ٹیگ کے محفوظات: مسلماں

کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 84
گیسو ہیں ان کے عارضِ تاباں کے ساتھ ساتھ
کافر لگے ہوئے ہیں مسلماں کے ساتھ ساتھ
سامان خاک آیا تھا انساں کے ساتھ ساتھ
صرف ایک روح تھی تنِ عریاں کے ساتھ ساتھ
اے ناخدا وہ حکمِ خدا تھا جو بچ گئی
کشتی کو اب تو چھوڑ دے دے طوفاں کے ساتھ ساتھ
اے باغباں گلوں پہ ہی بجلی نہیں گری
ہم بھی لٹے ہیں تیرے گلستاں کے ساتھ ساتھ
جب لطف ہو جنوں تو کہیں زنداں سے لے اڑے
وہ ڈھونڈتے پھریں مجھے درباں کے ساتھ ساتھ
دو چار ٹانکے اور لگے ہاتھ بخیر گر
دامن بھی کچھ پھٹا ہے گریباں کے ساتھ ساتھ
تم میرا خوں چھپا تو رہے ہو خبر بھی ہے
دو دو فرشتے رہتے ہیں انساں کے ساتھ ساتھ
اہلِ قفس کا اور تو کچھ بس نہ چل سکا
آہیں بھریں نسیمِ گلستاں کے ساتھ ساتھ
دیوانے شاد ہیں کہ وہ آئے ہیں دیکھنے
تقدیر کھل گئے درِ زنداں کے ساتھ ساتھ
واعظ مٹے گا تجھ سے غمِ روزگار کیا
ساغر چلے گا گردشِ دوراں کے ساتھ ساتھ
اک شمع کیا کوئی شبِ فرقت نہیں قمر
تارے بھی چھپ گئے ہیں مہِ تاباں کے ساتھ ساتھ
قمر جلالوی

تھا کماں تک تیر دل میں آ کے ارماں ہو گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 34
کیا سے کیا یہ او دشمن جاں تیرا پیکاں ہو گیا
تھا کماں تک تیر دل میں آ کے ارماں ہو گیا
باغباں کیوں سست ہے غنچہ و گل کی دعا
اک مرے جانے سے کیا خالی گلستان ہو گیا
کیا خبر تھی یہ بلائیں سامنے آ جائیں گی
میری شامت مائلِ زلفِ پریشاں ہو گیا
کچھ گلوں کو ہیں نہیں میری اسیری کا الم
سوکھ کر کانٹا ہر اک خارِ گلستاں ہو گیا
ہیں یہ بت خانے میں بیٹھا کر رہا کیا قمر
ہم تو سنتے تھے تجھے ظالم مسلماں ہو گیا
قمر جلالوی

رازِ مکتوب بہ بے ربطئِ عنواں سمجھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 102
وہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا
رازِ مکتوب بہ بے ربطئِ عنواں سمجھا
یک الِف بیش نہیں صقیلِ آئینہ ہنوز
چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا
شرحِ اسبابِ گرفتارئِ خاطر مت پوچھ
اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
بدگمانی نے نہ چاہا اسے سرگرمِ خرام
رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
عجزسے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہو گا
نبضِ خس سے تپشِ شعلۂ سوزاں سمجھا
سفرِ عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
ہر قدم سائے کو میں اپنے شبستان سمجھا
تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دمِ مرگ
دفعِ پیکانِ قضا اِس قدر آساں سمجھا
دل دیا جان کے کیوں اس کو وفادار، اسدؔ
غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

اس رو کا مثل آئینہ حیراں ہوا نہ تو

دیوان چہارم غزل 1472
دل اس کے مو سے لگ کے پریشاں ہوا نہ تو
اس رو کا مثل آئینہ حیراں ہوا نہ تو
صد رنگ بحث رہتی ہے یاں ذی شعور سے
اے وائے عقلمند کہ ناداں ہوا نہ تو
نزدیک حق کے دین تو اسلام بن ہے کفر
اے برہمن دریغ مسلماں ہوا نہ تو
کتنے دنوں کہا تھا دلا ضبط نالہ کر
پھر شب کو ناشکیبی سے نالاں ہوا نہ تو
ہوتا ہے میر روے سخن آدمی کی اور
افسوس اے ستم زدہ انساں ہوا نہ تو
میر تقی میر

مجھ پہ تودہ ہوا ہے طوفاں کا

دیوان سوم غزل 1068
ہوں نشاں کیوں نہ تیر خوباں کا
مجھ پہ تودہ ہوا ہے طوفاں کا
ہاتھ زنجیر ہو جنوں میں رہا
اپنے زنجیرئہ گریباں کا
چپکے دیکھو جھمکتے وے لب سرخ
ذکر یاں کیا ہے لعل و مرجاں کا
ایک رہزن ہے اس کی کافر زلف
غم ہی رہتا ہے دین و ایماں کا
عمر آوارگی میں سب گذری
کچھ ٹھکانا نہیں دل و جاں کا
کافرستاں ہے خال و خط و زلف
وقر کیا ہے دل مسلماں کا
مر گیا میر نالہ کش بیکس
نَے نے ماتم میں اس کے منھ ڈھانکا
میر تقی میر

پہ جوش دل میں کبھو آگیا تو طوفاں ہیں

دیوان دوم غزل 898
اگرچہ اب کے ہم اے ابر خشک مژگاں ہیں
پہ جوش دل میں کبھو آگیا تو طوفاں ہیں
صنم پرستی میں اے راہباں نہ کی تقصیر
تم اہل صومعہ سے پوچھو وے مسلماں ہیں
کریں انھوں پہ بھلا کس طرح نظر گستاخ
بتان شہر ہمارے تو دین و ایماں ہیں
چمن میں جاکے بھرو تم گلوں سے جیب و کنار
ہم اپنے دل ہی کے ٹکڑوں سے گل بداماں ہیں
رہے ہیں دیکھ جو تصویر سے ترے منھ کو
ہماری آنکھ سے ظاہر ہے یہ کہ حیراں ہیں
رہا ہے کون سا پردہ ترے ستم کا شوخ
کہ زخم سینہ ہمارے سبھی نمایاں ہیں
شبیہ شکل سا ہے حال ضبط عشق کے بیچ
کہ رنگ روپ ہے سب کچھ ولیک بے جاں ہیں
بنے تو عزت عشاق میں نہ کر تقصیر
کہ ایسے لوگ پیارے عزیز مہماں ہیں
جو ابر دشت میں برسے تو ہم اڑاویں خاک
وہ میر آب ہے ہم یاں کے میر ساماں ہیں
میر تقی میر

اس قدر حال ہمارا نہ پریشاں ہوتا

دیوان دوم غزل 748
ربط دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا
اس قدر حال ہمارا نہ پریشاں ہوتا
ہاتھ دامن میں ترے مارتے جھنجھلاکے نہ ہم
اپنے جامے میں اگر آج گریباں ہوتا
میری زنجیر کی جھنکار نہ کوئی سنتا
شور مجنوں نہ اگر سلسلہ جنباں ہوتا
ہر سحر آئینہ رہتا ہے ترا منھ تکتا
دل کی تقلید نہ کرتا تو نہ حیراں ہوتا
وصل کے دن سے بدل کیونکے شب ہجراں ہو
شاید اس طور میں ایام کا نقصاں ہوتا
طور اپنے پہ جو ہم روتے تو پھر عالم میں
دیکھتے تم کہ وہی نوح کا طوفاں ہوتا
دل میں کیا کیا تھا ہمارے جو نہ ہوجاتی یاس
یہ نگر کاہے کو اس طرح سے ویراں ہوتا
خاک پا ہو کے ترے قد کا چمن میں رہتا
سرو اتنا نہ اکڑتا اگر انساں ہوتا
میر بھی دیر کے لوگوں ہی کی سی کہنے لگا
کچھ خدا لگتی بھی کہتا جو مسلماں ہوتا
میر تقی میر

میرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہوا

دیوان اول غزل 116
کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوا
میرا دل خواہ جو کچھ تھا وہ کبھو یاں نہ ہوا
جی تو ایسے کئی صدقے کیے تجھ پر لیکن
حیف یہ ہے کہ تنک تو بھی پشیماں نہ ہوا
آہ میں کب کی کہ سرمایۂ دوزخ نہ ہوئی
کون سا اشک مرا منبع طوفاں نہ ہوا
گو توجہ سے زمانے کی جہاں میں مجھ کو
جاہ و ثروت کا میسر سر و ساماں نہ ہوا
شکر صد شکر کہ میں ذلت و خواری کے سبب
کسی عنوان میں ہم چشم عزیزاں نہ ہوا
برق مت خوشے کی اور اپنی بیاں کر صحبت
شکر کر یہ کہ مرا واں دل سوزاں نہ ہوا
دل بے رحم گیا شیخ لیے زیر زمیں
مر گیا پر یہ کہن گبر مسلماں نہ ہوا
کون سی رات زمانے میں گئی جس میں میر
سینۂ چاک سے میں دست و گریباں نہ ہوا
میر تقی میر

دل کے سو ٹکڑے مرے پر سبھی نالاں یک جا

دیوان اول غزل 93
میں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جا
دل کے سو ٹکڑے مرے پر سبھی نالاں یک جا
پند گویوں نے بہت سینے کی تدبیریں لیں
آہ ثابت بھی نہ نکلا یہ گریباں یک جا
تیرا کوچہ ہے ستمگار وہ کافر جاگہ
کہ جہاں مارے گئے کتنے مسلماں یک جا
سر سے باندھا ہے کفن عشق میں تیرے یعنی
جمع ہم نے بھی کیا ہے سر و ساماں یک جا
کیونکے پڑتے ہیں ترے پائوں نسیم سحری
اس کے کوچے میں ہے صد گنج شہیداں یک جا
تو بھی رونے کو ملا دل ہے ہمارا بھی بھرا
ہوجے اے ابر بیابان میں گریاں یک جا
بیٹھ کر میر جہاں خوب نہ رویا ہووے
ایسی کوچے میں نہیں ہے ترے جاناں یک جا
میر تقی میر

اب تو ویرانہ بھی ویراں نہیں کرنے دیتے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 22
بے بسی کا کوئی درماں نہیں کرنے دیتے
اب تو ویرانہ بھی ویراں نہیں کرنے دیتے
دل کو صد لخت کیا سینے کو صد پارہ کیا
اور ہمیں چاک گریباں نہیں کرنے دیتے
ان کو اسلام کے لٹ جانے کا ڈر اتنا ہے
اب وہ کافر کو مسلماں نہیں کرنے دیتے
دل میں وہ آگ فروزاں ہے عدو جس کا بیاں
کوئی مضموں کسی عنواں نہیں کرنے دیتے
جان باقی ہے تو کرنے کو بہت باقی ہے
اب وہ جو کچھ کہ مری جاں نہیں کرنے دیتے
فیض احمد فیض

بن آئیگی نہ درد کا درماں کئے بغیر

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 15
گوہ شفا سے یاس پہ جب تک ہے دم میں دم
بن آئیگی نہ درد کا درماں کئے بغیر
بگڑی ہوئی بہت ہے کچھ اسباغ کی ہوا
یہ باغ کو رہے گی نہ ویراں کئے بغیر
مشکل بہت ہے گو کہ مٹانا سلف کا نام
مشکل کو ہم ٹلیں گے نہ آساں کئے بغیر
گو مے ہ تندو تلخ پہ ساقی ہے دلربا
اے شیخ بن پڑے گی نہ کچھ ہاں کئے بغیر
تکفیر جو کہ کرتے ہیں ابنائے وقت کی
چھوڑے گا وقت انہیں نہ مسلماں کئے بغیر
الطاف حسین حالی