ٹیگ کے محفوظات: مسکرانے

میں خود ہی فلک کا ستایا ہوا ہوں مجھے تم ستانے کی کوشش نہ کرنا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 11
خدا تم کو توفیقِ رحم و کرم دے، مرا دل دکھانے کی کوشش نہ کرنا
میں خود ہی فلک کا ستایا ہوا ہوں مجھے تم ستانے کی کوشش نہ کرنا
بہاروں کی آخر کوئی انتہا ہے کہ پھولوں سے شاخیں جھکی جا رہی ہیں
یہی وقت ہے بجلیاں ٹوٹنے کا، نشیمن بنانے کی کوشش نہ کرنا
میں حالاتِ شامِ الم کہہ رہا ہوں ذرا غیرتِ عشق ملحوظِ خاطر
تمھیں عمر بھر مجھ کو رونا پڑے گا کہیں مسکرانے کی کوشش نہ کرنا
تجھے باغباں پھر میں سمجھا رہا ہوں ہواؤں کے اور کچھ کہہ رہے ہیں
کہیں آگ پھیلے نہ سارے چمن میں مرا گھر جلانے کی کوشش نہ کرنا
دلِ مضطرب سن کہ افسانۂ غم وہ ناراض ہو کر ابھی سو گئے ہیں
جو چونکے تو اک حشر کر دیں گے برپا انھیں تو جگانے کی کوشش نہ کرنا
یہ محفل ہے بیٹھے ہیں اپنے پرائے بھلے کے لئے دیکھو سمجھا رہا ہوں
کہ حرف آئے گا آپ کی آبرو پر یہاں پر رلانے کی کوشش نہ کرنا
تمنائے دیدار رہنے دو سب کی نہیں ہے کسی میں بھی تابِ نظارہ
ابھی طور کا حادثہ ہو چکا ہے تجلی دکھانے کی کوشش نہ کرنا
عدو شب کو ملتے ہیں ہر راستے میں نتیجہ ہی کیا ان کی رسوائیاں ہوں
قمر چاندنی آج پھیلی ہوئی ہے انھیں تم بلانے کی کوشش نہ کرنا
قمر جلالوی

اڑا نہ لے کوئی انداز مسکرانے کا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 13
سبب کھلا یہ ہمیں اُن کے منہ چھپانے کا
اڑا نہ لے کوئی انداز مسکرانے کا
طریق خوب ہے یہ عمر کے بڑھانے کا
کہ منتظر رہوں‌ تا حشر اُن کے آنے کا
چڑھاؤ پھول میری قبر پر جو آئے ہو
کہ اب زمانہ گیا تیوری چڑھانے کا
جفائیں کرتے ہیں تھم تھم کے اس خیال سے وہ
گیا تو پھر یہ نہیں میرے ہاتھ آنے کا
سمائیں اپنی نگاہوں میں ایسے ویسے کیا
رقیب ہی سہی ہو آدمی ٹھکانے کا
تمہیں رقیب نے بھیجا کھلا ہوا پرچہ
نہ تھا نصیب لفافہ بھی آدھ آنے کا
داغ دہلوی

وہی جرس کی صدا پھر کہیں سے آنے لگی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 225
بساط رقص جو گردِ سفر بچھانے لگی
وہی جرس کی صدا پھر کہیں سے آنے لگی
عجیب موج ہے، دشمن کہوں کہ دوست کہوں
زمین کاٹ رہی تھی کہ گل کھلانے لگی
سدا کہیں کوئی بے آشنا نہیں رہتا
مجھے ہوائے مسافت گلے لگانے لگی
میں بے کنار سمجھنے کو تھا سمندر کو
کہ ایک شاخ سرِ آب جگمگانے لگی
دُعائے شامِ دل آزردگاں بھی کیا شے ہے
چراغ جلنے لگے‘ رات مسکرانے لگی
ابھی کھلا بھی نہ تھا رختِ شوق دلّی میں
کہ پھر ہمیں کششِ لکھنؤ بلانے لگی
عرفان صدیقی

کسی کے خون کی بو راستوں سے آنے لگی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 171
شفق کی آگ کہانی کوئی سنانے لگی
کسی کے خون کی بو راستوں سے آنے لگی
ملی ہے ایک زمانے کو روشنی جن سے
ہوائے دہر وہی مشعلیں بجھانے لگی
تھا جس خیال پہ قائم حیات کا ایواں
اسی خیال سے تلخی دلوں میں آنے لگی
سحر کے آئنے کا کوئی اعتبار نہیں
کلی تو دیکھ کے عکس اپنا مسکرانے لگی
میں اپنے دل کے بھنور سے نکل نہیں سکتا
تمہاری بات تو کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی
گلوں کے منہ میں زمانے نے آگ رکھ دی ہے
بہار اپنا ہی خوں پی کے لڑکھڑانے لگی
نسیم گزری ہے زنداں سے اس طرح باقیؔ
شکست دل کی صدا دور دور جانے لگی
باقی صدیقی

کر نہ تکلیف مسکرانے کی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 168
اب نہیں تاب زخم کھانے کی
کر نہ تکلیف مسکرانے کی
ہے خبر گرم ان کے آنے کی
کون سنتا ہے اب زمانے کی
زندگی پھر نہ راہ پر آئی
دیر تھی اک فریب کھانے کی
سب کی نظروں میں ہم کھٹکنے لگے
یہ سزا ہے مراد پانے کی
تھا زمانہ بھی مہرباں باقیؔ
جب ضرورت نہ تھی زمانے کی
باقی صدیقی