ٹیگ کے محفوظات: ملال

جبھی تو تیرے نہ ملنے کا کچھ ملال نہ تھا

میں جانتا ہوں کہ ملنا ترا محال نہ تھا
جبھی تو تیرے نہ ملنے کا کچھ ملال نہ تھا
مجھے تو صرف ترا پیار کھینچ لایا ہے
یہاں رقیب بھی ہوں گے مجھے خیال نہ تھا
خود اپنے آپ سے میں نے شکست کھائی تھی
مری شکست میں تیرا کوئی کمال نہ تھا
خراب حال بہر حال کوئی حال تو ہے
وہ دن بھی یاد ہیں جب اپنا کوئی حال نہ تھا
اُسی کے ہو گئے جس راستے پہ چل نکلے
سدا سے اپنی طبیعت میں اعتدال نہ تھا
گِلہ فضول ہے مُرجھا گیا جو نخلِ عشق
جو اِس زمین میں اُگتا یہ وہ نہال نہ تھا
باصر کاظمی

نظر میں تھا، پہ ترا ہی وہ اک جمال نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
نہیں کہ تجھ سے وفا کا ہمیں خیال نہ تھا
نظر میں تھا، پہ ترا ہی وہ اک جمال نہ تھا
لبوں میں جان تھی پھر بھی ہماری آنکھوں میں
ستمگروں سے بقا کا کوئی سوال نہ تھا
ٹھہر سکا نہ بہت تیغِ موج کے آگے
ہزار سخت سہی، جسم تھا یہ ڈھال نہ تھا
کوئی نہیں تھا شکایت نہ تھی جسے ہم سے
ہمیں تھے ایک، کسی سے جنہیں ملال نہ تھا
غضب تو یہ ہے کہ تازہ شکار کرنے تک
نظر میں گرگ کی، چنداں کوئی جلال نہ تھا
بہ کُنجِ عجز فقط گن ہی گن تھے پاس اپنے
یہاں کے اوج نشینوں سا کوئی مال نہ تھا
ہمیں ہی راس نہ ماجدؔ تھی مصلحت ورنہ
یہی وہ جنس تھی، جس کا نگر میں کال نہ تھا
ماجد صدیقی

یُوں تو ہو گا یہ جی کچھ اور نڈھال

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
ہو نہ محتاجِ پرسشِ احوال
یُوں تو ہو گا یہ جی کچھ اور نڈھال
وہ ترا بام ہو کہ ہو سرِ دار
پستیوں سے مجھے کہیں تو اُچھال
گُل بہ آغوش ہیں مرے ہی لیے
یہ شب و روز یہ حسیں مہ و سال
دن ترے پیار کا اُجالا ہے
شب ترے عارضوں کا مدّھم خال
مَیں مقّید ہوں اپنی سوچوں کا
بُن لیا مَیں نے شش جہت اِک جال
بے رُخی کی تو آپ ہی نے کی
آپ سے کچھ نہ تھا ہمیں تو ملال
ہے اسی میں تری شفا ماجدؔ
لکھ غزل اور اِسے گلے میں ڈال
ماجد صدیقی

کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 140
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے
کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے
ہم کہ دونوں کے گرفتار رہے، جانتے ہیں
دامِ دنیا سے کہیں زلف کا جال اچھا ہے
میں نے پوچھا تھا کہ آخر یہ تغافل کب تک؟
مسکراتے ہوئے بولے کہ سوال اچھا ہے
دل نہ مانے بھی تو ایسا ہے کہ گاہے گاہے
یارِ بے فیض سے ہلکا سا ملال اچھا ہے
لذتیں قرب و جدائی کی ہیں اپنی اپنی
مستقل ہجر ہی اچھا نہ وصال اچھا ہے
رہروانِ رہِ اُلفت کا مقدر معلوم
ان کا آغاز ہی اچھا نہ مال اچھا ہے
دوستی اپنی جگہ، پر یہ حقیقت ہے فراز
تیری غزلوں سے کہیں تیرا غزال اچھا ہے
احمد فراز

وہ چارہ گر تو ہے اس کو خیال جو بھی ہو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 54
چلو اسی سے کہیں دل کا حال جو بھی ہو
وہ چارہ گر تو ہے اس کو خیال جو بھی ہو
اسی کے درد سے ملتے ہیں سلسلے جاں کے
اسی کے نام لگا دو ملال جو بھی ہو
مرے نہ ہار کے ہم قیس و کوہکن کی طرح
اب عاشقی میں ہماری مثال جو بھی ہو
یہ رہ گزر پہ جو شمعیں دمکتی جاتی ہیں
اسی کا قامتِ زیبا ہے، چال جو بھی ہو
فراز اس نے وفا کی یا بے وفائی کی
جوابدہ تو ہمیں ہیں سوال جو بھی ہو
احمد فراز

شہر میں آوازوں کا کال پڑا لوگو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 49
اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو
شہر میں آوازوں کا کال پڑا لوگو
ہر چہرہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا
اب کے دلوں میں ایسا بال پڑا لوگو
جب بھی دیار خندہ دلاں سے گزرے ہیں
اس سے آگے شہر ملال پڑا لوگو
آئے رت اور جائے رت کی بات نہیں
اب تو عمروں کا جنجال پڑا لوگو
تلخ نوائی کا مجرم تھا صرف فراز
پھر کیوں سارے باغ پہ جال پڑا لوگو
احمد فراز

گزار دیں گے یونہی کیا یہ ماہ و سال مجھے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 73
ڈرا رہا ہے مسلسل یہی سوال مجھے
گزار دیں گے یونہی کیا یہ ماہ و سال مجھے
بچھڑتے وقت اضافہ نہ اپنے رنج میں کر
یہی سمجھ کہ ہوا ہے بہت ملال مجھے
وہ شہرِ ہجر عجب شہرِ پُر تحیر تھا
بہت دنوں میں تو آیا ترا خیال مجھے
تُو میرے خواب کو عجلت میں رائگاں نہ سمجھ
ابھی سخن گہِ امکاں سے مت نکال مجھے
کسے خبر کہ تہِ خاک آگ زندہ ہو
ذرا سی دیر ٹھہر ، اور دیکھ بھال مجھے
کہاں کا وصل کہ اس شہرِ پُر فشار میں اب
ترا فراق بھی لگنے لگا محال مجھے
اِسی کے دم سے تو قائم ابھی ہے تارِ نفس
یہ اک امید کہ رکھتی ہے پُر سوال مجھے
کہوں میں تازہ غزل اے ہوائے تازہ دلی
ذرا سی دیر کو رکھے جو تُو بحال مجھے
خرامِ عمر کسی شہرِ پُر ملال کو چل
کیے ہوئے ہے یہ آسودگی نڈھال مجھے
کہاں سے لائیں بھلا ہم جوازِ ہم سفری
تجھے عزیز ترے خواب، میرا حال مجھے
اُبھر رہا ہوں میں سطحِ عدم سے نقش بہ نقش
تری ہی جلوہ گری ہوں ذرا اُجال مجھے
یہاں تو حبس بہت ہے سو گردِ بادِ جنوں
مدارِ وقت سے باہر کہیں اچھال مجھے
پھر اس کے بعد نہ تُو ہے، نہ یہ چراغ، نہ میں
سحر کی پہلی کرن تک ذرا سنبھال مجھے
عرفان ستار

عمر کا کچھ احوال نہیں ہے اور مآل میں زندہ ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 32
ہونے کا اظہار نہیں ہے، صرف خیال میں زندہ ہوں
عمر کا کچھ احوال نہیں ہے اور مآل میں زندہ ہوں
ٹھیک ہے میرا ہونا تیرے ہونے سے مشروط نہیں
لیکن اتنا یاد رہے میں ایک ملال میں زندہ ہوں
اپنا دل برباد کیا تو پھر یہ گھر آباد ہوا
پہلے میں اک عرش نشیں تھا اب پاتال میں زندہ ہوں
اک امکان کی بے چینی سے ایک محال کی وحشت تک
میں کس حال میں زندہ تھا اور میں کس حال میں زندہ ہوں
دنیا میری ذات کو چاہے رد کر دے، تسلیم کرے
میں تو یوں بھی تیرے غم کے استدلال میں زندہ ہوں
کتنی جلدی سمٹا ہوں میں وسعت کی اس ہیبت سے
کل تک عشق میں زندہ تھا میں آج وصال میں زندہ ہوں
ایک فنا کی گردش ہے یہ ایک بقا کا محور ہے
ایک دلیل نے مار دیا ہے ایک سوال میں زندہ ہوں
عرفان ستار

بچھڑ گئے تو پھر ترا خیال کیوں نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 15
شکستِ خواب کا ہمیں ملال کیوں نہیں رہا
بچھڑ گئے تو پھر ترا خیال کیوں نہیں رہا
اگر یہ عشق ہے تو پھر وہ شدتیں کہاں گئیں
اگر یہ وصل ہے تو پھر محال کیوں نہیں رہا
وہ زلف زلف رات کیوں بکھر بکھر کے رہ گئی
وہ خواب خواب سلسلہ بحال کیوں نہیں رہا
وہ سایہ جو بجھا تو کیا بدن بھی ساتھ بجھ گیا
نظر کو تیرگی کا اب ملال کیوں نہیں رہا
وہ دور جس میں آگہی کے در کھلے تھے کیا ہوا
زوال تھا تو عمر بھر زوال کیوں نہیں رہا
کہیں سے نقش بجھ گئے کہیں سے رنگ اڑ گئے
یہ دل ترے خیال کو سنبھال کیوں نہیں رہا
عرفان ستار

جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 223
کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے
میں سکون پا سکوں گا یہ گماں بھی کیوں کیا تھا
ہے یہی ملال کیا کم کہ ملال اب نہیں ہے
نہ رہے اب اس کے دل میں خلشِ شکستِ وعدہ
کہ یہاں کوئی حسابِ مہ و سال اب نہیں ہے
یہ دیارِ دید کیا ہے گئے دشتِ دل سے بھی ہم
کہ ختن زمین میں بھی وہ غزال اب نہیں ہے
جو لیے لیے پھری ہے تجھے روز اک نگر میں
مرے دل ترے نگر میں وہ مثال اب نہیں ہے
لبِ پُرسوال لے کے ہمیں کُوبہ کُو ہے پِھرنا
ہو کوئی جواب برلب یہ سوال اب نہیں ہے
جون ایلیا

تیری مثال دے کے ہم تیری مثال ہو گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 170
نام ہی کیا نشاں ہی کیا خواب و خیال ہو گئے
تیری مثال دے کے ہم تیری مثال ہو گئے
سایہ ذات سے بھی رم، عکس صفات سے بھی رم
دشتِ غزل میں آ کے دیکھ ہم تو غزال ہو گئے
کتنے ہی نشہ ہائے ذوق، کتنے ہی جذبہ ہائے شوق
رسمِ تپاکِ یار سے رو بہ زوال ہو گئے
عشق ہے اپنا پائیدار، اس کی وفا ہے استوار
ہم تو ہلاک۔ ورزشِ فرض۔ محال ہو گئے
کیسے زمیں پرست تھے عہدِ وفا کے پاس دار
اڑ کے بلندیوں میں ہم، گرد ملال ہو گئے
قربِ جمال اور ہم، عیش و وصال اور ہم؟
ہاں یہ ہوا کہ ساکنِ شہرِ جمال ہو گئے
جادو شوق میں پڑا قحطِ غبارِ کارواں
واں کے شجر تو سر بہ سر دست سوال ہو گئے
کون سا قافلہ ہے یہ، جس کے جرس کا ہے یہ شور
میں تو نڈھال ہو گیا، ہم تو نڈھال ہو گئے
خار بہ خار گل بہ گل، فصلِ بہار آ گئی
فصلِ بہار آ گئی۔ زخم بحال ہو گئے
شور اٹھا مگر تجھے لذت گوش تو ملی
خون بہا مگر ترے ہاتھ تو لال ہو گئے
ہم نفسانِ وضع دار، مستعانِ بردبار
ہم تو تمہارے واسطے ایک وبال ہو گئے
جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
اب کئی ہجر ہو چکے، اب کئی سال ہو گئے
جون ایلیا

فغاں کہ اب وہ ملالِ ملال ہے بھی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 136
جو حال خیز ہو دل کا وہ حال ہے بھی نہیں
فغاں کہ اب وہ ملالِ ملال ہے بھی نہیں
تُو آ کے بے سروکارانہ مار ڈال مجھے
کہ تیغ تھی بھی نہیں اور ڈھال ہے بھی نہیں
مرا زوال ہے اس کے کمال کا حاصل
مرا زوال تو میرا زوال ہے بھی نہیں
کیا تھا جو لبِ خونیں سے اس پہ میں نے سخن
کمال تھا بھی نہیں اور کمال ہے بھی نہیں
وہ اک عجیب زلیخا ہے، یعنی بے یوسف
ہمارے مصر میں اس کی مثال ہے بھی نہیں
تُو ایک کہنہ متاعِ دکانِ شرم ہے، شرم!
ترے بدن کا کوئی حال، حال ہے بھی نہیں
وہ کیا تھی ایک عروسِ ہزار شوہر تھی
سو اب مجھے غمِ ہجر و وصال ہے بھی نہیں
تری گلی میں تو کوڑے کے ڈھیر ہیں جب سے
تری گلی میں کمینوں کا کال ہے بھی نہیں
جون ایلیا

اُس کو خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 135
حال یہ ہے کہ خواہشِ پُرسشِ حال بھی نہیں
اُس کو خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں
اے شجرِ حیاتِ شوق، ایسی خزاں رسیدگی؟
پوششِ برگ و گُل تو کیا، جسم پہ چھال بھی نہیں
مُجھ میں وہ شخص ہو چکا جس کا کوئی حساب تھا
سُود ہی کیا، زیاں ہے کیا، اس کا سوال بھی نہیں
مست ہیں اپنے حال میں دل زدگان و دلبراں
صُلح و سلام تو کُجا، بحث و جدال بھی نہیں
تُو میرا حوصلہ تو دیکھ، داد تو دے کہ اب مجھے
شوقِ کمال بھی نہیں، خوفِ زوال بھی نہیں
خیمہ گہ نگاہ کو لوٹ لیا گیا ہے کیا؟
آج افق کے دوش پر گرد کی شال بھی نہیں
اف یہ فضا سے احتیاط تا کہیں اڑ نہ جائیں ہم
بادِ جنوب بھی نہیں، بادِ شمال بھی نہیں
وجہ معاشِ بے دلاں، یاس ہے اب مگر کہاں
اس کے درود کا گماں، فرضِ محال بھی نہیں
غارتِ روز و شب کو دیکھ، وقت کا یہ غضب تو دیکھ
کل تو نڈھال بھی تھا میں، آج نڈھال بھی نہیں
میرے زبان و ذات کا ہے یہ معاملہ کہ اب
صبحِ فراق بھی نہیں، شامِ وصال بھی نہیں
پہلے ہمارے ذہن میں حسن کی اک مثال تھی
اب تو ہمارے ذہن میں کوئی مثال بھی نہیں
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
جون ایلیا

اب کہیں اوج پر نہیں تیرا خیال شہر میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 105
رو بہ زوال ہو گئی مستی حال شہر میں
اب کہیں اوج پر نہیں تیرا خیال شہر میں
یہ جو کراہتے ہوئے لوٹ رہے ہیں شہر سے
خوب دکھا کے آئے ہیں اپنا کمال شہر میں
شہر وفا میں ہر طرف سود و زیاں کی ہے شمار
لائیں گے اب کہاں سے ہم کوئی مثال شہر میں
حالت گفتگو نہیں عشرت آرزو نہیں
کتنی اداس آئی ہے شام وصال شہر میں
خاک نشیں ترے تمام خانہ نشین ہو گئے
چار طرف ہے اڑ رہی گرد ملال شہر میں
جون ایلیا

بس ایک خیال چاہیے تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 33
کب اس کا وصال چاہیے تھا
بس ایک خیال چاہیے تھا
کب دل کو جواب سے غرض تھی
ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا
شوق ایک نفس تھا اور وفا کو
پاسِ مہ و سال چاہیے تھا
اک چہرۂِ سادہ تھا جو ہم کو
بے مثل و مثال چاہیے تھا
اک کرب میں ذات و زندگی ہیں
ممکن کو محال چاہیے تھا
میں کیا ہوں بس ملالِ ماضی
اس شخص کو حال چاہیے تھا
ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو
کچھ دن تو ملال چاہیے تھا
وہ جسم جمال تھا سراپا
اور مجھ کو جمال چاہیے تھا
وہ شوخِ رمیدہ مجھ کو اپنی
بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا
تھا وہ جو کمالِ شوقِ وصلت
خواہش کو زوال چاہیے تھا
جو لمحہ بہ لمحہ مل رہا ہے
وہ سال بہ سال چاہیے تھا
جون ایلیا

آئینہ بے مثال کِس کا تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 27
وہ خیالِ مُحال کِس کا تھا
آئینہ بے مثال کِس کا تھا
سفری اپنے آپ سے تھا میں
ہجر کِس کا۔۔وصال کِس کا تھا
میں تو خود میں کہیں نہ تھا موجود
میرے لب پر سوال کِس کا تھا
تھی مری ذات اک خیال آشوب
جانے میں ہم خیال کِس کا تھا
جب کہ میں ہر نفس تھا بے احوال
وہ جو تھا میرا حال کِس کا تھا
دوپہر! بادِ تُند! کوچہء یار!
وہ غبارِ ملال کِس کا تھا
جون ایلیا

اے نقش وہم آیا کیدھر خیال تیرا

دیوان دوم غزل 745
کیا تو نمود کس کی کیسا کمال تیرا
اے نقش وہم آیا کیدھر خیال تیرا
کیا ہے جو ہو زنخ زن مہ پاس کا ستارہ
ہے داغ جان عالم ٹھوڑی کا خال تیرا
اے گل مغل بچہ وہ مرزا ہے اس کے آگے
کچھ بھی بھلا لگے ہے منھ لال لال تیرا
تجھ روے خوے فشاں سے انجم ہی کیا خجل ہیں
ہے آفتاب کو بھی اے ماہ سال تیرا
اب صبح پاس گل کے ہوکر نہیں نکلتی
دیکھا نسیم نے بھی شاید جمال تیرا
پہلا قدم ہے انساں پامال مرگ ہونا
کیا جانے رفتہ رفتہ کیا ہو مآل تیرا
ہو گی جو چل سرمو پنہاں نہیں رہے گی
اک دن زبان ہو گا ایک ایک بال تیرا
تفصیل حال میری تھی باعث کدورت
سو جی کو خوش نہ آیا ہرگز ملال تیرا
کچھ زرد زرد چہرہ کچھ لاغری بدن میں
کیا عشق میں ہوا ہے اے میر حال تیرا
میر تقی میر

یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں

دیوان اول غزل 355
خوش نہ آئی تمھاری چال ہمیں
یوں نہ کرنا تھا پائمال ہمیں
حال کیا پوچھ پوچھ جاتے ہو
کبھو پاتے بھی ہو بحال ہمیں
وہ دہاں وہ کمر ہی ہے مقصود
اور کچھ اب نہیں خیال ہمیں
اس مہ چاردہ کی دوری نے
دس ہی دن میں کیا ہلال ہمیں
نظر آتے ہیں ہوتے جی کے وبال
حلقہ حلقہ تمھارے بال ہمیں
تنگی اس جا کی نقل کیا کریے
یاں سے واجب ہے انتقال ہمیں
صرف للہ خم کے خم کرتے
نہ کیا چرخ نے کلال ہمیں
مغ بچے مال مست ہم درویش
کون کرتا ہے مشت مال ہمیں
کب تک اس تنگنا میں کھینچئے رنج
یاں سے یارب تو ہی نکال ہمیں
ترک سبزان شہر کریے اب
بس بہت کر چکے نہال ہمیں
وجہ کیا ہے کہ میر منھ پہ ترے
نظر آتا ہے کچھ ملال ہمیں
میر تقی میر

کچھ ربط ہے ضرور خوشی سے ملال کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 14
پھر کیوں اُداس کر گیا مثردہ وصال کا
کچھ ربط ہے ضرور خوشی سے ملال کا
تھم ہی نہ جائے کثرت اشیا کے بوجھ سے
کیا وقت آ پڑا ہے زمیں پر زوال کا
مٹ جائے دل سے حسرتِ اظہار کی خلش
اک روز ایک شعر کہو اس کمال کا
رہتا ہوں ملکِ غم کی عروس البلاد میں
افسوس ہی ثمر ہے جہاں کی سفال کا
کچھ لت ہی پڑ گئی ہے پرانی شراب کی
جیتا ہوں کل میں گرچہ زمانہ ہے حال کا
شاید کہ حسن وقت سے باہر کی چیز ہے
دیکھا اُسے تو فرق مٹا ماہ و سال کا
ہے میرے دم سے غیب کا حاضر سے رابطہ
ڈھونڈو نا! کوئی آدمی میری مثال کا
آفتاب اقبال شمیم

شب و روزِ آشنائی مہ و سال تک نہ پہنچے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 13
کیے آرزو سے پیماں جو مآل تک نہ پہنچے
شب و روزِ آشنائی مہ و سال تک نہ پہنچے
وہ نظر بہم نہ پہنچی کہ محیطِ حسن کرتے
تری دید کے وسیلے خد و خال تک نہ پہنچے
وہی چشمہء بقا تھا جسے سب سراب سمجھے
وہی خواب معتبر تھے جو خیال تک نہ پہنچے
ترا لطف وجہِ تسکیں، نہ قرار شرحِ غم سے
کہ ہیں دل میں وہ گلے بھی جو ملال تک نہ پہنچے
کوئی یار جاں سے گزرا، کوئی ہوش سے نہ گزرا
یہ ندیم یک دو ساغر مرے حال تک نہ پہنچے
چلو فیض دل جلائیں کریں پھر سے عرضِ جاناں
وہ سخن جو لب تک آئے پہ سوال تک نہ پہنچے
فیض احمد فیض

تو دلبرانِ غزل خط و خال سے بھی گئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 257
ہم اہلِ شعر جو حسنِ خیال سے بھی گئے
تو دلبرانِ غزل خط و خال سے بھی گئے
بچھڑ گئے کہیں رَستے میں ہمسفر موسم
گئے دِنوں کے تعاقب میں حال سے بھی گئے
وہ کہہ گیا ہے پھر آئیں گے ہم، اُداس نہ ہو
تو ہم خوشی سے بھی چھوُٹے، ملال سے بھی گئے
وہاں بھی اِس کے سوا اور کچھ نصیب نہ تھا
ختن سے نکلے تو چشمِ غزال سے بھی گئے
وہ ہونٹ پندگروں کو بھی کر گئے خاموش
غریب مشغلۂ قیل و قال سے بھی گئے
عرفان صدیقی

شبِ سفر میں کبھی ساعتِ زوال بھی آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 242
کہیں خیام لگیں قریہ وصال بھی آئے
شبِ سفر میں کبھی ساعتِ زوال بھی آئے
کسی اُفق پہ تو ہو اتصالِ ظلمت و نور
کہ ہم خراب بھی ہوں اور وہ خوش خصال بھی آئے
سخن میں کب سے ہے روشن، یہ کیا ضروری ہے
کہ وہ ستارہ سرِ مطلعِ مثال بھی آئے
سنا ہے سیر کو نکلی ہوئی ہے موجِ نشاط
عجب نہیں طرفِ کوچۂ ملال بھی آئے
ہمیں عطیۂ ترکِ طلب قبول نہ تھا
سو ہم تو اس کی عنایت پہ خاک ڈال بھی آئے
عرفان صدیقی

تو کیسا شعبدہ گر ہے، کوئی کمال بھی کر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 94
بزرگِ وقت، کسی شے کو لازوال بھی کر
تو کیسا شعبدہ گر ہے، کوئی کمال بھی کر
دَرخت ہوں تو کبھی بیٹھ میرے سائے میں
میں سبزہ ہوں تو کبھی مجھ کو پائمال بھی کر
یہ تمکنت کہیں پتھر بنا نہ دے تجھ کو
توُ آدمی ہے، خوشی بھی دِکھا، ملال بھی کر
میں چاہتا ہوں کہ اَب جو بھی جی میں آئے کروں
تجھے بھی میری اِجازت ہے جو خیال بھی کر
پگھل رہی ہیں اس آشوبِ وقت میں صدیاں
وہ کہہ رہا ہے کہ تو فکرِ ماہ و سال بھی کر
عرفان صدیقی

پلکیں سفید کر گئے دو پل ملال کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 572
ہجراں کے بے کنار جہنم میں ڈال کے
پلکیں سفید کر گئے دو پل ملال کے
میں آنکھ کی دراز میں کرتا ہوں کچھ تلاش
گہرے سیاہ بلب سے منظر اجال کے
دفنا نہیں سکا میں ابھی تک زمین میں
کچھ روڈ پر مرے ہوئے دن پچھلے سال کے
بستر پہ کروٹوں بھری شکنوں کے درمیاں
موتی گرے پڑے ہیں تری سرخ شال کے
تصویر میں نے اپنی سجا دی ہے میز پر
باہر فریم سے ترا فوٹو نکال کے
پازیب کے خرام کی قوسیں تھیں پاؤں میں
کتھک کیا تھا اس نے کناروں پہ تھال کے
اڑنے دے ریت چشمِ تمنا میں دشت کی
رکھا ہوا ہے دل میں سمندر سنبھال کے
سر پہ سجا لیے ہیں پرندوں کے بال و پر
جوتے پہن لیے ہیں درندوں کی کھال کے
آنکھوں تلک پہنچ گئی، دلدل تو کیا کروں
رکھا تھا پاؤں میں نے بہت دیکھ بھال کے
حیرت فزا سکوت ہے دریائے ذات پر
آبِ رواں پہ اترے پرندے کمال کے
میں سن رہا ہوں زرد اداسی کی تیز چاپ
جھڑنے لگے ہیں پیڑ سے پتے وصال کے
منصور راکھ ہونے سے پہلے فراق میں
سورج بجھانے والا ہوں پانی اچھال کے
منصور آفاق

بوند بوند بکھرے تھے جسم پر خیال اپنے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 566
وہ لپیٹ کر نکلی تولیے میں بال اپنے
بوند بوند بکھرے تھے جسم پر خیال اپنے
درد کے پرندوں کو آنکھ سے رہائی دی
آخرش وہ دن آیا رو پڑے ملال اپنے
یہ صدا سنائی دے کوئلے کی کانوں سے
زندگی کے چولھے میں جل رہے ہیں سال اپنے
دیکھ دستِ جانانہ ! کھلنے کی تمنا میں
جینز کے اٹیچی میں بند ہیں جمال اپنے
قتل تو ڈرامے کا ایکٹ تھا کوئی منصور
کس لیے لہو سے ہیں دونوں ہاتھ لال اپنے
منصور آفاق

بہنے لگی رگوں میں کرن اشتعال کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 464
تشریف آوری تھی چراغِ خیال کی
بہنے لگی رگوں میں کرن اشتعال کی
شاید جنم جنم کی اداسی ہے میرے ساتھ
صدیاں پڑی ہیں صحن میں شامِ ملال کی
میں نے تمام عمر گزاری شبِ فراق
میں شکل جانتا نہیں صبحِ وصال کی
ہے کوئی مادھولال میرے انتظارمیں
آواز آرہی ہے کہیں سے دھمال کی
پچھلے پہر میں گزری ہے منصور زندگی
میری شریکِ عمر ہے ساعت زوال کی
منصور آفاق

آ انتظار کے اک اور سال بسم اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 425
پرانے غم کے نئے احتمال بسم اللہ
آ انتظار کے اک اور سال بسم اللہ
بس ایک تیری کمی تھی جنوں کے صحرا میں
خوش آمدید اے میرے غزال، بسم اللہ
آ دیکھ زخم ترو تازہ ہیں مہکتے ہیں
آ مجھ سے پوچھنے پرسانِ حال بسم اللہ
اندھیرے کروٹیں لیتے ہیں مجھ میں پہلے بھی
بہ سرو چشم شبِ ذوالجلال بسم اللہ
سنا ہے آج اکیلا ہے اپنے کمرے میں
چل اس کے پاس دلِ خوش خیال بسم اللہ
لگی تھی آنکھ ذرا ہجر کی تھکاوٹ سے
میں اٹھ گیا میرے دشتِ ملال بسم اللہ
یہ کیسے خانۂ درویش یاد آیا ہے
بچھاؤں آنکھیں ؟ اے خوابِ وصال بسم اللہ
پھر اپنے زخم چھپانے کی رُت پلٹ آئی
شجر نے اوڑھ لی پتوں کی شال بسم اللہ
کھنچا ہوا ترا ناوک نہ جان ضائع ہو
ہے جان پہلے بھی جاں کا وبال بسم اللہ
یہ تیرے وار تو تمغے ہیں میری چھاتی کے
لو میں نے پھینک دی خود آپ ڈھال بسم اللہ
یہ لگ رہا ہے کہ اپنے بھی بخت جاگے ہیں
کسی نے مجھ پہ بھی پھینکا ہے جال بسم اللہ
نہیں کچھ اور تو امید رکھ ہتھیلی پر
دراز ہے مرا دستِ سوال بسم اللہ
کسی فقیر کی انگلی سے میرے سینے پر
لکھا ہوا ہے فقید المثال بسم اللہ
منصور آفاق

ہرا بھرا کوئی قالین ڈال کمرے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 344
مناسب اتنا نہیں اعتدال کمرے میں
ہرا بھرا کوئی قالین ڈال کمرے میں
کسی ستم زدہ روزن سے آتو سکتی تھی
ذرا سی دیر کو صبحِ وصال کمرے میں
لٹک رہاتھا دریچے میں بھیڑیے کا بت
دکھائی دیتا تھا کوئی غزال کمرے میں
بس اس لئے کہ سپاہی بہت زیادہ تھے
تھی تاج پوشی کی تقریب ہال کمرے میں
اسے بھی زاویے سیدھے کمر کے کرنے تھے
مجھے بھی آیا تھا یہ ہی خیال کمرے میں
بلٹ پروف محافظ تھے ہر طرف لیکن
گزر رہے تھے حکومت کے سال کمرے میں
ہر ایک شے میں اداسی ہے شام کی منصور
اتر رہا ہے نظر سے ملال کمرے میں
منصور آفاق

طلب شکستہ کا آخر ملال ختم ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 68
فراق و رابطہ کا احتمال ختم ہوا
طلب شکستہ کا آخر ملال ختم ہوا
وہ بجھ گئی ہے تمناجو آگ رکھتی تھی
وہ ہجر راکھ ہوا، وہ وصال ختم ہوا
کوئی بھی اپنے مقاصد میں پیش رفت نہیں
یونہی حیات کا اک اور سال ختم ہوا
ہم اس کی سمت چلے وہ کسی کی سمت چلا
سوال کرنے سے پہلے سوال ختم ہوا
چلی تو جھونک گئی دھول ساری آنکھوں میں
رکی ہوا تو چمن کا جمال ختم ہوا
بجھی ہوئی ہے انگیٹھی سیہ دسمبر میں
اے چوبِ سوختہ تیرا کمال ختم ہوا
کسی کے واسطے افلاک پستیاں منصور
بلندیوں پہ کسی کا زوال ختم ہوا
منصور آفاق

چہرے کے ڈوبتے ہوئے فردوس کو اجال

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 10
اے میری نرم گرم بہشتِ جوان سال
چہرے کے ڈوبتے ہوئے فردوس کو اجال
ہنزہ کے نور سیبو ! دسمبر کی نرم دھوپ
نارنجی کر رہی ہے تمہارے سفید گال
کچھ فیض قربتوں کے بھی ہوتے تو ہیں مگر
ہے بند پارٹنر سے ابھی تک تو بول چال
لب پر ہیں قہقہے کسی ناکام ضبط کے
دل میں بھرا ہوا ہے قیامت کا اک ملال
ہر چند گفتگو ہے توسط سے فون کے
لیکن نگاہ میں ہیں خیالوں کے خدو خال
کیا کھولتی ہو پوٹلی ان پڑھ فقیر کی
بازار سے خرید کے لایا ہوں کچھ سوال
منصور احتیاط سے چاہت کے بول، بول
لڑکوں سے اس کے کام ہیں مردوں سے اس کے بال
منصور آفاق