ٹیگ کے محفوظات: مشہور

پڑی آنکھ جس کوہ پر طور نکلا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 9
جہاں تیرے جلوہ سے معمور نکلا
پڑی آنکھ جس کوہ پر طور نکلا
یہ سمجھے تھے ہم ایک چرکہ ہے دل پر
دبا کر جو دیکھا تو ناسور نکلا
نہ نکلا کوئی بات کا اپنی پورا
مگر ایک نکلا تو منصور نکلا
وجود و عدم دونوں گھر پاس نکلے
نہ یہ دور نکلا نہ وہ دور نکلا
سمجھتے تھے ہم داغ گمنام ہو گا
مگر وہ تو عالم میں مشہور نکلا
داغ دہلوی

یعنی آنسو پی پی گئے سو زخم جگر ناسور ہوئے

دیوان چہارم غزل 1516
عشق چھپاکر پچھتائے ہم سوکھ گئے رنجور ہوئے
یعنی آنسو پی پی گئے سو زخم جگر ناسور ہوئے
ہم جو گئے سرمست محبت اس اوباش کے کوچے میں
کھائیں کھڑی تلواریں اس کی زخمی نشے میں چور ہوئے
کوئی نہ ہم کو جانے تھا ہم ایسے تھے گمنام آگے
یمن عشق سے رسوا ہوکر شہروں میں مشہور ہوئے
کیا باطل ناچیز یہ لونڈے قدر پر اپنی نازاں ہیں
قدرت حق کے کھیل تو دیکھو عاشق بے مقدور ہوئے
سر عاشق کا کاٹ کے ان کو سربگریباں رہنا تھا
سو تو پگڑی پھیر رکھی ہے اور بھی وے مغرور ہوئے
زرد و زبون و زار ہوئے ہیں لطف ہے کیا اس جینے کا
مردے سے بھی برسوں کے ہم ہجراں میں بے نور ہوئے
پاس ہی رہنا اکثر اس کے میر سبب تھا جینے کا
پہنچ گئے مرنے کے نزدیک اس سے جو ٹک دور ہوئے
میر تقی میر

کیوں کر کہیے بہشتی رو ہے اس خوبی سے حور نہیں

دیوان چہارم غزل 1465
کس سے مشابہ کیجے اس کو ماہ میں ویسا نور نہیں
کیوں کر کہیے بہشتی رو ہے اس خوبی سے حور نہیں
شعر ہمارے عالم کے ہر چار طرف کیا دوڑے ہیں
کس وادی آبادی میں یہ حرف و سخن مشہور نہیں
ہم دیکھیں تو دیکھیں اسے پھر پردہ بہتر ہے یعنی
اور کریں نظارہ اس کا ہم کو یہ منظور نہیں
عزت اپنی تہی دستی میں رکھ لی خدا نے ہزاروں شکر
قدر ہے دست قدرت سے یاں حیف ہمیں مقدور نہیں
راہ دور عدم سے آئے بستی جان کے دنیا میں
سویاں گھر اوجڑ ہیں سارے اک منزل معمور نہیں
عشق و جنوں سے اگرچہ تن پر ضعف و نحافت ہے لیکن
وحشت گو ہو عرصۂ محشر مجنوں سے رنجور نہیں
ہجراں میں بھی برسوں ہم نے میر کیا ہے پاس وفا
اب جو کبھو ٹک پاس بلا لے ہم کو وہ تو دور نہیں
میر تقی میر

جوانی دوانی ہے مشہور ہے

دیوان دوم غزل 1035
جنوں کا عبث میرے مذکور ہے
جوانی دوانی ہے مشہور ہے
کہو چشم خوں بار کو چشم تم
خدا جانے کب کا یہ ناسور ہے
فلک پر جو مہ ہے تو روشن ہے یہ
کہ منھ سے ترے نسبت دور ہے
گدا شاہ دونوں ہیں دل باختہ
عجب عشق بازی کا دستور ہے
قیامت ہے ہو گا جو رفع حجاب
نہ بے مصلحت یار مستور ہے
ہم اب ناتوانوں کو مرنا ہے صرف
نہیں وہ کہ جینا بھی منظور ہے
ستم میں ہماری قسم ہے تمھیں
کرو صرف جتنا کہ مقدور ہے
نیاز اپنا جس مرتبے میں ہے یاں
اسی مرتبے میں وہ مغرور ہے
ہوا حال بندے کا گو کچھ خراب
خدائی ابھی اس کی معمور ہے
گیا شاید اس شمع رو کا خیال
کہ اب میر کے منھ پہ کچھ نور ہے
میر تقی میر

پاس جاتا ہوں تو کہتا ہے کہ بیٹھو دور ٹک

دیوان دوم غزل 839
عزت اپنی اب نہیں ہے یار کو منظور ٹک
پاس جاتا ہوں تو کہتا ہے کہ بیٹھو دور ٹک
حال میرا شہر میں کہتے رہیں گے لوگ دیر
اس فسانے کے تئیں ہونے تو دو مشہور ٹک
پشت پا مارے ہیں شاہی پر گداے کوے عشق
دیکھو تم یاں کا خدا کے واسطے دستور ٹک
چاہنے کا مجھ سے بے قدرت کا کیا ہے اعتبار
عشق کرنے کو کسو کے چاہیے مقدور ٹک
حق تو سب کچھ تھا ہی ناحق جان دی کس واسطے
حوصلے سے بات کرتا کاشکے منصور ٹک
منکرحسن بتاں کیونکر نہ ہووے شیخ شہر
حق ہے اس کی اور وہ آنکھوں سے ہے معذور ٹک
پھر کہیں کیا دل لگایا میر جو ہے زرد رو
منھ پر آیا تھا ترے دو چار دن سے نور ٹک
میر تقی میر

بے طاقتی دل کو بھی مقدور ہوا ہے

دیوان اول غزل 598
تن ہجر میں اس یار کے رنجور ہوا ہے
بے طاقتی دل کو بھی مقدور ہوا ہے
پہنچا نہیں کیا سمع مبارک میں مرا حال
یہ قصہ تو اس شہر میں مشہور ہوا ہے
بے خوابی تری آنکھوں پہ دیکھوں ہوں مگر رات
افسانہ مرے حال کا مذکور ہوا ہے
کل صبح ہی مستی میں سرراہ نہ آیا
یاں آج مرا شیشۂ دل چور ہوا ہے
کیا سوجھے اسے جس کے ہو یوسف ہی نظر میں
یعقوب بجا آنکھوں سے معذور ہوا ہے
پر شور سے ہے عشق مغنی پسراں کے
یہ کاسۂ سر کاسۂ طنبور ہوا ہے
تلوار لیے پھرنا تو اب اس کا سنا میں
نزدیک مرے کب کا یہ سر دور ہوا ہے
خورشید کی محشر میں طپش ہو گی کہاں تک
کیا ساتھ مرے داغوں کے محشور ہوا ہے
اے رشک سحر بزم میں لے منھ پہ نقاب اب
اک شمع کا چہرہ ہے سو بے نور ہوا ہے
اس شوق کو ٹک دیکھ کہ چشم نگراں ہے
جو زخم جگر کا مرے ناسور ہوا ہے
میر تقی میر

آنکھیں نہ کھولوں تجھ بن مقدور ہے تو یہ ہے

دیوان اول غزل 577
دیکھا کروں تجھی کو منظور ہے تو یہ ہے
آنکھیں نہ کھولوں تجھ بن مقدور ہے تو یہ ہے
نزدیک تجھ سے سب ہے کیا قتل کیا جلانا
ہم غمزدوں سے ملنا اک دور ہے تو یہ ہے
رونے میں دن کٹیں ہیں آہ و فغاں سے راتیں
گر شغل ہے تو یہ ہے مذکور ہے تو یہ ہے
چاک جگر کو میرے برجا ہے جو کہو تم
گر زخم ہے تو یہ ہے ناسور ہے تو یہ ہے
اٹھتے ہی صبح کے تیں عاشق کو قتل کرنا
خوباں کی سلطنت میں دستور ہے تو یہ ہے
کہتا ہے کوئی عاشق کوئی کہے ہے خبطی
دنیا سے بھی نرالا رنجور ہے تو یہ ہے
کیا جانوں کیا کسل ہے واقع میں میر کے تیں
دو چار روز سے جو مشہور ہے تو یہ ہے
میر تقی میر

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

دیوان اول غزل 545
کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے
زمیں سخت ہے آسماں دور ہے
جرس راہ میں جملہ تن شور ہے
مگر قافلے سے کوئی دور ہے
تمناے دل کے لیے جان دی
سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے
نہ ہو کس طرح فکر انجام کار
بھروسا ہے جس پر سو مغرور ہے
پلک کی سیاہی میں ہے وہ نگاہ
کسو کا مگر خون منظور ہے
دل اپنا نہایت ہے نازک مزاج
گرا گر یہ شیشہ تو پھر چور ہے
کہیں جو تسلی ہوا ہو یہ دل
وہی بے قراری بدستور ہے
نہ دیکھا کہ لوہو تھنبا ہو کبھو
مگر چشم خونبار ناسور ہے
تنک گرم تو سنگ ریزے کو دیکھ
نہاں اس میں بھی شعلۂ طور ہے
بہت سعی کریے تو مر رہیے میر
بس اپنا تو اتنا ہی مقدور ہے
میر تقی میر

ویسا ہے پھول فرض کیا حور کیوں نہ ہو

دیوان اول غزل 398
ایسا ہے ماہ گو کہ وہ سب نور کیوں نہ ہو
ویسا ہے پھول فرض کیا حور کیوں نہ ہو
کھویا ہمارے ہاتھ سے آئینے نے اسے
ایسا جو پاوے آپ کو مغرور کیوں نہ ہو
حق برطرف ہے منکر دیدار یار کے
جو شخص ہووے آنکھوں سے معذور کیوں نہ ہو
گیسوے مشک بو کو اسے ضد ہے کھولنا
پھر زخم دل فگاروں کا ناسور کیوں نہ ہو
صورت تو تیری صفحۂ خاطر پہ نقش ہے
ظاہر میں اب ہزار تو مستور کیوں نہ ہو
صافی شست سے ہے غرض مشق تیر سے
سینہ کسو کا خانۂ زنبور کیوں نہ ہو
مجنوں جو دشت گرد تھا ہم شہر گرد ہیں
آوارگی ہماری بھی مذکور کیوں نہ ہو
تلوار کھینچتا ہے وہ اکثر نشے کے بیچ
زخمی جو اس کے ہاتھ کا ہو چور کیوں نہ ہو
خالی نہیں بغل کوئی دیوان سے مرے
افسانہ عشق کا ہے یہ مشہور کیوں نہ ہو
مجھ کو تو یہ قبول ہوا عشق میں کہ میر
پاس اس کے جب گیا تو کہا دور کیوں نہ ہو
میر تقی میر

افسانۂ محبت مشہور ہے ہمارا

دیوان اول غزل 69
گلیوں میں اب تلک تو مذکور ہے ہمارا
افسانۂ محبت مشہور ہے ہمارا
مقصود کو تو دیکھیں کب تک پہنچتے ہیں ہم
بالفعل اب ارادہ تا گور ہے ہمارا
کیا آرزو تھی جس سے سب چشم ہو گئے ہیں
ہر زخم سو جگہ سے ناسور ہے ہمارا
تیں آہ عشق بازی چوپڑ عجب بچھائی
کچی پڑیں ہیں نردیں گھر دور ہے ہمارا
تاچند پشت پا پر شرم و حیا سے آنکھیں
احوال کچھ بھی تم کو منظور ہے ہمارا
بے طاقتی کریں تو تم بھی معاف رکھیو
کیا کیجیے کہ دل بھی مجبور ہے ہمارا
ہیں مشت خاک لیکن جو کچھ ہیں میر ہم ہیں
مقدور سے زیادہ مقدور ہے ہمارا
میر تقی میر

گل اک چمن میں دیدئہ بے نور ہو گیا

دیوان اول غزل 18
آگے جمال یار کے معذور ہو گیا
گل اک چمن میں دیدئہ بے نور ہو گیا
اک چشم منتظر ہے کہ دیکھے ہے کب سے راہ
جوں زخم تیری دوری میں ناسور ہو گیا
قسمت تو دیکھ شیخ کو جب لہر آئی تب
دروازہ شیرہ خانے کا معمور ہو گیا
پہنچا قریب مرگ کے وہ صید ناقبول
جو تیری صیدگاہ سے ٹک دور ہو گیا
دیکھا یہ ناونوش کہ نیش فراق سے
سینہ تمام خانۂ زنبور ہو گیا
اس ماہ چاردہ کا چھپے عشق کیونکے آہ
اب تو تمام شہر میں مشہور ہو گیا
شاید کسو کے دل کو لگی اس گلی میں چوٹ
میری بغل میں شیشۂ دل چور ہو گیا
لاشہ مرا تسلی نہ زیر زمیں ہوا
جب تک نہ آن کر وہ سر گور ہو گیا
دیکھا جو میں نے یار تو وہ میر ہی نہیں
تیرے غم فراق میں رنجور ہو گیا
میر تقی میر

اور پورا دیکھنے سے آنکھ بھی معذور تھی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 52
کچھ تو سائے کے دھوئیں میں روشنی مستور تھی
اور پورا دیکھنے سے آنکھ بھی معذور تھی
رفتہ و آئندہ اس میں متصّل آئے نظر
ہر گھڑی جیسے میری تاریخ کا منشور تھی
شام کی ڈھلوان سے اُسکو اترتے دیکھئے
وُہ جو دن میں روشنی کے نام سے مشہور تھی
خیر ہو خوابوں سرابوں کی کہ اُس کو پا لیا
بعد میں جانا کہ منزل تو ابھی کچھ دور تھی
روز و شب کی گردشوں کے ساتھ پیہم گھومنا
زندگی ایسی مسافت کی تھکن سے چور تھی
لو فرازِ دار پر اپنی گواہی دے چلے
ہم بجا لائے اُسے جو سنّت منصور تھی
آفتاب اقبال شمیم

دل سے ہمیں فرزانہ جانے دیوانہ مشہور کرے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 266
ہم نے اسے محبوب کیا یہ سوچ کے جی میں غرور کرے
دل سے ہمیں فرزانہ جانے دیوانہ مشہور کرے
اس کا نام ہی انتم سر ہے مری صدا کے سرگم کا
اس کے آگے سناٹا ہے کوئی اگر مجبور کرے
حرف میں اپنے جانِ سخن نے دونوں مطلب رکھے ہیں
جب چاہے افسردہ کردے‘ جب چاہے مسرور کرے
کیا کیا طور اسے آتے ہیں دل کو شکیبا رکھنے کے
لغزش پہ ناراض نہ ہو اور خواہش نا منظور کرے
شب کو جو محوِ خوابِ گراں ہو گل ہوں ستارہ چاند چراغ
صبح کو جب وہ جامہ چساں ہو جگ میں نور ظہور کرے
ہم کو تو دلبر خوب ملا خیر اپنی اپنی قسمت ہے
پھر بھی جو کوئی رنج اُٹھانا چاہے عشق ضرور کرے
عرفان صدیقی