ٹیگ کے محفوظات: مشکل

گھر سے بے گھر بھی ہوئے اور نہ ملی منزل بھی

بحر پُر شور ہے نزدیک نہیں ساحل بھی
گھر سے بے گھر بھی ہوئے اور نہ ملی منزل بھی
ہم ابھی کچھ نہیں کہتے کہ جدائی ہے نئی
بھول جانا تجھے آسان بھی ہے مشکل بھی
اُس کی رحمت پہ بھروسا تو بجا ہے لیکن
یہ نہ بھولو کہ وہ قہار بھی ہے عادل بھی
باصر کاظمی

ماں! ترا لاڈلا ہے مشکل میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
گھِر گیا ہے سیاستِ دل میں
ماں! ترا لاڈلا ہے مشکل میں
عمر گزری تلاش کرتے ہوئے
روشنی آنسوؤں کی جھلمل میں
اپنا عکسِ نصیب دیکھ لیا
چمپئی گال پر سجے تِل میں
ڈنک مارا تحفّظِ جاں کو
سانپ بزدل تھا گُھس گیا بِل میں
ہم نے ظالم سے یوں کہی دل کی
چھید جیسے کرے کوئی سِل میں
جانے ماجد کن آنسوؤں سے لگا
اک کٹاؤ سا جسم کی گِل میں
ماجد صدیقی

کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 119
لحد والے امیدِ فاتحہ اور تجھ کو قاتل سے
کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے
یہ تم نے کیا کہا مجھپر زمانہ ہے فدا دل سے
ہزاروں میں وفا والا ملا کرتا ہے دل سے
نہ تھے جب آپ تو یہ حال تھا بیتابیِ دل سے
کبھی جاتا تھا محفل میں کبھی آتا تھا محفل سے
نگاہیں ان کو دیکھیں دیکھ کر یہ کہہ دیا دل سے
جو تو بیٹھا تو فتنے سینکڑوں اٹھیں گے محفل سے
دلوں میں آگئے جب فرق تو جاتے نہیں دل سے
کہ یہ ٹوٹے ہوئے شیشے جڑا کرتے ہیں مشکل سے
چمن مل جائے گا اہلِ چمن مل جائیں گے چھٹ کر
مگر تنکے نشیمن کے ملیں گے مجھ کو مشکل سے
ہماری کچھ نہ پوچھو ہم بری تقدیر والے ہیں
کہ جیتے ہیں تو مشکل سے جو مرتے ہیں تو مشکل سے
بگولا جب اٹھا میں راہ گم کردہ یہی سمجھا
کوئی رستہ بتانے آرہا ہے مجھ کو منزل سے
خموشی پر یہ حالت ہے خدا معلوم کیا کرتا
کوئی آواز آ جاتی اگر مجنوں کو محمل سے
صدا سن کر نہ طوفاں میں کسی نے دستگیری کی
کھڑے دیکھا کیے سب ڈوبنے والے کو ساحل سے
نہ ہو بیزار مجھ سے یکھ لینا ورنہ اے دنیا
نہ آؤں گا کبھی ایسا اٹھوں گا تیری محفل سے
قمر کے سامنے شب بھر سنوارو شوق سے گیسو
وہ آئینہ نہیں ہے کہ ہٹ جائے مقابل سے
قمر جلالوی

قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 102
غلط ہے شیخ کی ضد ساقی محفل سے ٹوٹے گی
قسم کھائی ہوئی توبہ بڑی مشکل سے ٹوٹے گی
تمھیں رستے میں رہبر چھوڑ دیں گے قافلے والو
اگر ہمت تمھاری دوریِ منزل سے ٹوٹے گی
جو یہ کار نمایاں تو میری سخت جانی کا
بھلا تلوار زورِ بازوئے قاتل سے ٹوٹے گی
نگاہِ قیس ٹکراتی رہے سارباں کب تک
یہ بندش بھی کسی دن پردۂ محمل سے ٹوٹے گی
غرورِ نا خدائی سامنے آ جائے گا اک دن
یہ کشتی یک بہ یک ٹکرا کے جب ساحل سے ٹوٹے گی
قمر اختر شماری کے لئے تیار ہو جاؤ
کہ اب رسمِ محبت اس مہِ کامل سے ٹوٹے گی
قمر جلالوی

جاؤ بس اب مل چکے کشتی سے تم ساحل سے ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 54
چھوٹ سکتے ہیں نہیں طوفاں کی شکل سے ہم
جاؤ بس اب مل چکے کشتی سے تم ساحل سے ہم
جا رہے ہیں راہ میں کہتے ہوئے یوں دل سے ہم
تو نہ رہ جانا کہیں اٹھیں اگر محفل سے ہم
وہ سبق آئیں ہیں لے کر اضطرابِ دل سے ہم
یاد رکھیں گے کہ اٹھتے تھے تری محفل سے ہم
اب نہ آوازِ جرس ہے اور نہ گردِ کارواں
یا تو منزل رہ گئی یا رہ گئے منزل سے ہم
روکتا تھا نا خدا کشتی کہ طوفاں آگیا
تم جہاں پر ہو بس اتنی دور تھے ساحل سے ہم
شکریہ اے قمر تک پہنچانے والو شکریہ
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم
لاکھ کوشش کی مگر پھر بھی نکل کر ہی رہے
گھر سے یوسفؑ خلد سے آدمؑ تری محفل سے ہم
ڈب جانے کی خبر لائی تھیں موجیں تم نہ تھے
یہ گوآ ہی بھی دلا دیں گے لبِ ساحل سے ہم
شام کی باتیں سحر تک خواب میں دیکھا کیے
جیسے سچ مچ اٹھ رہے ہیں آپ کی محفل سے ہم
کیسی دریا کی شکایت کیسا طوفاں گلہ
اپنی کشتی آپ لے کر آئے تھے ساحل سے ہم
جور میں رازِ کرم طرزِ کرم میں رازِ جور
آپ کی نظروں کو سمجھے ہیں بڑی مشکل سے ہم
وہ نہیں تو اے قمر ان کی نشانی ہی سہی
داغِ فرقت کو لگائے پھر رہے ہیں دل سے ہم
قمر جلالوی

راہبر تو لوٹ لے شکوہ کریں منزل سے ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 53
متفق کیونکر ہوں ایسے مشورے پر دل سے ہم
راہبر تو لوٹ لے شکوہ کریں منزل سے ہم
راہبر کا ہو بھلا پہلے ہی گھر لٹو دئیے
لوٹ کر جائیں تو جائیں بھی کہاں منزل سے ہم
شمع گل کر دینے والے ہو گئی روشن یہ بات
ٹھوکریں کھاتے ہوئے نکلیں تری محفل سے ہم
ہم کو دریا برد کرنے والے وہ دن یاد کر
تجھ کو طوفاں میں بچانے آئے تھے ساحل سے ہم
یہ نہیں کہتے کہ دولت رات میں لٹ جائے گی
ہم پہ احساں ہے کہ سوتے ہیں بڑی مشکل سے ہم
ہی نہ کہئیے غم ہوا کشتی کا یوں فرمائیے
اک تماشہ تھا جسے دیکھا کیے ساحل سے ہم
اب تو قتلِ عام اس صورت سے روکا جائے گا
بڑھ کے خنجر چھین کیں گے پنجۂ قاتل سے ہم
رسمِ حسن و عشق میں ہوتی ہیں کیا پابندیاں
آپ پوچھیں شمع سے پروانۂ محفل سے ہم
کس خطا پر خوں کیئے اے مالکِ روزِ جزا
تو اگر کہہ دے تو اتنا پوچھ لیں قاتل سے ہم
موجِ طوفاں سے بچا لانے پہ اتنا خوش نہ ہو
اور اگر اے ناخدا ٹکرا گئے ساحل سے ہم
نام تو اپنا چھپا سکتے ہیں لیکن کیا کریں
اے قمر مجبور ہو جاتے ہیں داغِ دل سے ہم
قمر جلالوی

بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 278
سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے
بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے
دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با ایں ہمہ
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
بس ہجومِ نا امیدی خاک میں مل جائے گی
یہ جو اک لذّت ہماری سعئِ بے حاصل میں ہے
رنجِ رہ کیوں کھینچیے؟ واماندگی کو عشق ہے
اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے
جلوہ زارِ آتشِ دوزخ ہمارا دل سہی
فتنۂ شورِ قیامت کس کی آب و گِل میں ہے
ہے دلِ شوریدۂ غالب طلسمِ پیچ و تاب
رحم کر اپنی تمنّا پر کہ کس مشکل میں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 262
ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہے
کہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے
رفوئے زخم سے مطلب ہے لذّت زخمِ سوزن کی
سمجھیو مت کہ پاسِ درد سے دیوانہ غافل ہے
وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالب
چٹکنا غنچۂ گل کا صدائے خندۂ دل ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 106
شمار سبحہ،” مرغوبِ بتِ مشکل” پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا
بہ فیضِ بے دلی، نومیدئ جاوید آساں ہے
کشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا
ہوائے سیرِگل، آئینۂ بے مہرئ قاتل
کہ اندازِ بخوں غلطیدن @ بسمل پسند آیا
اصل نسخۂ نظامی میں ’غلتیدن‘ ہے جو سہوِ کتابت ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

یوں بے دم ہے اب پہلو میں جوں صید بسمل ہے دل

دیوان چہارم غزل 1425
عشق کی چوٹیں پے درپے جو اٹھائی گئیں گھائل ہے دل
یوں بے دم ہے اب پہلو میں جوں صید بسمل ہے دل
خون ہوا ہے چاک ہوا ہے جلتے جلتے داغ ہوا
خواہش اس کو کیا ہے بارے کس کے لیے بیدل ہے دل
عشق کی بجلی آ کے گری سو داغ ہوا ہے سر تا سر
کیا رووے جوں ابر کوئی اس مزرع کا حاصل ہے دل
یوں تو گرہ سینے میں ہمارے درد و غم کی ہوکے رہا
کس سے ظاہر کرتے جاکر کام بہت مشکل ہے دل
آنکھوں کی دیکھا دیکھی ہرگز دل کو اس سے نہ لگنا تھا
جیسی سزا پہنچاوے کوئی اب اس کے قابل ہے دل
عمر انساں راہ تو ہے تشویش سے طے ہوتی ہے ولے
دل کے تئیں پہنچے جو کوئی چین کی پھر منزل ہے دل
شہد لب سے اس کے چپکا جی کا صرفہ کچھ نہ کیا
میر جو دیکھا اپنے حق میں کیا زہر قاتل ہے دل
میر تقی میر

ایسے ناداں دلربا کے ملنے کا حاصل ہے کیا

دیوان سوم غزل 1059
دل اگر کہتا ہوں تو کہتا ہے وہ یہ دل ہے کیا
ایسے ناداں دلربا کے ملنے کا حاصل ہے کیا
جاننا باطل کسو کو یہ قصور فہم ہے
حق اگر سمجھے تو سب کچھ حق ہے یاں باطل ہے کیا
یاں کوئی دن رات وقفہ کرکے قصد آگے کا کر
کارواں گاہ جہان رفتنی منزل ہے کیا
تک رہے ہیں اس کو سو ہم تک رہے ہیں ایک سے
دیدئہ حیراں ہمارا دیدئہ بسمل ہے کیا
وہ حقیقت ایک ہی ساری نہیں ہے سب میں تو
آب سا ہر رنگ میں یہ اور کچھ شامل ہے کیا
چوٹ میرے دل میں ایسی ہے کہ ہوں میں دم بخود
وہ کشندہ یوں ہی کہتا ہے کہ تو گھائل ہے کیا
کہتے ہیں ظاہر ہے اک ہی لیلی ہفت اقلیم میں
اس عبارت کا نہیں معلوم کچھ محمل ہے کیا
ہم تو سو سو بار مر رہتے ہیں ایک ایک آن میں
عشق میں اس کے گذرنا جان سے مشکل ہے کیا
شاخ پر گل یا نہال اودھر جھکے جاتے ہیں سب
قامت دلکش کا اس کی سرو ہی مائل ہے کیا
مرثیہ میرے بھی دل کا رقت آور ہے بلا
محتشمؔ کو میر میں کیا جانوں اور مقبلؔ ہے کیا
میر تقی میر

یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں

دیوان دوم غزل 904
کیا عبث مجنوں پئے محمل ہے میاں
یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں
قند کا کون اس قدر مائل ہے میاں
جو ہے ان ہونٹوں ہی کا قائل ہے میاں
ہم نے یہ مانا کہ واعظ ہے ملک
آدمی ہونا بہت مشکل ہے میاں
چشم تر کی خیر جاری ہے سدا
سیل اس دروازے کا سائل ہے میاں
مرنے کے پیچھے تو راحت سچ ہے لیک
بیچ میں یہ واقعہ حائل ہے میاں
دل کی پامالی ستم ہے قہر ہے
کوئی یوں دلتا ہے آخر دل ہے میاں
آج کیا فرداے محشر کا ہراس
صبح دیکھیں کیا ہو شب حامل ہے میاں
دل تڑپتا ہی نہیں کیا جانیے
کس شکار انداز کا بسمل ہے میاں
چاہیے پیش از نماز آنکھیں کھلیں
حیف اس کا وقت جو غافل ہے میاں
رنگ بے رنگی جدا تو ہے ولے
آب سا ہر رنگ میں شامل ہے میاں
سامنے سے ٹک ٹلے تو دق نہ ہو
آسماں چھاتی پر اپنی سل ہے میاں
دل لگی اتنی جہاں میں کس لیے
رہگذر ہے یہ تو کیا منزل ہے میاں
بے تہی دریاے ہستی کی نہ پوچھ
یاں سے واں تک سو جگہ ساحل ہے میاں
چشم حق بیں سے کرو ٹک تم نظر
دیکھتے جو کچھ ہو سب باطل ہے میاں
دردمندی ہی تو ہے جو کچھ کہ ہے
حق میں عاشق کے دوا قاتل ہے میاں
برسوں ہم روتے پھرے ہیں ابر سے
زانو زانو اس گلی میں گل ہے میاں
کہنہ سالی میں ہے جیسے خورد سال
کیا فلک پیری میں بھی جاہل ہے میاں
کیا دل مجروح و محزوں کا گلہ
ایک غمگیں دوسرے گھائل ہے میاں
دیکھ کر سبزہ ہی خرم دل کو رکھ
مزرع دنیا کا یہ حاصل ہے میاں
مستعدوں پر سخن ہے آج کل
شعر اپنا فن سو کس قابل ہے میاں
کی زیارت میر کی ہم نے بھی کل
لاابالی سا ہے پر کامل ہے میاں
میر تقی میر

گذرنا جان سے آساں بہت مشکل ہے کیا جانے

دیوان اول غزل 592
مرے اس رک کے مرجانے سے وہ غافل ہے کیا جانے
گذرنا جان سے آساں بہت مشکل ہے کیا جانے
کوئی سر سنگ سے مارو کسی کا واپسیں دم ہو
وہ آئینے میں اپنے ناز پر مائل ہے کیا جانے
نظر مطلق نہیں ہجراں میں اس کو حال پر میرے
مرا دل اس کے غم میں گویا اس کا دل ہے کیا جانے
جنونی خبطی دیوانہ سڑا کوئی عشق کو سمجھے
فلاطوں سے نہیں یاں بحث وہ عاقل ہے کیا جانے
تڑپنا نقش پاے ناقہ پر جانے ہے اک مجنوں
بیاباں میں وہ لیلیٰ کا کدھر محمل ہے کیا جانے
پڑھایا اس کو بہتیرا کہ مت لا راز دل منھ پر
پہ طفل اشک کو دیکھا تو ناقابل ہے کیا جانے
طرف ہونا مرا مشکل ہے میر اس شعر کے فن میں
یوہیں سوداؔ کبھو ہوتا ہے سو جاہل ہے کیا جانے
میر تقی میر

سفر رستہ رہے گا بس، کبھی منزل نہیں ہو گا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 73
تمہیں یہ پاؤں سہلانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا
سفر رستہ رہے گا بس، کبھی منزل نہیں ہو گا
مجھے لگتا ہے میری آخری حد آنے والی ہے
جہاں آنکھیں نہیں ہوں گی دھڑکتا دل نہیں ہو گا
محبت کے سفر میں تیرے وحشی کو عجب ضد ہے
وہاں کشتی سے اترے گا جہاں ساحل نہیں ہو گا
مری جاں ویری سوری اب کبھی چشمِ تمنا سے
یہ اظہارِ محبت بھی سرِ محفل نہیں ہو گا
سکوتِ دشت میں کچھ اجنبی سے نقشِ پا ہوں گے
کوئی ناقہ نہیں ہو گا کہیں محمل نہیں ہو گا
ذرا تکلیف تو ہو گی مگر اے جانِ تنہائی
تجھے دل سے بھلا دینا بہت مشکل نہیں ہو گا
یہی لگتا ہے بس وہ شورشِ دل کا سبب منصور
کبھی ہنگامہء تخلیق میں شامل نہیں ہو گا
منصور آفاق

قدم کوئی کہاں رکھے؟ جدھر دیکھو اُدھر دل ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 46
وہ کہتے ہیں، نکلنا اب تو دروازے پہ مشکل ہے
قدم کوئی کہاں رکھے؟ جدھر دیکھو اُدھر دل ہے
کہیں ایسا نہ ہو تجھ پر بھی کوئی وار چل جائے
قضا ہٹ جا کہ جھنجھلایا ہوا اِس وقت قاتل ہے
طنابیں کھینچ دے یارب، زمینِ کوئے جاناں کی
کہ میں ہوں ناتواں، اور دن ہے آخر، دور منزل ہے
مرے سینے پہ رکھ کر ہاتھ کہتا ہے وہ شوخی سے
یہی دل ہے جو زخمی ہے، یہی دل ہے جو بسمل ہے
نقاب اُٹھی تو کیا حاصل؟ حیا اُٹھے تو آنکھ اُٹھے
بڑا گہرا تو یہ پردہ ہمارے اُنکے حائل ہے
الہٰی بھیج دے تربت میں کوئی حور جنت سے
کہ پہلی رات ہے، پہلا سفر ہے، پہلی منزل ہے
جدھر دیکھو اُدھر سوتا ہے کوئی پاؤں پھیلائے
زمانے سے الگ گورِ غریباں کی بھی محفل ہے
عجب کیا گر اُٹھا کر سختیِ فرقت ہوا ٹکڑے
کوئ لوہا نہیں، پتھر نہیں، انسان کا دل ہے
سخی کا دل ہے ٹھنڈا گرمیِ روزِ قیامت میں
کہ سر پر چھَترِ رحمت سایۂ دامانِ سائل ہے
امیرِ خستہ جاں کی مشکلیں آساں ہوں یارب
تجھے ہر بات آساں ہے اُسے ہر بات مشکل ہے
امیر مینائی

کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 3
ان شوخ حسینوں پہ بھی مائل نہیں ہوتا
کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا
کچھ وصل کے وعدے سے بھی حاصل نہیں ہوتا
خوش اب تو خوشی سے بھی میرا دل نہیں ہوتا
گردن تن بسمل سے جدا ہو گئی کب سے
گردن سے جدا خنجر قاتل نہیں ہوتا
دنیا میں پری زاد دئیے خلد میں حوریں
بندوں سے وہ اپنے کبھی غافل نہیں ہوتا
دل مجھ سے لیا ہے تو ذرا بولیے ہنسئے
چٹکی میں مسلنے کے لئے دل نہیں ہوتا
عاشق کے بہل جانے سے کو اتنا بھی ہے کافی
غم دل کا تو ہوتا ہے اگر دل نہیں ہوتا
فریاد کروں دل کے ستانے کی اسی سے
راضی مگر اس پر بھی مرا دل نہیں ہوتا
مرنے کے بتوں پر یہ ہوئی مشق کہ مرنا
سب کہتے ہیں مشکل، مجھے مشکل نہیں ہوتا
جس بزم میں وہ رخ سے اٹھا دیتے ہیں پردہ
پروانہ وہاں شمع پہ مائل نہیں ہوتا
کہتے ہیں کہ دل کے تڑپتے ہیں جو عاشق
ہوتا ہے کہاں درد اگر دل نہیں ہوتا
یہ شعر وہ فن ہے کہ امیر اس کو جو برتو
حاصل یہی ہوتا ہے کہ حاصل نہیں ہوتا
آتا ہے جو کچھ منہ میں وہ کہہ جاتا ہے واعظ
اور اُس پہ یہ طرّہ ہے کہ قائل نہیں ہوتا
جب درد محبت میں یہ لذّت ہے تو یارب
ہر عضو میں، ہر جوڑ میں، کیوں دل نہیں ہوتا
دیوانہ ہے، دنیا میں جو دیوانہ نہیں ہے
عاقل وہی ہوتا ہے جو عاقل نہیں ہوتا
تم کو تو میں کہتا نہیں کچھ، حضرتِ ناصح
پر جس کو ہو تک ایسی وہ عاقل نہیں ہوتا
امیر مینائی

یرے دشمن رہیں میرے دل میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 112
کیا ہے اس اجڑی ہوئی منزل میں
میرے دشمن رہیں میرے دل میں
وہم آنے لگے کیا کیا دل میں
رک گیا قافلہ کس منزل میں
سوچتا کچھ ہے تو کرتا کچھ ہے
آدمی ہوتا ہے جب مشکل میں
موج جو آتی ہے لٹ جاتی ہے
کون سی بات نہیں ساحل میں
جانے کیا دل کو ہوا ہے باقیؔ
جی نہیں لگتا کسی محفل میں
باقی صدیقی