ٹیگ کے محفوظات: ملائے

وہی تنکے ہیں جن سے آشیاں ترتیب پائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
یہ ہم بے خانماں زورِ ہوا جن کو اڑا لے گا
وہی تنکے ہیں جن سے آشیاں ترتیب پائے گا
یہاں سرخاب کا پر جس کسی کو بھی لگے گا وہ
کسی ہم جنس سے کیونکر بھلا آنکھیں ملائے گا
کِیا خم ٹھونک کر جس ناتواں پر جبر جابر نے
پئے انصاف اب اُس کو عدالت تک بھی لائے گا
سرِ ابدان موزوں ہو چلی موجوں کی موسیقی
چٹخ کر ٹُوٹنے کی دُھن بھی اب پانی بنائے گا
رعونت کی ہَوا پھنکارتے ہونٹوں سے کہتی تھی
دِیا مشکل سے ہی کُٹیا میں اب کوئی جلائے گا
یہ ہم جو پٹّیاں آنکھوں پہ باندھے گھر سے نکلے ہیں
ہم ایسوں کو کوئی اندھا کنواں ہی لینے آئے گا
اُسے بھیجیں بھی گر ہم کارزارِ مکر میں ماجدؔ
پلٹ کر ایلچی پہلی سی بِپتا ہی سنائے گا
ماجد صدیقی

رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 46
لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
سادگی، بانکپن، اغماز، شرارت، شوخی
تُو نے انداز وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
مسکراتے ہوئے وہ مجمعِ اغیار کے ساتھ
آج یوں بزم میں آئے ہیں کہ جی جانتا ہے
انہی قدموں نے تمھارے انہی قدموں کی قسم
خاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے
تم نہیں جانتے اب تک یہ تمھارے انداز
وہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے
داغِ وارفتہ کو ہم آج ترے کوچے سے
اس طرح کھینچ کہ لائے ہیں کہ جی جانتا ہے
داغ دہلوی

جان کو کوئی کھائے جاتا ہے

دیوان دوم غزل 1020
شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے
جان کو کوئی کھائے جاتا ہے
ہر کوئی اس مقام میں دس روز
اپنی نوبت بجائے جاتا ہے
کھل گئی بات تھی سو ایک اک پر
تو وہی منھ چھپائے جاتا ہے
یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر
اپنی ٹکّی لگائے جاتا ہے
رویئے کیا دل و جگر کے تئیں
جی بھی یاں پر تو ہائے جاتا ہے
کیا کیا ہے فلک کا میں کہ مجھے
خاک ہی میں ملائے جاتا ہے
تہ جنھیں کچھ ہے ان کے تیں ہر گام
عرق شرم آئے جاتا ہے
جاے عبرت ہے خاکدان جہاں
تو کہاں منھ اٹھائے جاتا ہے
دیکھ سیلاب اس بیاباں کا
کیسا سر کو جھکائے جاتا ہے
وہ تو بگڑے ہے میر سے ہر دم
اپنی سی یہ بنائے جاتا ہے
میر تقی میر

چپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے ووہیں آئے گئے

دیوان اول غزل 615
کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے
چپکے باتیں اٹھائے گئے سر گاڑے ووہیں آئے گئے
اٹھے نقاب جہان سے یارب جس سے تکلف بیچ میں ہے
جب نکلے اس راہ سے ہوکر منھ تم ہم سے چھپائے گئے
کب کب تم نے سچ نہیں مانیں جھوٹی باتیں غیروں کی
تم ہم کو یوں ہی جلائے گئے وے تم کو ووہیں لگائے گئے
صبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوس
کیا کیا فتنے سرجوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے
اللہ رے یہ دیدہ درائی ہوں نہ مکدر کیونکے ہم
آنکھیں ہم سے ملائے گئے پھر خاک میں ہم کو ملائے گئے
آگ میں غم کی ہو کے گدازاں جسم ہوا سب پانی سا
یعنی بن ان شعلہ رخوں کے خوب ہی ہم بھی تائے گئے
ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بھی حد ایک آخر ہوتی ہے
کشتے اس کی تیغ ستم کے گورتئیں کب لائے گئے
خضر جو مل جاتا ہے گاہے آپ کو بھولا خوب نہیں
کھوئے گئے اس راہ کے ورنہ کاہے کو پھر پائے گئے
مرنے سے کیا میر جی صاحب ہم کو ہوش تھے کیا کریے
جی سے ہاتھ اٹھائے گئے پر اس سے دل نہ اٹھائے گئے
میر تقی میر

ہونٹوں پہ جان آئی پر آہ وے نہ آئے

دیوان اول غزل 549
کل وعدہ گاہ میں سے جوں توں کے ہم کو لائے
ہونٹوں پہ جان آئی پر آہ وے نہ آئے
زخموں پہ زخم جھیلے داغوں پہ داغ کھائے
یک قطرہ خون دل نے کیا کیا ستم اٹھائے
اس کی طرف کو ہم نے جب نامہ بر چلائے
ان کا نشاں نہ پایا خط راہ میں سے پائے
خوں بستہ جب تلک تھیں در یا رکے کھڑے تھے
آنسو گرے کروڑوں پلکوں کے ٹک ہلائے
اس جنگ جو کے زخمی اچھے نہ ہوتے دیکھے
گل جب چمن میں آئے وے زخم سب دکھائے
بڑھتیں نہیں پلک سے تا ہم تلک بھی پہنچیں
پھرتی ہیں وے نگاہیں پلکوں کے سائے سائے
پر کی بہار میں جو محبوب جلوہ گر تھے
سو گردش فلک نے سب خاک میں ملائے
ہر قطعۂ چمن پر ٹک گاڑ کر نظر کر
بگڑیں ہزار شکلیں تب پھول یہ بنائے
یک حرف کی بھی مہلت ہم کو نہ دی اجل نے
تھا جی میں آہ کیا کیا پر کچھ نہ کہنے پائے
چھاتی سراہ ان کی پائیز میں جنھوں نے
خار و خس چمن سے ناچار دل لگائے
آگے بھی تجھ سے تھا یاں تصویر کا سا عالم
بے دردی فلک نے وے نقش سب مٹائے
مدت ہوئی تھی بیٹھے جوش و خروش دل کو
ٹھوکر نے اس نگہ کی آشوب پھر اٹھائے
اعجاز عشق ہی سے جیتے رہے وگرنہ
کیا حوصلہ کہ جس میں آزار یہ سمائے
دل گر میاں انھوں کی غیروں سے جب نہ تب تھیں
مجلس میں جب گئے ہم غیرت نے جی جلائے
جیتے تو میر ہر شب اس طرز عمر گذری
پھر گور پر ہماری لے شمع گو کہ آئے
میر تقی میر