ٹیگ کے محفوظات: مقامات

کچھ سدھائے ہوئے جذبات سے آگے نہ گیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 64
تو تعصب کے مقامات سے آگے نہ گیا
کچھ سدھائے ہوئے جذبات سے آگے نہ گیا
یہ بھی انداز تھا حالات کے مفروروں کا
ذہن پُر پیچ سوالات سے آگے نہ گیا
معرکہ ہائے شر و خیر کا اک سلسلہ تھا
جو کبھی جیت، کبھی مات سے آگے نہ گیا
کیا سجھائے کہ حدِ لمس سے آگے کیا ہے
ہاتھ تو خاص مقامات سے آگے نہ گیا
کر دیا سِحرِ سیاست نے دھڑوں کو تقسیم
کوئی اس شہرِ طلسمات سے آگے نہ گیا
لفظ اترا نہ کبھی حاشیئے کے ساحل سے
میں بھی چلتا ہی رہا، رات سے آگے نہ گیا
آفتاب اقبال شمیم

مجذوب ذرا سیر مقامات میں گم ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 328
ناچیز بھی خوباں سے ملاقات میں گم ہے
مجذوب ذرا سیر مقامات میں گم ہے
کیا شمع جلاتا ہے کہ اے دولتِ شب تاب
کل صبح کا سورج تو تری گات میں گم ہے
کھلتے ہی نہیں لمس پہ اس جسم کے اسرار
سیاح عجب شہرِ طلسمات میں گم ہے
میں ڈوب گیا جب ترے پیکر میں تو ٹوٹا
یہ وہم کو تو خود ہی مری ذات میں گم ہے
یا حسن ہی اس شہر میں کافر نہیں ہوتا
یا عشق یہاں عزتِ سادات میں گم ہے
عرفان صدیقی