ٹیگ کے محفوظات: مضمون

یہ عجب پیار کے قانون ہوئے جاتے ہیں

دل گرفتہ ہیں ، جگر خون ہوئے جاتے ہیں
یہ عجب پیار کے قانون ہوئے جاتے ہیں
اس قرینے سے گُنہ گار ہوئے ہیں رُسوا
اہلِ تقدیس بھی مطعون ہوئے جاتے ہیں
ہم تو ہر غم کو محبت کا تقاضا سمجھے
کیا خبر تھی ترے ممنون ہوئے جاتے ہیں
قلبِ خوددار شکستہ تو محبت زخمی
میرے محسن کے کئی خون ہوئے جاتے ہیں
دولتِ اُنس و محبت ہے فقط اِن کا نصیب
میرے احباب تو قارون ہوئے جاتے ہیں
اپنا کہتے ہوئے ڈرتی ہے مری سادہ رَوی
اس قدر شوخ سے مضمون ہوئے جاتے ہیں
جس قدر تجھ پہ لٹاتے ہیں متاعِ ہستی
اتنے ہی ہم ترے مرہون ہوئے جاتے ہیں
شکیب جلالی

آنکھیں پڑھ لیں اگلے دن کی دھوپ کا مضمون آنکھوں میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 39
شیشوں سے ٹکرائیں شیشے، بھید کھلیں یوں آنکھوں میں
آنکھیں پڑھ لیں اگلے دن کی دھوپ کا مضمون آنکھوں میں
کیا درشن تھے، ہم تو رہتی عمر کی نیندیں ہار آئے
جاگ رہا ہے اُس گوری کے حُسن کا افسوس آنکھوں میں
اے خود داری آئینے میں عکس مکرر کس کا ہے
کوئی بالکل اُس جیسا ہی رہتا ہے کیوں آنکھوں میں
جاناں ! پہلے رسمِ وفا کی تیاری ہو لینے دو
پھر جذبوں کا سورج بن کر چمکے گا خوں آنکھوں میں
بینائی کی پیاس بڑھے اور ظلمت کا احساس بڑھے
اندر کے در کھولتی جائیں کرنیں جوں جوں آنکھوں میں
شغل کیا جائے بے موسم چاک گریباں کرنے کا
لفظوں کے جادو سے کر لو منظر گلگلوں آنکھوں میں
آفتاب اقبال شمیم

ہر گھڑی غم کا مضمون ہر دور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 327
تم نے کھینچا وہ افسون ہر دور میں
ہر گھڑی غم کا مضمون ہر دور میں
صبحِ جمہوریت کے اجالوں پہ بس
تم نے مارا ہے شب خون ہر دور میں
نور و نکہت پہ طاقت سے نافذ ہوا
ظلمتِ شب کا قانون ہر دور میں
بس لہو فاختہ کا گرایا گیا
اور کٹی شاخِ زیتون ہر دور میں
زندگی چیختی اور سسکتی رہے
ہے یہی کارِ مسنون ہر دور میں
ملتی لوگوں کو منصور روٹی نہیں
اور فیاض قارون ہر دور میں
منصور آفاق