ٹیگ کے محفوظات: ملی

سوتے سوتے آنکھ ملی پھر

ہوا چلی اور خوب چلی پھر
سوتے سوتے آنکھ ملی پھر
ایسی بھی کیا وحشت گھر سے
پھرا کرو گے گلی گلی پھر
پروانوں کو جلانے والی
اپنی آگ میں آپ جلی پھر
کتنی بلائیں ٹل گئیں لیکن
جان پہ آئی کہاں ٹلی پھر
بات بات پر یوں مت اُلجھو
سنو گے مجھ سے بری بھلی پھر
سائے گہرے ہو گئے باصرؔ
دنیا میں اک شام ڈھلی پھر
باصر کاظمی

مہکی ہوئی وہ چادرِ گل بار کیا ہوئی

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 5
شاخوں بھری بہار میں رقص برہنگی
مہکی ہوئی وہ چادرِ گل بار کیا ہوئی
بے نغمہ و صدا ہے وہ بت خانۂِ خیال
کرتے تھے گفتگو جہاں پتھر کے ہونٹ بھی
وہ پھر رہے ہیں زخم بہ پا آج دشت دشت
قدموں میں جن کے شاخِ گلِ تر جھکی رہی
یوں بھی بڑھی ہے وسعت ایوانِ رنگ و بو
دیوارِ گلستان درِ زنداں سے جا ملی
رعنائیاں چمن کی تو پہلے بھی کم نہ تھیں
اب کے مگر سجائی گئی شاخِ دار بھی
شکیب جلالی

یہ میرا طورِ زندگی ہی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 139
کام کی بات میں نے کی ہی نہیں
یہ میرا طورِ زندگی ہی نہیں
اے اُمید، اے اُمیدِ نو میداں
مجھ سے میّت تیری اُٹھی ہی نہیں
میں جو تھا اِس گلی کا مست خُرام
اس گلی میں میری چلی ہی نہیں
یہ سنا ہے کہ میرے کوچ کے بعد
اُس کی خوشبو کہیں بسی ہی نہیں
تھی جو اِک فاختہ اُداس اُداس
صبح وہ شاخ سے اُڑی ہی نہیں
مجھ میں اب میرا جی نہیں لگتا
اور ستم یہ کے میرا جی ہی نہیں
وہ رہتی تھی جو دل محلے میں
وہ لڑکی مجھے ملی ہی نہیں
جائیے اور خاک اڑائیں آپ
اب وہ گھر کیا کے وہ گلی ہی نہیں
ہائے وہ شوق جو نہیں تھا کبھی
ہائے وہ زندگی جو تھی ہی نہیں
جون ایلیا