ٹیگ کے محفوظات: مسکرانا

یاد آنا کوئی ضروری تھا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 30
تھی گر آنے میں مصلحت حائل
یاد آنا کوئی ضروری تھا
دیکھیے ہو گئی غلط فہمی
مسکرانا کوئی ضروری تھا
لیجیے بات ہی نہ یاد رہی
گنگنانا کوئی ضروری تھا
گنگنا کر مری جواں غزلیں
جھوم جانا کوئی ضروری تھا
مجھ کو پا کر کسی خیال میں گم
چھپ کے آنا کوئی ضروری تھا
اف وہ زلفیں ، وہ ناگنیں ، وہ ہنسی
یوں ڈرانا کوئی ضروری تھا
اور ایسے اہم مذاق کے بعد
روٹھ جانا کوئی ضروری تھا
جون ایلیا

سب کچھ بس اک نگاہِ کرم کا بہانہ تھا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 7
کیا کہیے کیا حجابِ حیا کا فسانہ تھا!
سب کچھ بس اک نگاہِ کرم کا بہانہ تھا
دیکھا تو ہرتبسمِ لب والہانہ تھا
پرکھا تو ایک حیلۂ صنعت گرانہ تھا
دنیا، امیدِ دید کی دنیا تھی دیدنی
دیوار و در اداس تھے، موسم سہانا تھا
ہائے وہ ایک شام کہ جب مست، نَے بلب
میں جگنوؤں کے دیس میں تنہا روانہ تھا
یہ کون ادھر سے گزرا، میں سمجھا حضور تھے
اِک موڑ اور مڑ کے جو دیکھا، زمانہ تھا
اک چہرہ، اس پہ لاکھ سخن تاب رنگتیں
اے جرأتِ نگہ، تری قسمت میں کیا نہ تھا
ان آنسوؤں کی رو میں نہ تھی موتیوں کی کھیپ
ناداں سمندروں کی تہوں میں خزانہ تھا
اےغم، انیسِ دل، یہ تری دلنوازیاں
ہم کو تری خوشی کے لیے مسکرانا تھا
اک طرفہ کیفیت، نہ توجہ نہ بےرخی
میرے جنونِ دید کو یوں آزمانا تھا
ہائے وہ دھڑکنوں سے بھری ساعتیں مجید
میں ان کو دیکھتا تھا، کوئی دیکھتا نہ تھا
مجید امجد

اَب آگئے ہیں تو مقتل سے بچ کے جانا کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 72
کہیں تو لٹنا ہے پھر نقدِ جاں بچانا کیا
اَب آگئے ہیں تو مقتل سے بچ کے جانا کیا
اِن آندھیوں میں بھلا کون اِدھر سے گزرے گا
دریچے کھولنا کیسا، دیئے جلانا کیا
جو تِیر بوڑھوں کی فریاد تک نہیں سنتے
تو اُن کے سامنے بچوں کا مسکرانا کیا
میں گر گیا ہوں تو اب سینے سے اُتر آؤ
دلیر دشمنو، ٹوٹے مکاں کو ڈھانا کیا
نئی زمیں کی ہوائیں بھی جان لیوا ہیں
نہ لوٹنے کے لیے کشتیاں جلانا کیا
کنارِ آب کھڑی کھیتیاں یہ سوچتی ہیں
وہ نرم رو ہے ندی کا مگر ٹھکانا کیا
عرفان صدیقی