ٹیگ کے محفوظات: مناؤں

رُوٹھا یار مناؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 108
جان لبوں تک لاؤں
رُوٹھا یار مناؤں
مَیں انگناں میں شب کے
گیت سحر کے گاؤں
تپتے صحراؤں پر
ابر بنوں اور چھاؤں
اُجڑے پیڑ ہیں جتنے
برگ اُنہیں لوٹاؤں
خواہش کے ساحل پر
موجوں سا لہراؤں
دُکھتے جسم کو ماجدؔ
کب تک میں سہلاؤں
ماجد صدیقی

یہ رنگ بھی آ، تجھے دکھاؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
تن میں ترے مشعلیں جلاؤں
یہ رنگ بھی آ، تجھے دکھاؤں
چاہت کا وہِسحر تُجھ پہ پھونکوں
رگ رگ میں قیامتیں مچاؤں
تکمیل کروں کبھی تو اپنی
تجھ کو سرِ جسم و جاں سجاؤں
مخفی پسِ لب کلی کلی کے
جو راز ہے، وُہ تجھے بتاؤں
مَیں خود ہی جواب جن کا ٹھہروں
ایسے بھی سوال کُچھ اُٹھاؤں
غنچوں کی چٹک ہو جس پہ شیدا
وُہ زمزمہ اَب کے گنگناؤں
ہر لُطف ہے اِس میں ہر مزہ ہے
ماجدؔ کی غزل ہے کیوں نہ گاؤں
ماجد صدیقی

میں اپنے ہاتھ سےاس کی دلہن سجاؤں گی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 80
کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سےاس کی دلہن سجاؤں گی
سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی
بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی
وہ کیا گیا رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی، کسے مناؤں گی
اب اُس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گُنگناؤں گی
وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی
بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود
وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی
سماعتوں میں اب جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب کبھی تری آواز سُن نہ پاؤں گی
جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محّبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اُس کو بھول جاؤں گی
پروین شاکر

تاب اس جلوے کی لاؤں کیوں کر

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 49
وصل کے لطف اُٹھاؤں کیوں کر
تاب اس جلوے کی لاؤں کیوں کر
گرم جوشی کا کروں شکوہ کہ وہ
کہتے ہیں تجھ کو جلاؤں کیوں کر
کیا کروں ہائے میں بے تاب، وہ شوخ
چین سے پاس بٹھاؤں‌ کیوں کر
ہر بنِ مُو سے دھواں اٹھتا ہے
آتشِ غم کو چھپاؤں کیوں کر
میرے آنے سے تم اٹھ جاتے ہیں
بزمِ دشمن میں نہ آؤں کیوں کر
یاد نے جس کی بھلایا سب کچھ
اس کی میں یاد بھلاؤں کیوں کر
آپ بھایا مجھے رونا اپنا
کہتے ہیں ہائے میں جاؤں کیوں کر
چارۂ غیر سے فرصت ہی نہیں
دردِ دل اس کو سناؤں کیوں کر
زندگانی سے خفا ہوں اپنی
پھر کہو، تم کو مناؤں کیوں کر
اس کے آتے ہی بھڑک اٹھی اور
آتشِ دل کو بجھاؤں کیوں کر
شورِ محشر ابھی چونک اٹھے گا
شیفتہ کو میں جگاؤں کیوں کر
مصطفٰی خان شیفتہ