ٹیگ کے محفوظات: ملیں

دیکھنے سے جن کے مائیں مر گئیں اِس شہر میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
عصمتوں کی دھجّیاں کیا کیا اُڑیں اِس شہر میں
دیکھنے سے جن کے مائیں مر گئیں اِس شہر میں
کون کہہ سکتا ہے کس کی استراحت کے سبب
جاگتے جسموں میں جانیں تک جلیں اِس شہر میں
اوٹ میں نامنصفی کی جانے کیا کیا چاہتیں
موت کی آغوش میں سوئی ملیں اِس شہر میں
اِس قدر ارزاں تو یہ جنسِ گراں دیکھی نہیں
سنگ کے بھاؤ تُلے جتنے نگیں اِس شہر میں
ضرب سے حرفِ گراں کی جابجا بکھری ملیں
دل کے آئینوں کی کیا کیا کرچیاں اِس شہر میں
دیکھنے میں تو نظر آتی ہیں سب پلکیں کھُلی
جاگتی اِک آنکھ بھی لیکن نہیں اِس شہر میں
وحشتوں کے جانے کن کن ناخنوں سے کُو بہ کُو
مینڈھیاں ماجدؔ حیاؤں کی کھُلیں اِس شہر میں
ماجد صدیقی

کبھی ملو کہ خیابانِ تن میں پھُول کِھلیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
بفیضِ قرب پھریں مستیٔ نظر کی رُتیں
کبھی ملو کہ خیابانِ تن میں پھُول کِھلیں
یہی حجاب تو ہیں وجہِ خامشی، ورنہ
سُنیں تمہاری بھی، کچھ اپنے دل کی بات کہیں
یہ حرفِ گرم، تہِ حلق رُک گیا کیسا
سُلگ اُٹھی ہیں یہ کیونکر لب و زباں کی تہیں
کسی اُفق کو تو ہم تُم بھی دیں جنم آخر
یہ آسمان و زمیں بھی کسی جگہ تو ملیں
کبھی تو دیجئے آ کر اِنہیں بھی اِذنِ کشود
پڑی ہیں خوں میں جو گرہیں کسی طرح تو کھُلیں
یہ شُعلہ ہائے بدن اپنے سامنے پا کر
چراغ کیوں نہ لُہو کے بچشمِ شوق جلیں
وہ دِن بھی آئیں کہ بالطفِ دید ہم ماجدؔ
نظر کے حُسن سے باہم فضا میں رنگ بھریں
ماجد صدیقی

مسافروں کے ارادے بدل نہ جائیں کہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 24
یہ آگ آگ ہوائیں یہ سرخ سرخ زمیں
مسافروں کے ارادے بدل نہ جائیں کہیں
ترے بغیر نظر کا یہ حال ہے جیسے
تمام شہرکی شمعیں کسی نے گل کر دیں
ہزار کروٹیں لیتی ہے ایک پل میں حیات
جو ایک بار نگاہیں ہٹیں تو پھر نہ ملیں
ترے خیال میں گم ہو گئے ہیں دیوانے
ترے سوا کوئی اب تیری انجمن میں نہیں
اسی کا نام تو دیوانگی نہیں باقیؔ
کہ اپنے آپ سے ہنس ہنس کے ہم نے باتیں کیں
باقی صدیقی