ٹیگ کے محفوظات: مصلوب

ذکر اُس کا چھیڑ بیٹھے بھی تو کس اسلوب ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
آج تک جس شخص کی نظروں میں تھے معتوب ہم
ذکر اُس کا چھیڑ بیٹھے بھی تو کس اسلوب ہم
روز جینے کا نیا اِک تجربہ درپیش ہے
روز اِک سولی پہ ہوتے ہیں یہاں مصلوب ہم
کھُل کے آنا ہی پڑا آخر سرِ میداں ہمیں
یُوں تو رہنے کو رہے ہیں مُدّتوں محجوب ہم
وہ کھُلی آنکھوں سے ہم کو دیکھتا ہی رہ گیا
ضد پہ اُترے بھی تو اِک دن اُس سے نپٹے خوب ہم
شوخیِ طرزِ بیاں الزام کیا کیا لائے گی
جانے کس کس شوخ سے ٹھہریں گے کل منسوب ہم
یہ بھی گر شرطِ سخن ٹھہری تو ماجدؔ ایک دن
شاعری کرنے کو ڈھونڈیں گے کوئی محبوب ہم
ماجد صدیقی

شاید اسی لئے ہمیں محبوب ہے یہی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 41
کچھ ہم مزاج خطۂ مرعوب ہے یہی
شاید اسی لئے ہمیں محبوب ہے یہی
اتنا نہ غور کر کہ ترا دل ہی ٹوٹ جائے
اس نازنینِ دہر کا اسلوب ہے یہی
اُس خواب کے صلے میں یہ ساری اذیّتیں
سہ لے، کہ آدمی کے لئے خوب ہے یہی
ہستی ہے ایک سلسلہ رد و قبول کا
یعنی صلیب و صالب و مصلوب ہے یہی
ٹھہرے گناہ گار جو سب سے ہو بے گناہ
کارندگانِ عدل کو مطلوب ہے یہی
دیکھو! ہم اس کی زد میں خس و خاک ہو چلے
دستِ قضا میں وقت کا جاروب ہے یہی
چلئے اُسے یہ کاغذِ خالی ہی بھیج دیں
لکھا گیا نہ ہم سے، وہ مکتوب ہے یہی
ایمان مستقیم رہا کفر کے طفیل
اُس بے وفا سے واقعہ منسوب ہے یہی
آفتاب اقبال شمیم