ٹیگ کے محفوظات: ملت

اور گذارا کب تک ہو گا کچھ اب ہم رخصت سے ہیں

دیوان پنجم غزل 1691
صبر کیا ہے برسوں ہم نے رات سے بے طاقت سے ہیں
اور گذارا کب تک ہو گا کچھ اب ہم رخصت سے ہیں
رسم لطف نہیں ہے مطلق شہر خوش محبوباں میں
دیکھے کم جو کرتے کسو پر ہم عاشق مدت سے ہیں
عشق کے دین اور مذہب میں مرجانا واجب آیا ہے
کوہکن و مجنون موئے اب ہم بھی اسی ملت سے ہیں
ملنا نفروں سے ان کا چھوٹا آکر میری صحبت میں
پھر متنفر بھی یہ بے تہ مجھ سے کی صحبت سے ہیں
فرصت ان کو کم ہے اگرچہ پر ملتے ہیں قابو پر
برسوں میر سے مل دیکھا ہے کچھ وے کم فرصت سے ہیں
میر تقی میر

وے اندھیری مینھ برسے جوں کبھو شدت سے یاں

دیوان چہارم غزل 1459
ہجر میں روتا ہوں ہر شب میں تو اس صورت سے یاں
وے اندھیری مینھ برسے جوں کبھو شدت سے یاں
کس قدر بیگانہ خو ہیں مردمان شہرحسن
بات کرنا رسم و عادت ہی نہیں الفت سے یاں
اٹھ گئے ہیں جب سے ہم سونا پڑا ہے باغ سب
شور ہنگام سحر کا مہر ہے مدت سے یاں
سر کوئی پھوڑے محبت میں تو بارے اس طرح
مر گیا ہے عشق میں فرہاد جس قدرت سے یاں
دلکشی اس بزم کی ظاہر ہے تم دیکھو تو ہو
لوگ جی دیتے چلے جاتے ہیں کس حسرت سے یاں
صورتوں سے خاکداں یہ عالم تصویر ہے
بولیں کیا اہل نظر خاموش ہیں حیرت سے یاں
فہم حرفوں کے تنافر کا بھی یاروں کو نہیں
اس پہ رکھتے ہیں تنفر سب مری صحبت سے یاں
پنج روزہ عمر کریے عاشقی یا زاہدی
کام کچھ چلتا نہیں اس تھوڑی سی مہلت سے یاں
کیا سرجنگ و جدل ہو بے دماغ عشق کو
صلح کی ہے میر نے ہفتاد و دو ملت سے یاں
میر تقی میر