ٹیگ کے محفوظات: معانی

ایک قصے کی بھلا کتنی کہانی کرتے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 66
راکھ کے ڈھیر پہ کیا شعلہ بیانی کرتے
ایک قصے کی بھلا کتنی کہانی کرتے
حسن اتنا تھا کہ ممکن ہی نہ تھی خود نگری
ایک امکان کی کب تک نگرانی کرتے
شعلہ جاں کو بجھاتے یونہی قطرہ قطرہ
خود کو ہم آگ بناتے تجھے پانی کرتے
پھول سا تجھ کو مہکتا ہوا رکھتے شب بھر
اپنے سانسوں سے تجھے رات کی رانی کرتے
ندیاں دیکھیں تو بس شرم سے پانی ہو جائیں
چشمِ خوں بستہ سے پیدا وہ روانی کرتے
سب سے کہتے کہ یہ قصہ ہے پرانا صاحب
آہ کی آنچ سے تصویر پرانی کرتے
درودیوار بدلنے میں کہاں کی مشکل
گھر جو ہوتا تو بھلا نقل مکانی کرتے؟
کوئی آجاتا کبھی یونہی اگر دل کے قریب
ہم ترا ذکر پئے یاد دہانی کرتے
سچ تو یہ ہے کہ ترے ہجر کا اب رنج نہیں
کیا دکھاوے کے لیے اشک فشانی کرتے؟
دل کو ہر لحظہ ہی دی عقل پہ ہم نے ترجیح
یارِ جانی کو کہاں دشمنِ جانی کرتے
شب اسی طرح بسر ہوتی ہے میری عرفان
حرفِ خوش رنگ کو اندوہِ معانی کرتے
عرفان ستار

قطرہ ٹوٹے تو روانی کا تماشا دیکھیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 18
زخم کھائے ہوئے پانی کا تماشا دیکھیں
قطرہ ٹوٹے تو روانی کا تماشا دیکھیں
گاہے پستی کا مکیں ، گاہے بلندی پہ رواں
وقت کی نقل مکانی کا تماشا دیکھیں
جانتے ہیں کہ بنے واقعہ، قصّہ کیسے
ہم کہانی میں کہانی کا تماشا دیکھیں
اتنی خلقت میں مگر آدمی ناپید ملے
جنسِ ارزاں کی گرانی کا تماشا دیکھیں
دن میں سورج کبھی دو بار نکل آئے تو
ہم بھی دوبارہ جوانی کا تماشا دیکھیں
دیمکیں چاٹ چکی ہوں گی صلیبیں کتنی
ہم کہاں کس کی نشانی کا تماشا دیکھیں
پیرہن لمس میں ہوں جیسے بھرے بدنوں کے
لفظ اندر سے معانی کا تماشا دیکھیں
آفتاب اقبال شمیم

آخر شب کبھی آغاز کہانی کا نہ ہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 122
دل کا جو حال ہوا دشمن جانی کا نہ ہو
آخر شب کبھی آغاز کہانی کا نہ ہو
لوگ کیا جانیں کہ گزرے ہوئے موسم کیا تھے
جب قبا پر کوئی پیوند نشانی کا نہ ہو
ہم کہاں قید میں رہ سکتے تھے لیکن ترا ہاتھ
ہے وہ زنجیر کہ احساس گرانی کا نہ ہو
مسکراتا ہوں تو اکثر یہ خیال آتا ہے
آنکھ میں نم ابھی برسے ہوئے پانی کا نہ ہو
عرض احوال پہ دنیا مرا منہ دیکھتی ہے
جیسے رشتہ کوئی الفاظ و معانی کا نہ ہو
اور کچھ دیر ابھی سیر سر ساحل کر لیں
جب تلک حکم سفینے کو روانی کا نہ ہو
عرفان صدیقی

ہے ہوا کی نوحہ خوانی آنکھ میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 341
دشت کی صدیوں پرانی آنکھ میں
ہے ہوا کی نوحہ خوانی آنکھ میں
اسمِ اللہ کے تصور سے گرے
آبشارِ بیکرانی آنکھ میں
لال قلعے سے قطب مینار تک
وقت کی ہے شہ جہانی آنکھ میں
لکھ رہا ہے اس کا آیت سا وجود
ایک تفسیرِ قرانی آنکھ میں
دودھیا باہیں ، سنہری چوڑیاں
گھومتی ہے اک مدھانی آنکھ میں
دیکھتا ہوں جو دکھاتا ہے مجھے
یار کی ہے حکمرانی آنکھ میں
برف رُت کے اس تعلق کی غزل
دھوپ نے ہے گنگنانی آنکھ میں
اجڑے خوابو!، ٹوٹی امیدو!سنو
ایک بستی ہے بسانی آنکھ میں
چل رہی ہے اپنے کرداروں کے ساتھ
فلم کی اب تک کہانی آنکھ میں
چاہتی ہے کیوں بصارت تخلیہ
کون ہے ظلِ ’سبحانی‘ آنکھ میں
کپکپاتے ساحلوں سے ہمکلام
دھوپ ہے کتنی سہانی آنکھ میں
آمد آمد شاہِ نظارہ کی ہے
سرخ مخمل ہے بچھانی آنکھ میں
تجھ سے پہلے توہواکرتے تھے اور
روشنی کے کچھ معانی آنکھ میں
پہلے ہوتے تھے مقاماتِ عدم
اب فقط ہے لا مکانی آنکھ میں
دیکھتے رہنا ہے نقشِ یار بس
بزمِ وحشت ہے سجانی آنکھ میں
بس یہی ہیں یادگاریں اپنے پاس
بس یہی آنسو نشانی آنکھ میں
اُس حویلی کے کھنڈر کی آج بھی
چیختی ہے بے زبانی آنکھ میں
زیرِآب آنے لگی تصویرِیار
پھیلتا جاتا ہے پانی آنکھ میں
شکرہے اُس اعتمادِذات کی
آ گیا ہوں غیر فانی آنکھ میں
دیکھ آئی ہے کسی کو اُس کے ساتھ
اب نہیں ہے خوش گمانی آنکھ میں
منصور آفاق

الفاظ و معانی سے سنوں شورِ انا الحق

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 210
میں کُن کی کہانی سے سنوں شورِ انا الحق
الفاظ و معانی سے سنوں شورِ انا الحق
پانی بھی علیحدہ نہیں سر چشمہ ء کل سے
دریا کی روانی سے سنوں شورِ انا الحق
اڑتے ہوئے پتے بھی تو ہیں پیڑ کا حصہ
موسم کی جوانی سے سنوں شورِ انا الحق
کثرت کو میں وحدت سے جدا کر نہیں سکتا
تخلیقِ جہانی سے سنوں شورِ انا الحق
آواز سے لفظوں کی جدائی نہیں ممکن
آیاتِ قرانی سے سنوں شورِ انا الحق
منصور زمانے کو خدا کہتی ہے دانش
تقویمِ زمانی سے سنوں شورِ انا الحق
منصور آفاق

فلم جاری ہے کہانی ختم شد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 156
زندگی! اب زندگانی ختم شد
فلم جاری ہے کہانی ختم شد
رو لیا ہے جتنا رو سکتا تھا میں
آنکھ میں جو تھا وہ پانی ختم شد
کر رہا ہوں شام سے فکرِ سخن
یعنی عہدِ رائیگانی ختم شد
میں بھی ہوں موجود اب افلاک پر
لامکاں کی لامکانی ختم شد
رک گیا میں بھی کنارہ دیکھ کر
پانیوں کی بھی روانی ختم شد
چھوڑ آیا ہوں میں شورِ ناتمام
گاڑیوں کی سرگرانی ختم شد
اور باقی ہیں مگر امید کی
اک بلائے ناگہانی ختم شد
آنے سے پہلے بتاتی ہیں مجھے
بارشوں کی بے زبانی ختم شد
دیکھتے ہیں آسماں کے کیمرے
اب گلی کی پاسبانی ختم شد
آ گئے جب تم تو کیا پھر رہ گیا
جو تھا سوچا ، جو تھی ٹھانی ختم شد
بھیج غالب آتشِ دوزخ مجھے
سوزِ غم ہائے نہانی ختم شد
اڑ رہی ہے راکھ آتش دان میں
یار کی بھی مہربانی ختم شد
اب مرے کچھ بھی نہیں ہے آس پاس
ایک ہی تھی خوش گمانی ختم شد
وہ سمندر بھی بیاباں ہو گیا
وہ جو کشتی تھی دخانی ختم شد
اک تکلم اک تبسم کے طفیل
میرا شوقِ جاودانی ختم شد
آہٹیں سن کر خدا کی پچھلی رات
میرے دل کی بے کرانی ختم شد
اک مجسم آئینے کے سامنے
آرزو کی خوش بیانی ختم شد
لفظ کو کیا کر دیا ہے آنکھ نے
چیختے روتے معانی ختم شد
کچھ ہوا ایسا ہوا کے ساتھ بھی
جس طرح میری جوانی ختم شد
اہم اتنا تھا کوئی میرے لیے
اعتمادِ غیر فانی ختم شد
دشت کی وسعت جنوں کو چاہیے
اس چمن کی باغبانی ختم شد
اپنے بارے میں کروں گا گفتگو
یار کی اب ترجمانی ختم شد
ذہن میں منصور ہے تازہ محاذ
سرد جنگ اپنی پرانی ختم شد
منصور آفاق