ٹیگ کے محفوظات: معقول

اب ہے وہی اپنا معمول

تھا جو کبھی اک شوقِ فضول
اب ہے وہی اپنا معمول
کیسی یاد رہی تجھ کو
میری اک چھوٹی سی بھول
غم برگد کا گھنا درخت
خوشیاں ننھے ننھے پھول
اب دل کو سمجھائے کون
بات اگرچہ ہے معقول
آنسو خشک ہوئے جب سے
آنگن میں اُڑتی ہے دھول
تم ہی بدل جاؤ باصرِؔ
کیوں بدلیں دنیا کے اصول
باصر کاظمی

شور طیور اٹھتا ہے ایسا جیسے اٹھے ہے بول کوئی

دیوان پنجم غزل 1735
اس کے رنگ چمن میں شاید اور کھلا ہے پھول کوئی
شور طیور اٹھتا ہے ایسا جیسے اٹھے ہے بول کوئی
یوں پھرتا ہوں دشت و در میں دور اس سے میں سرگشتہ
غم کا مارا آوارہ جوں راہ گیا ہو بھول کوئی
ایک کہیں سر کھینچے ہے ایسا جس کی کریں سب پابوسی
ہو ہر اک کو قبول دلہا یہ نہ کرے گا قبول کوئی
کس امید کا تجھ کو اے دل چاہ میں اس کی حصول ہوا
شوخ و شلائیں خوشرویاں سے رہتا ہے مامول کوئی
لمبے اس کے بالوں کا میں وصف لکھا ہے دور تلک
حرف مار تو طولانی تھا پھر بھی وے ہے طول کوئی
مستی حسن پرستی رندی یہی عمل ہے مدت سے
پیر کبیر ہوئے تو کیا ہے چھوٹے ہے معمول کوئی
حرف و حکایت شکر و شکایت تھی اک وضع و وتیرہ پر
میر کو جاکر دیکھا ہم نے ہے مرد معقول کوئی
میر تقی میر

مارے گا قاتل چیخے گا مقتول

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 2
یہ قاعدہ ہے اے شخص مت بھول
مارے گا قاتل چیخے گا مقتول
کچھ ہو رہا ہے دل میں کہ جس کا
احساس معلوم اظہار مجہول
دو چار دن تک محشر کا منظر
دو چار دن بعد سب حسب معمول
نیچے سے اوپر بہتا ہے پانی
یہ جرم تسلیم یہ بات معقول
کیوں کوئی کاٹے اوروں کا بویا
پچھلے نہ دیں گے اگلوں کو محصول
رمزوں میں بولیں عقدے نہ کھولیں
ایسے سخنور عہدوں سے معزول
کھڑکی سے باہر جھانکے تو کیوں کر
چھوٹا ہے بچہ اونچا ہے اسٹول
دل میرا استاد دنیا گزرگاہ
پڑھتا ہوں گھر میں جاتا ہوں اسکول
عرفان صدیقی