑھا اور چشم زدن میں وہ ان کی سیٹ کے نیچے تھی۔ یہ سب کچھ اس قدر تیزی سے ہوا کہ رام کو سمجھنے کا موقع ہی نہ ملا۔ مڑ کر اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا مگر ان کے ہاتھ خالی نظر آئے۔ اسی پریشانی میں اس نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا تو اسے ریل کی پٹڑی پر بہت پیچھے ایک خالی کاغذ کا ٹکڑا اڑتا نظر آیا۔ اس نے خیال کیا کہ یہ میری ٹوپی ہے۔ اس خیال کے آتے ہی اس کے دل کو ایک دھکا سا لگا۔ باپ کی طرف ملامت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے اس نے کہا۔

’’بابو جی۔ میری ٹوپی!‘‘

مسٹر شنکر اچاریہ خاموش رہے۔

’’ہائے میری ٹوپی۔ ‘‘

رام کی آواز بلند ہوئی۔ مسٹر شنکر اچاریہ کچھ نہ بولے۔ رام نے رونی آواز میں کہا: میری ٹوپی! اور اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ مسٹرراما شنکر اچاریہ نے اس کا ہاتھ جھٹک کرکہا۔

’’گرا دی ہو گی تو نے۔ اب روتا کیوں ہے؟‘‘

اس پررام کی آنکھوں میں دو موٹے موٹے آنسو تیرنے لگے۔

’’پر دھکا تو آپ نے ہی دیا تھا۔ ‘‘

اس نے اتنا کہا اور رونے لگا۔ مسٹر راما شنکر اچاریہ نے ذرا ڈانٹ پلائی تو رام نے اور زیادہ رونا شروع کردیا۔ انھوں نے اسے چُپ کرانے کی بہت کوشش کی۔ مگر کامیاب نہ ہوئے۔ رام کا رونا صرف ٹوپی ہی بند کراسکتی تھی۔ چنانچہ مسٹر راما شنکر اچاریہ نے تھک ہار کر اس سے کہا۔

’’ٹوپی واپس آجائے گی، مگر شرط یہ ہے کہ تو اسے پہنے گا نہیں!‘‘

رام کی آنکھوں میں آنسو فوراً خشک ہو گئے۔ جیسے تپتی ہوئی ریت میں بارش کے قطرے جذب ہو جائیں۔ سرک کر آگے بڑھ آیا۔

’’اسے واپس لادیجیے۔ ‘‘

مسٹر راما شنکر اچاریہ نے کہا۔

’’ایسے تھوڑی واپس آجائے گی۔ منتر پڑھنا پڑے گا۔ ‘‘

کمپارٹمنٹ میں سب مسافر باپ بیٹے کی گفتگو سن رہے تھے۔

’’منتر۔ ‘‘

یہ کہتے ہوئے رام کو فوراً وہ قصہ یاد آگیا جس میں ایک لڑکے نے منتر کے ذریعے سے دوسروں کی چیزیں غائب کرنا شروع کردی تھیں۔

’’پڑھیے پتا جی‘‘

یہ کہہ کروہ خوب غورسے اپنے باپ کی طرف دیکھنے لگا۔ گویا منتر پڑھتے وقت مسٹر راما شنکر اچاریہ کے گنجے سر پر سینگ اُگ آئیں گے۔ مسٹر راما شنکر اچاریہ نے اس منتر کے بول یاد کرتے ہوئے جو انھوں نے بچپن میں

’’اندر جال مکمل‘‘

سے زبانی یاد کیا تھا کہا۔

’’تو پھر شرارت تو نہ کرے گا؟‘‘

’’نہیں بابو جی۔ ‘‘

رام نے جو منتر کی گہرائیوں میں ڈوب رہا تھا۔ اپنے باپ سے شرارت نہ کرنے کا وعدہ کرلیا۔ مسٹر راما شنکر اچاریہ کو منتر کے بول یاد آگئے اور انھوں نے دل ہی دل میں اپنے حافظے کی داد دے کر اپنے لڑکے سے کہا۔

’’لے اب تو آنکھیں بند کرلے۔ ‘‘

رام نے آنکھیں بند کرلیں اورمسٹر راما شنکر اچاریہ نے منتر پڑھنا شروع کیا۔

’’اونگ ناکام میشری، مدمدیش اوتمارے بھرنیگ پر سواہ‘‘

مسٹر راما شنکر اچاریہ کا ایک ہاتھ سیٹ کے نیچے آگیا اور

’’سواہ‘‘

کے ساتھ ہی رام کی ٹوپی اسکی گدگدی رانوں پر آگری۔ رام نے آنکھیں کھول دیں۔ ٹوپی اس کی چپٹی ناک کے نیچے پڑی تھی۔ اور مسٹر راما شنکر اچاریہ کی نکیلی ناک کا بانسہ عینک کی سنہری گرفت کے نیچے تھرتھرا رہا تھا۔ عدالت میں مقدمہ جیتنے کے بعد ان پر یہی کیفیت طاری ہوا کرتی تھی۔

’’ٹوپی آگئی۔ ‘‘

رام نے صرف اس قدر کہا، اور چپ ہورہا اور مسٹر راما شنکر اچاریہ رام کو خاموش بیٹھنے کا حکم دے کر اخبار پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔ ایک خبر کافی دلچسپ اور اخباری زبان میں بے حد سنسنی خیز تھی۔ چنانچہ وہ منتر وغیرہ سب کچھ بھول کر اس میں ڈوب گئے۔ دکن کوئین بجلی کے پروں پر پوری تیزی سے اڑ رہی تھی۔ اس کے آہنی پہیوں کی یک آہنگ گڑگڑاہٹ اخبار کی سنسنی پیدا کرنے والے خبر کی ہر سطر کو بڑی سنسنی خیز بنا رہی تھی۔ مسٹر راما شنکر اچاریہ یہ سطر پڑھ رہے تھے:

’’عدالت پر سناٹا چھایا ہوا تھا۔ صرف ٹائپ رائٹر کی ٹک ٹک سنائی دیتی تھی۔ ملزم ایکا ایکی چلایا۔ بابو جی!۔ ‘‘

عین اس وقت رام نے اپنے باپ کو زور سے آواز دی۔

’’بابو جی!‘‘

۔ مسٹرراما شنکر اچاریہ کو یوں معلوم ہوا کہ زیر نظر سطر کے آخری الفاظ کاغذ پر اچھل پڑے۔ رام کے تھرتھراتے ہوئے ہونٹ بتا رہے تھے کہ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔ مسٹر راما شنکر اچاریہ نے ذرا تیزی سے کہا:

’’کیا ہے؟‘‘

اور عینک کے ایک گوشے میں سے ٹوپی کو سیٹ پر پڑا دیکھ کر اطمینان کرلیا۔ رام آگے سرک آیا اور کہنے لگا

’’بابو جی! وہی منتر پڑھیے!‘‘

’’کیوں!‘‘

یہ کہتے ہوئے مسٹرراما شنکر اچاریہ نے رام کی ٹوپی کی طرف غور سے دیکھا۔ جو سیٹ کے کونے میں پڑی تھی۔

’’آپ کے کاغذ جو یہاں پڑے تھے، میں نے باہرپھینک دیے ہیں۔ ‘‘

رام نے اس کے آگے کچھ اور بھی کہا۔ مگر مسٹر راما شنکر اچاریہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ بجلی کی سرعت کے ساتھ اٹھ کر انھوں نے کھڑکی میں سے باہر جھانک کر دیکھا۔ مگر ریل کی پٹڑی کے ساتھ تتلیوں کی طرح پھڑپھڑاتے ہوئے کاغذوں کے پرزوں کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔

’’تو نے وہ کاغذ پھینک دیے ہیں جو یہاں پڑے تھے؟‘‘

انھوں نے اپنے داہنے ہاتھ سے سیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ رام نے اثبات میں سر ہلاک دیا۔

’’آپ وہی منتر پڑھیے نا!‘‘

مسٹر راما شنکر اچاریہ کو ایسا کوئی منتر یاد نہ تھا۔ جو سچ مچ کی کھوئی ہوئی چیزوں واپس لاسکے۔ وہ سخت پریشان تھے۔ وہ کاغذات جو ان کے بیٹے نے پھینک دیے تھے یہ ایک نئے مقدمے کی نقل تھی۔ جس میں چالیس ہزار کی مالیت کے قانونی کاغذات پڑے تھے۔ مسٹر راما شنکر اچاریہ ایم، اے، ایل، ایل، بی کی بازی ان کی اپنی چال ہی سے مات ہو گئی تھی۔ ایک لمحے کے اندر اندر ان کو قانونی کاغذات کے بارے میں سینکڑوں خیالات آئے۔ ظاہر ہے کہ مسٹرراما شنکر اچاریہ کے مؤکل کا نقصان ان کا اپنا نقصان تھا۔ مگر اب وہ کیا کرسکتے تھے۔ صرف یہ کہ اگلے اسٹیشن پر اتر کر ریل کی پٹڑی کے ساتھ ساتھ چلنا شروع کردیں اور وہیں پندرہ میل تک ان کاغذوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہیں۔ ملیں نہ ملیں ان کی قسمت۔ ایک لمحے کے اندر اندر سینکڑوں باتیں سوچنے کے بعد بالآخر انھوں نے اپنے دل میں فیصلہ کرلیا کہ اگر تلاش پر کاغذات نہ ملے تو وہ موکل کے سامنے سرے سے انکار ہی کردیں گے کہ اُس نے ان کو کبھی کاغذات دیے تھے۔ اخلاقی اور قانونی طور پر سراسر ناجائز تھا مگر اس کے علاوہ اور ہو بھی کیا سکتا تھا۔ اس تسلی بخش خیال کے باوجود مسٹرراما شنکر اچاریہ کے حلق میں تلخی سی پیدا ہورہی تھی۔ ایکا ایکی ان کے دل میں آئی کہ کاغذوں کی طرح وہ رام کو بھی اٹھا کرگاڑی سے باہر پھینک دیں۔ مگر اس خواہش کو سینے ہی میں دبا کر انھوں نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک عجیب وغریب سا تبسم منجمد ہورہا تھا۔

’’اس نے ہولے سے کہا۔ بابو جی، منتر پڑھیے۔ ‘‘

’’چپ چاپ بیٹھا رہ ورنہ یاد رکھ گلا گھونٹ دوں گا‘‘

۔ مسٹر شنکر اچاریہ بِھنّا گئے۔ اس مسافر کے لبوں پر جو غور سے باپ بیٹے کی گفتگو سن رہا تھا۔ ایک معنی خیز مسکراہٹ ناچ رہی تھی۔ رام آگے سرک آیا۔

’’بابو جی! آپ آنکھیں بند کرلیجیے۔ میں منتر پڑھتا ہوں۔ ‘‘

مسٹر راما شنکر اچاریہ نے آنکھیں بند نہ کیں۔ لیکن رام نے منتر پڑھنا شروع کیا۔

’’اونک میانگ شیانک۔ لومداگا۔ فرودما۔ سواہا‘‘

اور سواہا کے ساتھ ہی مسٹرراما شنکر اچاریہ کی گوشت بھری ران پر ایک پلندہ آگرا۔ ان کی ناک کا پانسہ عینک کی سنہری گرفت کے نیچے زور سے کانپا۔ رام کی چپٹی ناک کے گول اور لال نتھنے بھی کانپ رہے تھے۔

سعادت حسن منٹو

جیسے دوزخ میں میرا بستر تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 80
خواب اتنا زیادہ ابتر تھا
جیسے دوزخ میں میرا بستر تھا
میرے آنے پہ کیوں دھڑک اٹھا
تیرا دل تو ازل سے پتھر تھا
جس کو چاہا اسی کو جیت لیا
جانے کیا اس کے پاس منتر تھا
کوئی باہوں کی دائرے میں تھی
اور تعلق کا پہلا چیتر تھا
بند درزیں تھیں رابطوں والی
اس کی دیوار پر پلستر تھا
راستے کے بڑے مسائل ہیں
مجھ سے کچھ پوچھتے تو بہتر تھا
وردِ الحمد کی صدا منصور
صبح ابھری کہیں تو تیتر تھا
منصور آفاق