ٹیگ کے محفوظات: مطیر

سلطان عصر تیری گلی کا فقیر ہے

دیوان پنجم غزل 1778
گردن کش زمانہ تو تیرا اسیر ہے
سلطان عصر تیری گلی کا فقیر ہے
چشمک کرے ہے میری طرف کو نگاہ کر
وہ طفل شوخ چشم قیامت شریر ہے
تنکا سا ہو رہا ہے تن آگے ہی سوکھ کر
اب ننگ کیا فقیر جو سب میں حقیر ہے
جھڑ باندھ دے ہے رونے جو لگتا ہوں صبح کو
ہے چشم تر کہ غیرت ابر مطیر ہے
اک دو اجل رسیدہ جو صید آئے کب کھنچا
پرپیچ جال گیسوئوں کا جرگہ گیر ہے
جوں جوں بڑھاپا آتا ہے جاتے ہیں اینٹھتے
کس مٹی کا نہ جانیے اپنا خمیر ہے
اس خوبصورتی سے نہ صورت نظر پڑی
سورت تلک تو سیر کی وہ بے نظیر ہے
پر جوہر اس کی تیغ ہے نامہ براے قتل
پیغام مرگ عاشقوں کو اس کا تیر ہے
پوچھو اسی سے مضطرب الحال دل کی کچھ
وہ آفتاب چہرئہ روشن ضمیر ہے
جوں طفل شوخ و شنگ و جوان بلند طبع
شائستۂ فلک ہے اگر چرخ پیر ہے
فریاد شب کی سن کے کہا بے دماغ ہو
دیکھو تو اس بلا کو یہ شاید کہ میر ہے
میر تقی میر