ٹیگ کے محفوظات: ملتی

منجمد ہوتی ہوئی اور پگھلتی ہوئی شام

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 95
اپنی کیفیتیں ہر آن بدلتی ہوئی شام
منجمد ہوتی ہوئی اور پگھلتی ہوئی شام
ڈگمگاتی ہوئی ہر گام سنبھلتی ہوئی شام
خواب گاہوں سے اِدھر خواب میں چلتی ہوئی شام
گوندھ کر موتیے کے ہار گھنی زلفوں میں
عارض و لب پہ شفق سرخیاں ملتی ہوئی شام
اک جھلک پوشش بے ضبط سے عریانی کی
دے گئی، دن کے نشیبوں سے پھسلتی ہوئی شام
ایک سناٹا رگ و پے میں سدا گونجتا ہے
بجھ گئی جیسے لہو میں کوئی جلتی ہوئی شام
وقت بپتسمہ کرے آبِ ستارہ سے اِسے
دستِ دنیا کی درازی سے نکلتی ہوئی شام
آفتاب اقبال شمیم

پر طاقِ شب تنہائی میں اک شمع مسلسل جلتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 594
ہر شام شعاعیں بجھتی ہیں ہر صبح سیاہی ڈھلتی ہے
پر طاقِ شب تنہائی میں اک شمع مسلسل جلتی ہے
کچھ رنگ اِدھر سے آتے ہیں کچھ رنگ اُدھر سے جاتے ہیں
تاریکی دباتی ہے پاؤں جب روشنی پنکھا جھلتی ہے
تجدید محبت کی کوشش بے سود ہے مجھکو بھول بھی جا
کب راکھ سے شعلے اٹھتے ہیں کب ریت میں کشتی چلتی ہے
یہ کس نے حسیں دوشیزہ کے خوابوں کا تسلسل توڑ دیا
اب چونک کے نیند سے اٹھی ہے گھبرا کے وہ آنکھیں ملتی ہے
ہم لوگ ستم کے شہروں میں مصروف عمل ہیں زیرِ زمیں
آغوشِ شبِ نادیدہ میں تحریک سحر کی پلتی ہے
کیوں اس کا لکھا ہے نام بتا۔۔اس شہر کی سب دیواروں پر
ناراض یونہی وہ شخص نہیں منصوریہ تیری غلطی ہے
منصور آفاق

ہاتھ تصویر پہ ملتی ہوئی چیخ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 152
آتشِ لمس سے جلتی ہوئی چیخ
ہاتھ تصویر پہ ملتی ہوئی چیخ
زخم پاؤں میں کیے جاتی ہے
خشک پتوں سے نکلتی ہوئی چیخ
اک شکاری کے کفن سے ابھری
برف کے ساتھ پگھلتی ہوئی چیخ
کس نے چپکائی ہے دیواروں پر
خواب میں رنگ بدلتی ہوئی چیخ
میں طلسمات سے نکلا تو ملی
بابِ حیرت پہ مچلتی ہوئی چیخ
قاتلو! دھوتے رہو نقشِ قدم
چلتی جاتی ہے وہ چلتی ہوئی چیخ
اک تعلق کے گلے سے نکلی
در و دیوار نگلتی ہوئی چیخ
پھر وہی ڈوبتا سورج منصور
پھر وہی آگ اگلتی ہوئی چیخ
آخری سانس میں ڈھلتی ہوئی چیخ
گر پڑی ایک سنبھلتی ہوئی چیخ
منصور آفاق