ٹیگ کے محفوظات: مضطر

دل اپنا تو بجھا سا دیا ہے جان چراغ مضطر ہے

دیوان سوم غزل 1262
دیکھیے کیا ہو سانجھ تلک احوال ہمارا ابتر ہے
دل اپنا تو بجھا سا دیا ہے جان چراغ مضطر ہے
خاطر اپنی اتنی پریشاں آنکھیں پھریں ہیں اس بن حیراں
تم نے کہا دل چاہے تو بیٹھو دل کیا جانے کیدھر ہے
تاب و تواں کا حال وہی ہے آج تنک ہم چیتے ہیں
تم پوچھو تو اور کہیں کیا نسبت کل کی بہتر ہے
اس بے مہر صنم کی خاطر سختی سی سختی کھینچی ہم
جی پگھلے کیا اس کا ہم پر رحم کہاں وہ پتھر ہے
سر نہ بڑے کے چڑھیے اس میں ہرگز زیاں ہے سر ہی کا
سمجھے نہ سمجھے کوئی اسے یہ پہاڑ کی آخر ٹکر ہے
جب سے ملا اس آئینہ رو سے خوش کی ان نے نمد پوشی
پانی بھی دے ہے پھینک شبوں کو میر فقیر قلندر ہے
میر تقی میر

سو طرف جب دیکھ لیجے تب ٹک اودھر دیکھیے

دیوان دوم غزل 1015
انکھڑیوں کو اس کی خاطر خواہ کیونکر دیکھیے
سو طرف جب دیکھ لیجے تب ٹک اودھر دیکھیے
گرچہ زردی رنگ کی بھی ہجر ہی سے ہے ولے
منھ مرا دیکھو ہو کیا یہ کوفت جی پر دیکھیے
اب کے گل ہم بے پروں کی اور چشمک زن ہے زور
اور دل اپنا بھی جلتا ہے بہت پر دیکھیے
آتے ہو جب جان یاں آنکھوں میں آ رہتی ہے آہ
دیکھیے ہم کو تو یوں بیمار و مضطر دیکھیے
اشک پر سرخی ابھی سے ہے تو آگے ہم نشیں
رنگ لاوے کیسے کیسے دیدئہ تر دیکھیے
دیر و کعبہ سے بھی ٹک جھپکی نہ چشم شوخ یار
شوق کی افراط سے تاچند گھر گھر دیکھیے
مر رہے یوں صیدگہ کی کنج میں تو حسن کیا
عشق جب ہے تب گلے کو زیر خنجر دیکھیے
برسوں گذرے خاک ملتے منھ پر آئینے کے طور
کیا غضب ہے آنکھ اٹھاکر ٹک تو ایدھر دیکھیے
دیدنی ہے وجد کرنا میر کا بازار میں
یہ تماشا بھی کسو دن تو مقرر دیکھیے
میر تقی میر

یہاں ہر قدم پر ہے ٹھوکر سنبھل جا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 33
یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر سنبھل جا
یہاں ہر قدم پر ہے ٹھوکر سنبھل جا
بڑے شوق سے پی، مگر پی کے مت گر
ہتھیلی پہ ہے تیری ساغر سنبھل جا
جہاں حق کی قسمت ہے سولی کا تختہ
یہاں جھوٹ ہے زیبِ منبر سنبھل جا
قیامت کہاں کی، جزا کیا، سزا کیا
ہے ہرسانس اک تازہ محشر سنبھل جا
وہ طوفاں نے پُرخوف جبڑوں کو کھولا
وہ بدلے ہواؤں کے تیور سنبھل جا
نہیں اس خرابات میں اذنِ لغزش
یہ دنیا ہے اے قلبِ مضطر سنبھل جا
مجید امجد