ٹیگ کے محفوظات: مقصد

بوزنہ سا رہ گیا ہے ، قامت و قد کے بغیر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 110
کل جو آمر تھا اس ے اب دیکھ مسند کے بغیر
بوزنہ سا رہ گیا ہے ، قامت و قد کے بغیر
آدمی کو اک ذرا انسان ہو لینے تو دو
تم کو ہر بستی نظر آئے گی سرحد کے بغیر
خواب میں یہ بھی کرشمہ ہے اسی کے خواب کا
یعنی دن نکلا ہوا ہے اس کی آمد کے بغیر
تم بتاؤ وہ بڑے آدرش والے کیا ہوئے
کیا برا ہے ہم اگر زندہ ہیں مقصد کے بغیر
آفتاب اقبال شمیم

کہ اُس کی فہم سے باہر ہے کل کی ابجد تک

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 35
وُہ اپنے جزو میں کھویا گیا ہے اس حد تک
کہ اُس کی فہم سے باہر ہے کل کی ابجد تک
کھڑی ہیں روشنیاں دست بستہ صدیوں سے
حرا کے غار سے لے کر گیا کے برگد تک
اُٹھے تو اُس کے فسوں سے لہک لہک جائے
نظر پہنچ نہ سکے اُس کی قامت و قد تک
پتہ چلا کہ حرارت نہیں رہی دل میں
گزر کے آگ سے آئے تھے اپنے مقصد تک
وہی اساس بنا عمر کے حسابوں کی
پہاڑا یاد کیا تھا جو ایک سے صد تک
وہی جو دوش پر اپنے اُٹھا سکا خود کو
نیشبِ فرش سے پہنچا فرازِ مسند تک
آفتاب اقبال شمیم