ٹیگ کے محفوظات: ملوں

مگر قرار سے دن کٹ رہے ہوں یوں بھی نہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 81
فراز اب کوئی سودا کوئی جنوں بھی نہیں
مگر قرار سے دن کٹ رہے ہوں یوں بھی نہیں
لب و دہن بھی ملا گفتگو کا فن بھی ملا
مگر جو دل پہ گزرتی ہے کہہ سکوں بھی نہیں
مری زبان کی لکنت سے بدگمان نہ ہو
جو تو کہے تو تجھے عمر بھر ملوں بھی نہیں
فراز جیسے دیا تربتِ ہوا چاہے
تو پاس آۓ تو ممکن ہے میں رہوں بھی نہیں
احمد فراز

جنگل کی ہوا رہوں کہاں تک

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 48
اپنی ہی صدا سُنوں کہاں تک
جنگل کی ہوا رہوں کہاں تک
ہر بار ہوا نہ ہو گی درپر
ہر بار مگر اُٹھوں کہاں تک
دَم گھٹتا ہے ، گھر میں حبس وہ ہے
خوشبو کے لیے رُکوں کہاں تک
پھر آگے ہوائیں کھول دیں گی
زخم اپنے رفو کروں کہاں تک
ساحل پہ سمندروں سے بچ کر
میں نام ترا لکھوں کہاں تک
تنہائی کا ایک ایک لمحہ
ہنگاموں سے قرض لوں کہاں تک
گرلمس نہیں تو لفظ ہی بھیج
میں تجھ سے جُدا رہوں کہاں تک
سُکھ سے بھی تو دوستی کبھی ہو
دُکھ سے ہی گلے ملوں کہاں تک
منسوب ہو ہر کرن کسی سے
اپنے ہی لیے جَلوں کہاں تک
آنچل مرے بھر کے پھٹ رہے ہیں
پُھول اُس کے لیے چُنوں کہاں تک
پروین شاکر