ٹیگ کے محفوظات: مسکرائے

پھر اپنے جھوٹ کو تکرار سے سچ کر دکھائے گا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 17
کوئی تہمت لگا کر وہ تمہیں مجرم بنائے گا
پھر اپنے جھوٹ کو تکرار سے سچ کر دکھائے گا
میاں ، اس اشتہاروں کی دکاں میں جو نہیں وہ ہے
یہ آنکھیں ہار جائیں گی، تماشا جیت جائے گا
برابر ہی چھڑا دے گی بالآخر مصلحت ہم کو
میں تجھ کو آزماؤں گا تو مجھ کو آزمائے گا
مگر رکھنی ہے اپنے حوصلے کی آبرو تو نے
مجھے معلوم ہے تو زخم کھا کر مسکرائے گا
زرِ گم نام کو پھر ڈھونڈھ کر آثارِ فردا میں
زمانہ دیر تک میرے لئے آنسو بہائے گا
آفتاب اقبال شمیم

اگر وہ سنگ نہیں ہے تو مسکرائے بھی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 226
چراغِ خانۂ افسردگاں جلائے بھی
اگر وہ سنگ نہیں ہے تو مسکرائے بھی
وہ چاند ہے تو مرے بام پر طلوع بھی ہو
ستارہ ہے تو مری شام جگمگائے بھی
وہ پھول ہے تو مری شاخِ جاں بھی مہکائے
اگر ہوا ہے تو میرے بدن تک آئے بھی
وہ شعلہ ہے تو مجھے خاک بھی کرے آخر
اگر دیا ہے تو کچھ اپنی لو بڑھائے بھی
سخن سرا ہے تو مجھ سے مکالمہ بھی کرے
گلہ سنے بھی اور اپنی غزل سنائے بھی
عرفان صدیقی

سحر جب مسکرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 426
صبا طیبہ سے آئے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
سحر جب مسکرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
قدم لینے لگے سبزہ ، شجر بھیجیں سلام اس پر
وہ گلشن میں جو آئے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
کبھی ساون کے میٹھے انتظار انگیز لمحوں میں
ہوا ہولے سے گائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
کشادہ رکھتے ہیں اتنا درِ دل ہم چمن والے
کہ سایہ سرسرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
محبت کے بلکتے چیختے بے چین موسم میں
جو بلبل گنگنائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
پہاڑی راگ کی بہتی ہوئی لے میں کہیں کوئی
ندی جب دکھ سنائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
یہ انکا رنگِ فطرت ہے ، یہ انکا ظرف ہے منصور
کہ کانٹا زخم کھائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
منصور آفاق

بہت غم کے ماروں نے پہلو بچائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 28
جو دنیا کے الزام آنے تھے، آئے
بہت غم کے ماروں نے پہلو بچائے
کسی نے تمہیں آج کیا کہہ دیا ہے
نظر آ رہے ہو پرائے پرائے
بہت واقعے پیش آئے تھے لیکن
نہ تم نے سنے کچھ نہ ہم نے سنائے
ملاقات کی کونسی ہے یہ صورت
نہ ہم مسکرائے، نہ تم مسکرائے
فسانہ سنائے چلا جا رہا ہوں
یقیں سننے والوں کو آئے نہ آئے
زمانے کی آنکھوں میں نور آ گیا ہے
کوئی اپنے دامن کے دھبے چھپائے
نہ دنیا نے تھاما نہ تو نے سنبھالا
کہاں آ کے میرے قدم ڈگمگائے
الجھتے ہیں ہر گام پر خار باقیؔ
کہاں تک کوئی اپنا دامن بچائے
باقی صدیقی