ٹیگ کے محفوظات: مشیر

سو ہم اس کے نشان تیر ہوئے

دیوان ششم غزل 1897
خم ہوا قد کماں سا پیر ہوئے
سو ہم اس کے نشان تیر ہوئے
اب نہ حسرت رہے گی مرنے تک
موسم گل میں ہم اسیر ہوئے
میں ہی درویش خوار و زار نہیں
عشق میں بادشہ فقیر ہوئے
ہے شرارت کا وقت عہد شباب
تم لڑکپن ہی سے شریر ہوئے
گھر کو اس کے خراب ہی دیکھا
جس کے یہ چشم و دل مشیر ہوئے
شور جن کے سروں میں عشق کا تھا
وے جواں سارے پاے گیر ہوئے
یاں کی خلقت کی ہے زباں الٹی
کہتے ہیں اندھوں کو بصیر ہوئے
نہ ہوئے ہم نظیریؔ سے یوں تو
شعر کے فن میں بے نظیر ہوئے
بات کا ہم سے ان کو کب ہے دماغ
میر درویشی میں امیر ہوئے
میر تقی میر

ایسا نہ ہو کہ کام ہی اس کا اخیر ہو

دیوان دوم غزل 919
ہر صبح شام تو پئے ایذاے میر ہو
ایسا نہ ہو کہ کام ہی اس کا اخیر ہو
ہو کوئی بادشاہ کوئی یاں وزیر ہو
اپنی بلا سے بیٹھ رہے جب فقیر ہو
جنت کی منت ان کے دماغوں سے کب اٹھے
خاک رہ اس کی جن کے کفن کا عبیر ہو
کیا یوں ہی آب و تاب سے ہو بیٹھیں کار عشق
سوکھے جگر کا خوں تو رواں جوے شیر ہو
چھاتی قفس میں داغ سے ہو کیوں نہ رشک باغ
جوش بہار تھا کہ ہم آئے اسیر ہو
یاں برگ گل اڑاتے ہیں پرکالۂ جگر
جا عندلیب تو نہ مری ہم صفیر ہو
اس کے خیال خط میں کسے یاں دماغ حرف
کرتی ہے بے مزہ جو قلم کی صریر ہو
زنہار اپنی آنکھ میں آتا نہیں وہ صید
پھوٹا دوسار جس کے جگر میں نہ تیر ہو
ہوتے ہیں میکدے کے جواں شیخ جی برے
پھر درگذر یہ کرتے نہیں گوکہ پیر ہو
کس طرح آہ خاک مذلت سے میں اٹھوں
افتادہ تر جو مجھ سے مرا دستگیر ہو
حد سے زیادہ جور و ستم خوشنما نہیں
ایسا سلوک کر کہ تدارک پذیر ہو
دم بھر نہ ٹھہرے دل میں نہ آنکھوں میں ایک پل
اتنے سے قد پہ تم بھی قیامت شریر ہو
ایسا ہی اس کے گھر کو بھی آباد دیکھیو
جس خانماں خراب کا یہ دل مشیر ہو
تسکین دل کے واسطے ہر کم بغل کے پاس
انصاف کریے کب تئیں مخلص حقیر ہو
یک وقت خاص حق میں مرے کچھ دعا کرو
تم بھی تو میر صاحب و قبلہ فقیر ہو
میر تقی میر