ٹیگ کے محفوظات: مقابل

شایانِ شان مَدِّ مُقابِل تلاش کر

ہم جیسا کوئی عِشق میں کامِل تلاش کر
شایانِ شان مَدِّ مُقابِل تلاش کر
منزل سمجھ کے بیٹھ نہ ہر سنگِ میِل کو
حُسنِ نَظَر کو بھُول کے حاصل تلاش کر
خاطِر میں لا نہ گردِشِ لیل و نَہار کو
راہوں میں مَت بھَٹَک کوئی مَنزِل تلاش کر
ہر چیز بے جگہ ہے تَو اس کا سَبَب بھی ہے
ترتیبِ نَو کے واسطے عادِل تلاش کر
شکوہ شکستِ دل کا نہ کر سنگ و خشت سے
پتّھر کو توڑنے کے لیے دل تلاش کر
مَقتَل سے آ رَہی ہے صَدا اَے اَمیرِ شہر
اِظہارِ غم نہ کر مِرا قاتل تلاش کر
ضامنؔ لَگا کے سینے سے ایک ایک یاد کو
تنہائیوں میں رونَقِ محفل تلاش کر
ضامن جعفری

وہ مثلِ آئینہ ہیں مقابل سے بے نیاز

دِل دے کر اُن کو بیٹھے ہیں ہم دِل سے بے نیاز
وہ مثلِ آئینہ ہیں مقابل سے بے نیاز
حُسن اَزَل کی راہ میں کیا فکرِ سنگِ مِیِل
راہِ جنوں ہے دُوریِ منزل سے بے نیاز
ہر موجِ غم سے جن کو لپٹنے کا شوق ہو
کشتی کا کیا کریں گے وہ ساحل سے بے نیاز
کس بندِ آب و گِل میں بَسَر کر رہی ہے رُوح
دُنیا کے مشکلات و مراحل سے بے نیاز
خونِ وفا کو بہنا ہے ضامنؔ بہے گا وہ
ایک ایک قطرہ خنجر و قاتل سے بے نیاز
ضامن جعفری

شعورِ ذات کی منزل کے انتظار میں ہیں

جو لوگ دار و سلاسل کے انتظار میں ہیں
شعورِ ذات کی منزل کے انتظار میں ہیں
نظر میں کوئی نہیں ہے ابھی قد و قامت
وہ اپنے مدِّ مقابل کے انتظار میں ہیں
سہولیات و لوازم سبھی مہیّا ہیں
ہم اب تو جرأتِ قاتل کے انتظار میں ہیں
وہ صبر و چین و سکون و قرار لُوٹ چکے
قرینہ کہتا ہے اب دل کے انتظار میں ہیں
سفر کا شوق ہے جن کو نہ زادِ راہ کی فکر
سنا یہ ہے کہ وہ منزل کے انتظار میں ہیں
فرازِ دار ہے انعام اہلِ علم یہاں
یہ کاخ و کُو کسی جاہل کے انتظار میں ہیں
جنہیں تمیز نہیں دوست اَور دشمن میں
وہ ایک جوہرِ قابل کے انتظار میں ہیں
یہ معجزہ ہے کہ ہم سب سکون سے ضامنؔ!
بھَنوَر میں بیٹھ کے ساحل کے انتظار میں ہیں
ضامن جعفری

گُذرا ہے کوئی ٹُوٹا ہُوا دل لئے ہُوئے

اِک دَرد سا ہے شورِ عنادل لئے ہُوئے
گُذرا ہے کوئی ٹُوٹا ہُوا دل لئے ہُوئے
اِس قافلے کو دشت نَوَردی کا شوق ہے
کوئی نہیں ہے خواہشِ منزل لئے ہُوئے
اہلِ نظر کی ژرف نگاہی کو کیا ہُوا؟
کب سے کھڑا ہُوا ہُوں یہاں دل لئے ہُوئے
دل بد گماں ہے حُسن سے انجامِ عشق پر
دَہلیز تک گیا ہُوں بہ مشکل لئے ہُوئے
پوچھا اگر کسی نے تَو دیجے گا کیا جواب
پھِرتے ہیں یُوں جو آپ مرا دل لئے ہُوئے
ضامنؔ! رہِ حیات میں ہردَم کا ساتھ ہے
مشکل کو میں ہُوں مجھ کو ہے مشکل لئے ہُوئے
محوِ سَفَر ہے حُسنِ اَزَل اے نگاہِ شوق
ذَرّے فضا میں اُڑتے ہیں محمل لئے ہُوئے
کوئی تُمہارے حُسن کا ہَمسَر نہ لا سکا
آئینے سب ہیں دعویِٰ باطل لئے ہُوئے
جلووں کے ازدحام میں جلوہ بس ایک ہے
جلوہ بھی وہ کہ زیست کا حاصل لئے ہُوئے
غارَت گَرِ سکوں ہے وہ حُسنِ خِرَد شکن
پِھرتا ہُوں دِل میں مَدِّ مقابل لئے ہُوئے
حیرت سے دیکھتے ہیں مُجھے عافیت پَرَست
مَوجَوں کی گود میں ہُوں میں ساحل لئے ہُوئے
ضامنؔ خُدا نَکَردہ جنوں ہو خِرَد نَواز
ہر آرزو جِلَو میں ہو قاتل لئے ہُوئے
ضامن جعفری

کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 119
لحد والے امیدِ فاتحہ اور تجھ کو قاتل سے
کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے
یہ تم نے کیا کہا مجھپر زمانہ ہے فدا دل سے
ہزاروں میں وفا والا ملا کرتا ہے دل سے
نہ تھے جب آپ تو یہ حال تھا بیتابیِ دل سے
کبھی جاتا تھا محفل میں کبھی آتا تھا محفل سے
نگاہیں ان کو دیکھیں دیکھ کر یہ کہہ دیا دل سے
جو تو بیٹھا تو فتنے سینکڑوں اٹھیں گے محفل سے
دلوں میں آگئے جب فرق تو جاتے نہیں دل سے
کہ یہ ٹوٹے ہوئے شیشے جڑا کرتے ہیں مشکل سے
چمن مل جائے گا اہلِ چمن مل جائیں گے چھٹ کر
مگر تنکے نشیمن کے ملیں گے مجھ کو مشکل سے
ہماری کچھ نہ پوچھو ہم بری تقدیر والے ہیں
کہ جیتے ہیں تو مشکل سے جو مرتے ہیں تو مشکل سے
بگولا جب اٹھا میں راہ گم کردہ یہی سمجھا
کوئی رستہ بتانے آرہا ہے مجھ کو منزل سے
خموشی پر یہ حالت ہے خدا معلوم کیا کرتا
کوئی آواز آ جاتی اگر مجنوں کو محمل سے
صدا سن کر نہ طوفاں میں کسی نے دستگیری کی
کھڑے دیکھا کیے سب ڈوبنے والے کو ساحل سے
نہ ہو بیزار مجھ سے یکھ لینا ورنہ اے دنیا
نہ آؤں گا کبھی ایسا اٹھوں گا تیری محفل سے
قمر کے سامنے شب بھر سنوارو شوق سے گیسو
وہ آئینہ نہیں ہے کہ ہٹ جائے مقابل سے
قمر جلالوی

مفت میں مشہور میں لوگوں میں عامل ہو گیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 36
وہ پری وش عشق کے افسوں سے مائل ہو گیا
مفت میں مشہور میں لوگوں میں عامل ہو گیا
میں نہیں فرہاد، وہ خسرو نہیں، پھر کیا سبب؟
غیر کا مائل جو وہ شیریں شمائل ہو گیا
اشک باری ہم کناری کی ہوس میں رات تھی
قلزمِ گریہ کو اس کا دھیان ساحل ہو گیا
زخم میرے خنجرِ خوں ریز تھے اغیار کو
بے وفائی سے خجل کس وقت قاتل ہو گیا
اہلِ وحشت کو مری شورش سے لازم ہے خطر
میں وہ مجنوں ہوں کہ مجنوں کے مقابل ہو گیا
رشکِ خسرو بے تصرف، نازِ شیریں بے اثر
سینۂ فرہاد مثلِ بے ستوں، سِل ہو گیا
ہے خراشِ ناخنِ غم میں بھی کیا بالیدگی
جو ہلالِ غرہ تھا، سو ماہِ کامل ہو گیا
عید کے دن ذبح کرنا اور بھی اچھا ہوا
حلقۂ اسلام میں وہ شوخ داخل ہو گیا
اس کے اٹھتے ہی یہ ہلچل پڑ گئی بس بزم میں
طورِ روزِ حشر سب کو طورِ محفل ہو گیا
ہوش تو دیکھو کہ سن کر میری وحشت کی خبر
چھوڑ کر دیوانہ پن کو قیس عاقل ہو گیا
ہاتھ اٹھایا اس نے قتلِ بے گنہ سے میرے بعد
طالع اغیار سے جلاد عادل ہو گیا
حسن کے اعجاز نے تیرے مٹایا کفر کو
تیرے آگے نقشِ مانی، نقشِ باطل ہو گیا
میرے مرتے دم جو رویا وہ بڑی تسخیر تھی
آبِ چشمِ یار آبِ چاہِ بابل ہو گیا
ہے عدم میں بھی تلاشِ سرمہ و مشک و نمک
شیفتہ تیغِ نگہ سے کس کی گھائل ہو گیا
مصطفٰی خان شیفتہ

یہ مرا گھر بھی تو ہے کوچۂ قاتل ہے تو کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 75
خاک میں اس کی اگر خون بھی شامل ہے تو کیا
یہ مرا گھر بھی تو ہے کوچۂ قاتل ہے تو کیا
دل پہ چل جائے تو جادو ہے تری عشوہ گری
صرف گردن میں ترا ہاتھ حمائل ہے تو کیا
آنکھ ہر لحظہ تماشائے دگر چاہتی ہے
عکس تیرا ہی سرِ آئینۂ دل ہے تو کیا
ساری آوازوں کا انجام ہے چپ ہوجانا
نعرۂ ہوُ ہے تو کیا، شورِ سلاسل ہے تو کیا
عشق میں جان کہ تن کوئی تو کندن بن جائے
ورنہ یہ راکھ ہی اس آگ کا حاصل ہے تو کیا
میرے اندر ابھی محفوظ ہے اک لوحِ طلسم
اک طلسم اور ابھی میرے مقابل ہے تو کیا
عرفان صدیقی

کیا تیرےغم سے روشنی کچھ مل گئی ہے پھر

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 77
احساس زندگی کی کلی کھل گئی ہے پھر
کیا تیرے غم سے روشنی کچھ مل گئی ہے پھر
ہر نقش اک خراش ہے، ہر رنگ ایک داغ
تصویر آئنے کے مقابل گئی ہے پھر
دو چار گام ساتھ چلے ہیں پھر اہل غم
کچھ دور تک صدائے سلاسل گئی ہے پھر
کچھ آدمی گلی میں کھڑے ہیں ادھر ادھر
شاید جہاں کو بات کوئی مل گئی ہے پھر
ٹوٹا ہے پھر غبار سرراہ کا طلسم
ہر راہرو کے سامنے منزل گئی ہے پھر
چلئے کہیں تو کچھ مجھے اپنی خبر ملے
وہ اک نظر جو لے کے مرا دل گئی ہے پھر
باقیؔ وہ بادباں کھلے وہ کشتیاں چلیں
وہ ایک موج جانب ساحل گئی ہے پھر
باقی صدیقی